اسلام آباد: ایک نئی امریکی تحقیق کے مطابق ٹائپ ٹو ذیابیطس اور موٹاپے کے علاج میں بیریاٹرک یا میٹابولک سرجری ادویات اور طرزِ زندگی میں تبدیلیوں کے مقابلے میں زیادہ مؤثر ثابت ہوئی ہے، اور یہ فائدہ غریب اور پسماندہ علاقوں میں رہنے والے مریضوں میں بھی واضح طور پر دیکھا گیا ہے۔
یہ تحقیق معروف طبی جریدے Annals of Internal Medicine میں شائع ہوئی ہے، جس میں امریکا کے چار تعلیمی طبی مراکز میں ہونے والے مطالعات کے ڈیٹا کا طویل مدت تک تجزیہ کیا گیا۔ محققین نے یہ جانچنے کی کوشش کی کہ آیا غربت اور سماجی محرومی ذیابیطس کے علاج کے نتائج کو متاثر کرتی ہے یا نہیں۔
تحقیق میں ٹائپ ٹو ذیابیطس کے 258 مریض شامل تھے، جن کا علاج یا تو بیریاٹرک سرجری کے ذریعے کیا گیا یا پھر ادویات اور سخت طرزِ زندگی پروگرام کے تحت۔ ان مریضوں کو سات سے بارہ سال تک فالو کیا گیا۔ نتائج سے معلوم ہوا کہ سرجری کے ذریعے شوگر کنٹرول اور وزن میں کمی دونوں حوالوں سے نتائج ادویات کے مقابلے میں بہتر رہے، چاہے مریض کسی بھی سماجی پس منظر سے تعلق رکھتا ہو۔
اعداد و شمار کے مطابق پسماندہ علاقوں میں رہنے والے مریضوں میں سرجری کے بعد شوگر کنٹرول کا اہم اشاریہ ایچ بی اے ون سی اوسطاً 1.29 فیصد زیادہ کم ہوا، جبکہ بہتر علاقوں میں یہ کمی 0.95 فیصد رہی۔ اسی طرح وزن میں کمی بھی نمایاں رہی اور سرجری کے ذریعے ادویات کے مقابلے میں 10 سے 13 فیصد زیادہ وزن کم ہوا۔ تحقیق میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ سماجی محرومی نے سرجری کے فائدے کو کم نہیں کیا۔
یہ نتائج ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب دنیا بھر میں ذیابیطس اور وزن کم کرنے کے لیے نئی ادویات، خاص طور پر جی ایل پی ون گروپ کی دوائیں، بڑے پیمانے پر متعارف کرائی جا رہی ہیں اور انہیں ایک مؤثر حل کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ ادویات کئی مریضوں میں شوگر کنٹرول اور وزن کم کرنے میں مدد دیتی ہیں، مگر یہ تحقیق ظاہر کرتی ہے کہ شدید یا طویل عرصے سے ذیابیطس میں مبتلا مریضوں کے لیے سرجری کے فوائد زیادہ مضبوط اور دیرپا ہو سکتے ہیں۔
پاکستان کے لیے یہ تحقیق خاص اہمیت رکھتی ہے، جہاں ذیابیطس کے مریضوں کی تعداد تیزی سے بڑھ رہی ہے اور اندازوں کے مطابق تین کروڑ سے زائد افراد اس مرض میں مبتلا ہیں۔ اب یہ بیماری صرف خوشحال طبقے تک محدود نہیں رہی بلکہ کم آمدنی والے اور پسماندہ علاقوں میں بھی عام ہوتی جا رہی ہے، جہاں علاج کی سہولیات محدود اور ادویات کے اخراجات زیادہ ہیں۔
پاکستان میں بیریاٹرک سرجری زیادہ تر نجی اسپتالوں تک محدود ہے اور عام مریض، خاص طور پر غریب طبقہ، اس تک رسائی نہیں رکھتا۔ سرکاری اسپتالوں میں اس سہولت کی کمی کے باعث زیادہ تر مریض ادویات پر انحصار کرتے ہیں، جن میں بعض جدید مہنگی دوائیں بھی شامل ہیں، مگر ان کے باوجود شوگر مکمل طور پر قابو میں نہیں آ پاتی۔
ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ اس تحقیق سے یہ واضح پیغام ملتا ہے کہ بیریاٹرک سرجری کو صرف امیر مریضوں کا علاج سمجھنے کے بجائے ایک سنجیدہ اور مؤثر طبی آپشن کے طور پر دیکھا جانا چاہیے، خاص طور پر ان مریضوں کے لیے جن کی ذیابیطس ادویات سے قابو میں نہیں آ رہی۔ ان کے مطابق بروقت سرجری سے دل، گردوں اور آنکھوں کی پیچیدگیوں سمیت دیگر سنگین مسائل سے بچاؤ ممکن ہے۔
تحقیق کے مصنفین نے یہ بھی واضح کیا کہ مطالعے میں مریضوں کی تعداد محدود تھی اور اصل ٹرائلز سماجی محرومی کے اثرات جانچنے کے لیے مخصوص طور پر ترتیب نہیں دیے گئے تھے۔ تاہم طویل فالو اپ اور یکساں نتائج اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ سرجری کے فوائد سماجی حیثیت سے متاثر نہیں ہوتے۔
پاکستانی پالیسی سازوں اور صحت کے منصوبہ سازوں کے لیے یہ تحقیق اس امر کی طرف توجہ دلاتی ہے کہ ذیابیطس کے علاج میں صرف ادویات پر انحصار کے بجائے مؤثر علاجی آپشنز تک منصفانہ رسائی پر غور کیا جائے۔ ایسے اقدامات نہ صرف مریضوں کی زندگی بہتر بنا سکتے ہیں بلکہ طویل مدت میں صحت کے نظام پر بڑھتے بوجھ کو بھی کم کر سکتے ہیں
