کراچی: سندھ میں منشیات بحالی مراکز میں بھاری فیسیں وصول کرنے اور داخل مریضوں سے اہل خانہ کی ملاقات نہ کرانے جیسے الزامات کا انکشاف ہوا ہے، سندھ میں 60 فیصد منشیات بحالی مراکز غیر قانونی کام کر رہے ہیں۔
سندھ ہیلتھ کیئر کمیشن نے صوبے بھر میں ایسے غیر قانونی منشیات بحالی مراکز کے خلاف کریک ڈاؤن شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
سندھ ہیلتھ کیئر کمیشن کمیشن کو کئی ایسی درخواستیں موصول ہوئی ہیں جن میں منشیات بحالی مراکز کے خلاف شکایات درج تھیں اور ان درخواستوں میں بحالی مراکز کی جانب سے بھاری فیسیں وصول کرنے، بہتر سہولیات فراہم نہ کرنے اور داخل مریضوں کی اہل خانہ سے ملاقات نہ کرائے جانے کی شکایات درج تھیں۔
سندھ ہیلتھ کیئر کمیشن ایسے تمام م شکار بحالی مراکز کے خلاف کریک ڈاؤن کا فیصلہ کیا ہے اور واضح کیا ہے کہ تمام منشیات بحالی مراکز کے لیے رجسٹریشن لازمی ہے، اور 15 دن کے اندر رجسٹریشن نہ کرانے والے مراکز کے خلاف مقدمہ درج کیا جائے گا۔
سندھ ہیلتھ کیئر کمیشن کے سی ای او ڈاکٹر احسن قوی کا کہنا ہے کہ شہر میں موجود مراکز میں سے تقریباً 60 فیصد غیر رجسٹرڈ ہیں، جو غیر قانونی کام کر رہے ہیں
انہوں نے غیر مستند عملے کے ذریعے علاج غیر قانونی قرار دیا ہے، انہوں نے کہا کہ ایسے غیر رجسٹرڈ مراکز کی بندش، جرمانے اور ایف آئی آر درج کی جائیں گی۔
ڈاکٹر احسن قوی صدیقی نے والدین کو ہدایت کی کہ وہ اپنے بچوں کی سرگرمیوں پر نظر رکھیں اور کسی بھی غیر قانونی مرکز کی اطلاع فوری طور پر کمیشن کو دیں۔ انہوں نے نوجوانوں میں منشیات کے بڑھتے رجحان پر گہری تشویش بھی ظاہر کی۔