اسلام آباد: پاکستان میں ادویات کی قلت کا فوری خطرہ تو نہیں تاہم ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (ڈریپ) نے عالمی سطح پر پیدا ہونے والی ممکنہ سپلائی چین رکاوٹوں کے پیش نظر فارماسیوٹیکل صنعت کو پیشگی اقدامات کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔

دوسری جانب مقامی فارماسیوٹیکل صنعت کے نمائندوں کا کہنا ہے کہ ملک میں اس وقت کئی ماہ تک ادویات کی ضروریات پوری کرنے کے لیے خام مال اور تیار شدہ ادویات کے وافر ذخائر موجود ہیں۔

ڈریپ کی جانب سے پیر کو جاری کی گئی ایک ایڈوائزری میں ادویات بنانے والی کمپنیوں اور تھراپیوٹک مصنوعات کے درآمد کنندگان کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ایک ہی ملک یا سپلائر پر انحصار کم کریں اور ایکٹیو فارماسیوٹیکل انگریڈینٹس، ایکسیپیئنٹس اور دیگر اہم خام مال کے لیے متبادل اور متنوع ذرائع سے سپلائی یقینی بنائیں کیونکہ بدلتی ہوئی عالمی جغرافیائی و سیاسی صورتحال کے باعث عالمی سپلائی چین متاثر ہو سکتی ہے۔

ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی کے مطابق وہ ملک میں ضروری ادویات اور طبی ٹیکنالوجیز کی دستیابی کی مسلسل نگرانی کر رہی ہے تاکہ مریضوں کو محفوظ اور مؤثر علاج تک بلا تعطل رسائی یقینی بنائی جا سکے۔

ڈریپ نے فارماسیوٹیکل کمپنیوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ خام مال اور تیار شدہ ادویات کے مناسب بفر اسٹاک برقرار رکھیں تاکہ بین الاقوامی شپنگ یا لاجسٹکس میں تاخیر کی صورت میں سپلائی متاثر نہ ہو۔ کمپنیوں کو یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ اپنے سپلائرز کی قابل اعتماد حیثیت کا باقاعدگی سے جائزہ لیں، متبادل سپلائی منصوبے تیار کریں اور ادویات کی دستیابی اور طلب کی نگرانی کے نظام کو مضبوط بنائیں تاکہ ذخیرہ اندوزی، بلیک مارکیٹنگ یا مصنوعی قلت جیسے مسائل سے بچا جا سکے۔

اتھارٹی نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ اگر ضرورت پیش آئے تو وفاقی یا صوبائی حکومتوں کی جانب سے جاری ہدایات کے مطابق ادویات کی ترجیحی فراہمی سرکاری ہسپتالوں اور ایمرجنسی سروسز کو یقینی بنائی جائے۔

دوسری جانب پاکستان فارماسیوٹیکل مینوفیکچررز ایسوسی ایشن کے سابق چیئرمین توقیر الحق نے ڈریپ کی ہدایات کو ایک احتیاطی اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس وقت ملک میں ادویات کی قلت کا کوئی فوری خطرہ نہیں کیونکہ مقامی صنعت کے پاس خام مال اور تیار شدہ ادویات کے کافی ذخائر موجود ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں استعمال ہونے والی تقریباً 90 فیصد ادویات مقامی طور پر تیار کی جاتی ہیں جبکہ ان کی تیاری کے لیے استعمال ہونے والا خام مال زیادہ تر چین اور بھارت سے درآمد کیا جاتا ہے، اس لیے موجودہ صورتحال میں ادویات کی سپلائی متاثر ہونے کا فوری خدشہ نہیں۔

توقیر الحق کے مطابق صرف چند مخصوص ادویات، خصوصاً بعض کینسر کے علاج میں استعمال ہونے والی ادویات یا بائیولوجیکل مصنوعات جو ملک میں تیار نہیں ہوتیں، ان کی فراہمی عالمی پروازوں یا کارگو روٹس میں رکاوٹ کی صورت میں عارضی طور پر متاثر ہو سکتی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ادویات کی بڑے پیمانے پر قلت اسی صورت میں پیدا ہو سکتی ہے جب ایندھن کی فراہمی یا ملک کے اندر نقل و حمل کا نظام طویل عرصے تک متاثر ہو، تاہم موجودہ حالات میں ایسا کوئی امکان نظر نہیں آتا۔

ادھر او آئی سی کے ذیلی ادارے کامسٹیک کے مشیر صحت اور طبّہ ہارٹ انسٹی ٹیوٹ کراچی کے کنسلٹنٹ امراض قلب ڈاکٹر اکرم سلطان نے کہا کہ ڈریپ کی جانب سے جاری کردہ مشاورتی ہدایات بروقت اور ضروری اقدام ہیں اور اس بات کی ضرورت ہے کہ ریگولیٹر اور فارماسیوٹیکل صنعت قریبی رابطے میں رہتے ہوئے پیشگی منصوبہ بندی کریں۔

ان کا کہنا تھا کہ موثر رابطہ کاری اور پیشگی انتظامات کے ذریعے ہی اس بات کو یقینی بنایا جا سکتا ہے کہ پاکستان میں مریضوں کو ادویات اور طبی آلات کی فراہمی بلا تعطل جاری رہے اور صحت کی سہولیات متاثر نہ ہوں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے