اسلام آباد: پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل نے ایک بار پھر والدین کو ہدایت جاری کی ہے کہ وہ نجی میڈیکل اور ڈینٹل کالجوں کو سالانہ فیس 18 لاکھ نوے ہزار روپے سے زائد ادا نہ کریں جبکہ دوسری جانب ملک بھر کے نجی کالج پہلے ہی فی نشست پچیس سے پینتیس لاکھ روپے وصول کر کے اربوں روپے جمع کر چکے ہیں۔
پی ایم ڈی سی کی جانب سے اس ہفتے جاری کیے گئے عوامی نوٹس میں کہا گیا ہے کہ تعلیمی سال دو ہزار پچیس چھبیس کے لیے نجی میڈیکل اور ڈینٹل کالجوں کی زیادہ سے زیادہ ٹیوشن فیس 18 لاکھ نوے ہزار روپے مقرر ہے، جس میں تمام ضمنی چارجز شامل ہوں گے۔ کونسل نے کالجوں کو اس حد سے زائد رقم وصول نہ کرنے کی تنبیہ کی اور والدین کو آن لائن شکایتی پورٹل پر خلاف ورزیوں کی اطلاع دینے کا مشورہ دیا۔
تاہم یہ وارننگ ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب داخلوں کا عمل شروع ہو چکا ہے اور بیشتر کالجز بڑی رقوم وصول کر چکے ہیں، جس پر والدین اور ماہرین نے اسے عملی نفاذ کے بجائے کاغذی کارروائی قرار دیا ہے۔
والدین کے پاس موجود داخلہ خطوط، بینک چالان اور فیس شیڈول کے مطابق اسلام آباد، لاہور، کراچی، پشاور اور دیگر شہروں کے نجی میڈیکل کالج طلبہ سے پینتیس لاکھ روپے تک کی رقم فوری طور پر جمع کرانے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ کئی کیسز میں والدین کو چوبیس گھنٹوں سے بھی کم وقت دیا گیا اور تاخیر پر نشست منسوخ کرنے کی دھمکی دی گئی۔
لاہور سے تعلق رکھنے والے ایک والد نے بتایا کہ ان کی بیٹی نے اوپن میرٹ پر داخلہ حاصل کیا مگر کالج نے مقررہ حد سے کہیں زیادہ رقم مانگی۔ ان کے مطابق جب کوئی سزا ہی نہیں تو فیس کی حد مقرر کرنے کا فائدہ کیا ہے۔
کچھ کالجوں پر الزام ہے کہ وہ فیس کی ساخت کو جان بوجھ کر اس طرح ترتیب دے رہے ہیں کہ پی ایم ڈی سی کی حد سے بچ نکلیں۔ ایک نجی کالج نے یونیورسٹی فیس کی علیحدہ ادائیگی کے بعد انیس لاکھ چالیس ہزار روپے بطور کالج فیس مانگے، جس سے مجموعی رقم حد سے کہیں زیادہ ہو گئی۔ ایک اور کالج نے داخلے کے وقت چوبیس لاکھ نواسی ہزار سے زائد رقم بینک ڈرافٹ کے ذریعے طلب کی اور اصل تعلیمی اسناد جمع کرانے کو لازمی قرار دیا۔
والدین کا کہنا ہے کہ مالی دباؤ پہلے سال تک محدود نہیں رہتا۔ پانچ سالہ ایم بی بی ایس یا بی ڈی ایس پروگرام کے دوران امتحانی فیس، لیبارٹری چارجز، الحاقی اخراجات، کلینیکل ٹریننگ، آئی ٹی سہولیات، لائبریری اور گریجویشن فیس کے نام پر ہر طالب علم سے مزید آٹھ سے دس لاکھ روپے وصول کیے جاتے ہیں، جن کی نہ واضح تعریف ہے اور نہ مؤثر نگرانی۔
تعلیمی حلقوں کا کہنا ہے کہ پی ایم ڈی سی کی جانب سے بار بار وارننگز جاری کرنا، وہ بھی زیادہ تر انگریزی اخبارات میں، اس بات کی علامت ہے کہ نجی میڈیکل تعلیم کے طاقتور شعبے پر کنٹرول ناکام ہو چکا ہے۔ ان کے مطابق جب تک معائنے، جرمانے، داخلوں کی معطلی یا کالجوں کی منظوری واپس لینے جیسے اقدامات نہیں ہوں گے، نوٹس محض رسمی کارروائی ہی رہیں گے۔
کئی والدین نے بتایا کہ پی ایم ڈی سی کے پورٹل پر شکایات درج کرانے کے باوجود کوئی جواب نہیں ملا اور کالج اپنی فیس وصول کرتے رہے۔
پی ایم ڈی سی کے ایک عہدیدار نے اعتراف کیا کہ ماضی میں نجی میڈیکل کالجوں نے فیس ریگولیشن کے خلاف عدالتی ریلیف حاصل کیا تھا، تاہم ان کے بقول یہ معاملہ اب نائب وزیر اعظم کی سربراہی میں قائم اعلیٰ سطح کی کمیٹی کے زیر غور ہے۔
والدین کے لیے یہ وضاحتیں کسی تسلی کا باعث نہیں۔ اسلام آباد سے تعلق رکھنے والی ایک والدہ نے کہا کہ ہر سال فیس مقرر ہوتی ہے، ہر سال کالج اس کی خلاف ورزی کرتے ہیں اور ہر سال والدین مجبوراً ادائیگی کرتے ہیں۔
داخلوں کا سیزن جاری ہے اور پی ایم ڈی سی کی تازہ وارننگ ایک بار پھر یہ سوال اٹھا رہی ہے کہ آیا ریگولیٹر کے پاس نجی میڈیکل کالجوں کے خلاف کارروائی کی صلاحیت اور ارادہ موجود ہے یا فیس کا تعین صرف کاغذوں تک ہی محدود ہے جبکہ اربوں روپے خاموشی سے وصول کیے جا رہے ہیں۔