کینسر میں مبتلا حاملہ خاتون کی پیچیدہ سرجری کے بعد صحتمند بچے کی پیدائش

اسلام آباد: شفا انٹرنیشنل اسپتال میں ڈاکٹروں نے ایک نایاب اور انتہائی پیچیدہ کیس میں بائل ڈکٹ کے کینسر میں مبتلا سات ماہ کی حاملہ خاتون کا کامیاب علاج کرتے ہوئے نہ صرف ماں کی جان بچائی بلکہ مکمل مدت کے بعد ایک صحتمند بچے کی پیدائش بھی ممکن بنا دی-

اسپتال کے ایک سینئر عہدیدار نے وائٹلز نیوز کو بتایا کہ مریضہ میں حمل کے تیسرے مرحلے کے دوران “ہیلر کولینجیوکارسینوما” کی تشخیص ہوئی، جو بائل ڈکٹس کا ایک جارحانہ اور کم پایا جانے والا کینسر ہے۔ اس مرحلے پر بیماری کی تشخیص اور علاج کو ماں اور بچے دونوں کے لیے غیر معمولی خطرات لاحق ہوتے ہیں جبکہ علاج کے آپشنز بھی محدود ہو جاتے ہیں۔

اسپتال انتظامیہ کے مطابق مریضہ کے کیس پر تفصیلی طبی جائزے اور مختلف شعبوں کے درمیان مشاورت کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا کہ فوری اور پیچیدہ لیور سرجری کے بغیر مریضہ کی جان کو شدید خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔ بعد ازاں شفا انٹرنیشنل اسپتال کی ہیپاٹو بلیری اور لیور ٹرانسپلانٹ ٹیم نے ڈاکٹر ابو بکر حفیظ بھٹی کی نگرانی میں جگر کے کینسر زدہ حصے اور متاثرہ بائل ڈکٹس کو نکالنے کی سرجری کی۔

عہدیدار نے بتایا کہ سرجری کے دوران متاثرہ حصے کو نکالنے کے بعد باقی بائل ڈکٹ سسٹم کو آنت کے ساتھ جوڑ کر بائل کے بہاؤ کو بحال کیا گیا۔ یہ پورا عمل آنکولوجی، زچہ و بچہ، اینستھیزیا اور نیونیٹل کیئر کے ماہرین کے قریبی تعاون سے انجام دیا گیا۔

اسپتال کے مطابق دستیاب بین الاقوامی طبی لٹریچر کے جائزے سے یہ بات سامنے آئی کہ حمل کے آخری مہینوں میں ہیلر کولینجیوکارسینوما کے لیے اس درجے کی سرجری، اس کے بعد دورانِ حمل کیموتھراپی اور پھر مکمل مدت کے بعد نارمل ڈیلیوری کے مستند کیسز نہ ہونے کے برابر ہیں، جس کی وجہ سے یہ کیس طبی لحاظ سے غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے۔

سرجری کے بعد مریضہ کو دورانِ حمل احتیاط سے ترتیب دی گئی کیموتھراپی دی گئی، جس کی مسلسل نگرانی آنکولوجی اور زچہ و بچہ کے ماہرین کرتے رہے۔ عہدیدار کے مطابق ممکنہ خطرات کے باوجود کیموتھراپی بغیر کسی بڑی پیچیدگی کے مکمل ہوئی۔

بعد ازاں مریضہ نے نارمل ڈیلیوری کے ذریعے مکمل مدت کے بعد ایک صحتمند بچے کو جنم دیا۔ اسپتال انتظامیہ کے مطابق اس وقت ماں اور بچہ دونوں کی حالت تسلی بخش ہے اور انہیں فالو اپ نگہداشت فراہم کی جا رہی ہے۔

اسپتال کے ایک عہدیدار کا کہنا تھا کہ یہ کیس اس بات کی واضح مثال ہے کہ نایاب اور ہائی رسک طبی صورتحال میں بروقت تشخیص، انفرادی بنیادوں پر کلینیکل فیصلے اور مختلف طبی شعبوں کے درمیان مضبوط رابطہ کس طرح زندگی بچانے میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔

شفا انٹرنیشنل اسپتال کے مطابق ایسے کیسز پاکستان میں جدید اور مربوط کینسر کیئر کی بڑھتی ہوئی ضرورت کو اجاگر کرتے ہیں، خاص طور پر حاملہ خواتین کے لیے جہاں علاج میں تاخیر یا غیر مربوط نظام ماں اور بچے دونوں کے لیے مہلک ثابت ہو سکتا ہے۔

اسپتال انتظامیہ نے بتایا کہ اس نوعیت کے نایاب کیسز کو دستاویزی شکل دی جا رہی ہے تاکہ مستقبل میں اسی طرح کے پیچیدہ مریضوں کے علاج کے لیے طبی رہنمائی اور نتائج کو بہتر بنایا جا سکے-

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے