کراچی: پاکستان کے تجارتی شہر کراچی میں سانحہ گل پلازہ کی خاکستر عمارت سے ملنے والی ناقابلِ شناخت لاشوں اور انسانی جسم کی باقیات کی شناخت کا عمل تاحال جاری ہے۔
سندھ فرانزک لیب میں ڈی این اے کے ذریعے مزید چار لاشوں کی شناخت ہو گئی ہے، جس کے بعد ڈی این اے کے ذریعے سات اور اب تک مجموعی طور پر 15 لاشوں کی شناخت مکمل کی جا چکی ہے۔
پولیس سرجن ڈاکٹر سمیہ سید کے مطابق لاشیں جھلسنے اور خراب حالت میں ہونے کے باعث شناخت کے عمل میں مشکلات کا سامنا ہے۔
لاشیں اعضاء کے باقیات اور چورہ حالت میں لائی جا رہی ہیں، ایسے میں نمونے حاصل کرنے میں مشکلات پیش آرہی ہیں جس کی وجہ سے لاشوں کی شناخت مشکل ہو جائے گی۔
ڈی این اے کے ذریعے شناخت ہونے والی لاشوں کی تعداد سات ہو گئی ہے۔
جامعہ کراچی میں سندھ فرانزک ڈی این اے لیبارٹری کو پولیس سرجن ڈاکٹر سمیہ سید اور ان کی ٹیم پوسٹ مارٹم کے بعد 44 لاشوں اور انسانی عضاء کے باقیات کے نمونے بھیج رہی ہے، ڈی این اے پروفائلنگ کے لیے لواحقین کے ریفرنس سیمپلز بھی بھیجے جا رہے ہیں، جن پر مرحلہ وار کام جاری ہے۔
پولیس سرجن ڈاکٹر سمعیہ سید کے مطابق بدھ کی صبح سے اب تک 21 انسانی اعضاء سول اسپتال لائے جا چکے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ سول اسپتال میں صبح سے صرف انسانی اعضاء اور باقیات لائی جا رہی ہیں، جس سے سانحے کی شدت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔
متاثرہ خاندان شناخت کے عمل کی تکمیل کے منتظر ہیں، جبکہ شہر تاحال اس المناک سانحے کے صدمے سے باہر نہیں آ سکا۔