اسلام آباد: کراچی میں گزشتہ سال 100 سے زائد بچوں میں ایچ آئی وی یعنی ایڈز میں مبتلا ہونے کا انکشاف ہوا ہے، جن میں اکثریت کم عمر بچوں کی ہے، جس نے دو ہزار انیس میں ضلع رتوڈیرو میں سامنے آنے والے سانحے کی تلخ یادیں تازہ کر دی ہیں اور صوبے بھر میں طبی نظام میں انفیکشن کنٹرول کی سنگین ناکامیوں پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔
وائٹلز نیوز کو موصول لسٹ اور اعداد وشمار کے مطابق کراچی میں گزشتہ سال سو سے زائد بچوں میں ایچ آئی وی یعنی ایڈز کے مرض کی تشخیص ہوئی ہے لیکن ماہرین اور حکام کے مطابق اس وبا سے متاثرہ بچوں کی تعداد کئی گنا زیادہ ہو سکتی ہے۔
سندھ انفیکشیس ڈیزیزز اسپتال کے ایک سینئر عہدیدار نے بتایا کہ سامنے آنے والے بچوں کے کیسز ممکنہ طور پر اصل صورتحال کا صرف چند فیصد ہیں،
شہر کے مختلف علاقوں میں اس سے کہیں زیادہ بچے تشخیص کے بغیر ایچ آئی وی کے ساتھ زندگی گزار رہے ہونگے۔ ان کے مطابق سال 2025 کے دوران اسپتال میں پینتیس کے قریب نئے ایچ آئی وی مریض داخل ہوئے، جن میں زیادہ تر بچوں کی عمر کم تھی، تاہم ان میں بالغ مریض بھی شامل ہیں، تمام مریضوں کو علاج فراہم کیا جا رہا ہے، مگر خدشہ ہے کہ کئی متاثرہ افراد ٹیسٹ تک نہیں پہنچ پاتے۔
متعدی امراض کی ماہر پروفیسر نسیم صلاح الدین کا کہناہے کہ یہ مسئلہ صرف بچوں تک محدود نہیں بلکہ مردوں اور عورتوں میں بھی ایچ آئی وی کے کیسز خطرناک حد تک بڑھ رہے ہیں۔ انہوں نے خاص طور پر اس بات پر تشویش ظاہر کی کہ ایسے کیسز سامنے آ رہے ہیں جہاں شادی شدہ خواتین ایچ آئی وی میں مبتلا پائی گئی ہیں جبکہ ان کے شوہر ایچ آئی وی سے متاثرہ نہیں تھے،
اسی طرح ایسے بچے بھی تشخیص ہوئے جن کے والدین ایچ آئی وی منفی نکلے۔ ان کے مطابق یہ صورتحال گھریلو یا رویوں سے جڑی منتقلی کے بجائے طبی طریقہ کار میں خرابی کی واضح نشاندہی کرتی ہے۔
حکومتی ذرائع کے مطابق مرتب کیے گئے اعداد و شمار میں متاثرہ بچوں میں نومولود، چھوٹے بچے، اسکول جانے والے بچے اور اٹھارہ سال سے کم نوعمر شامل ہیں، جبکہ بالغ مریضوں کی تعداد نسبتاً کم ہے۔
اعدادوشمار کے مطابق لڑکے اور لڑکیاں تقریباً یکساں تعداد میں متاثر ہوئے ہیں، جو اس بات کو مزید تقویت دیتا ہے کہ مسئلہ گھریلو عوامل کے بجائے غیر محفوظ طبی اقدامات سے منسلک ہے۔
وزارت صحت کے حکام نے بتایا کہ متاثرہ بچوں کی اکثریت کراچی کے گنجان اور پسماندہ علاقوں سے تعلق رکھتی ہے، جن میں کیماڑی، مچھر کالونی، رئیس گوٹھ، شیر شاہ، اورنگی ٹاؤن، پٹھان کالونی، سائٹ ٹاؤن، بلدیہ، کورنگی اور صنعتی علاقوں سے ملحقہ بستیاں شامل ہیں۔
ان علاقوں میں غیر معیاری اور غیر رجسٹرڈ طبی مراکز کی موجودگی پہلے ہی ایک بڑا مسئلہ سمجھی جاتی ہے۔
وزارت صحت کے حکام کے مطابق بچوں کے بیشتر کیسز میں والدین دونوں ایچ آئی وی منفی پائے گئے ہیں، جس میں ماں سے بچے میں منتقلی کا امکان مسترد ہو جاتا ہے۔ اس کے برعکس شواہد اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ غیر محفوظ انجیکشن، دوبارہ استعمال ہونے والی سرنجیں، غیر جراثیم کش آلات، ڈرپس اور خون کی ناقص اسکریننگ جیسے عوامل اس پھیلاؤ کی بڑی وجوہات ہیں۔
وفاقی سطح کے ایک سینئر عہدیدار نے بتایا کہ کئی مقامات پر پانچ سے دس بچے دیر سے تشخیص ہونے کے باعث جان کی بازی ہار چکے ہیں، کیونکہ وہ بیماری کے آخری مراحل میں طبی مراکز تک پہنچے۔ ان بچوں کی اکثریت کی میڈیکل ہسٹری میں بار بار انجیکشن لگوانا، ڈرپس یا معمولی طبی طریقہ کار شامل تھا، جو اکثر گلی محلوں میں قائم کلینکس میں انجام دیے گئے۔
حکام کے مطابق کراچی کے بڑے سرکاری اور نجی اسپتالوں سے مسلسل نئے ایچ آئی وی کیسز رپورٹ ہو رہے ہیں، جس کے بعد ماہرین نے مشتبہ مریضوں کی اسکریننگ کا دائرہ وسیع کرنا شروع کر دیا ہے۔
ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو یہ خاموش پھیلاؤ مزید علاقوں کو اپنی لپیٹ میں لے سکتا ہے۔
طبی حلقوں میں بڑھتی تشویش کے باوجود محکمہ صحت سندھ کی جانب سے تاحال اس پھیلاؤ کو سرکاری سطح پر تسلیم نہیں کیا گیا، جبکہ مربوط اعداد و شمار بھی سامنے نہیں لائے گئے۔ وفاقی حکام کا کہنا ہے کہ صورتحال پر بریفنگ کی درخواستوں کا کوئی جواب نہیں دیا جا رہا۔
متاثرہ بچوں کا علاج کرنے والے ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ کراچی میں سامنے آنے والا یہ پھیلاؤ کئی حوالوں سے رتوڈیرو کے سانحے سے مشابہ ہے، جہاں غیر محفوظ طبی اقدامات کے باعث سینکڑوں بچے متاثر ہوئے تھے۔ ان کے بقول افسوسناک بات یہ ہے کہ ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھنے کے باوجود وہی خامیاں ایک بار پھر دہرائی جا رہی ہیں۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ سال ملک بھر میں تیرہ ہزار سے زائد نئے ایچ آئی وی کیسز رپورٹ ہوئے، تاہم بین الاقوامی اداروں کا اندازہ ہے کہ اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے، کیونکہ زیادہ تر متاثرہ افراد تشخیص کے بغیر رہ جاتے ہیں اور صرف رضاکارانہ ٹیسٹنگ پر انحصار کیا جا رہا ہے۔