پاکستان میں ویپنگ استعمال کرنے والے نوجوان بارہ لاکھ سے تجاوز کر گئے

اسلام آباد: پاکستان میں اس وقت بارہ لاکھ سے زائد نوجوان الیکٹرانک سگریٹ یا ویپنگ ڈیوائسز استعمال کر رہے ہیں، حالانکہ ملک میں اکثریت اب بھی اس رجحان سے ناواقف ہے اور ہر پانچ میں سے صرف ایک بالغ فرد ہی ویپنگ کے بارے میں جانتا ہے، جس سے شہروں میں خاموشی سے پھیلتے اس نئے نکوٹین رجحان کی عکاسی ہوتی ہے۔

گیلپ پاکستان کی جانب سے جاری کیے گئے قومی جائزے کے مطابق ویپنگ سے متعلق مجموعی آگاہی نہایت محدود ہے اور صرف سترہ فیصد پاکستانیوں نے بتایا کہ انہوں نے کبھی الیکٹرانک سگریٹ یا ویپنگ کے بارے میں سنا ہے۔ سروے میں یہ بھی سامنے آیا کہ شہروں میں رہنے والے افراد، خوشحال طبقے اور زیادہ تعلیم یافتہ شہریوں میں ویپنگ سے واقفیت نسبتاً زیادہ پائی گئی، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس کا استعمال مخصوص سماجی حلقوں تک محدود ہے۔

ویپنگ سے آگاہ افراد میں بھی اس کا براہ راست سامنا کم ہے۔ تقریباً ساٹھ فیصد افراد نے کہا کہ نہ وہ خود ویپنگ استعمال کرتے ہیں اور نہ ہی ان کے قریبی جاننے والوں میں کوئی ایسا شخص ہے۔ صرف نو فیصد نے بتایا کہ ان کا کوئی دوست یا رشتہ دار ویپنگ کرتا ہے جبکہ محض تین فیصد افراد نے خود اس کے استعمال کی تصدیق کی۔

سروے کے نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ عوامی سطح پر ویپنگ کو صحت کے لیے نقصان دہ تصور کیا جاتا ہے۔ بڑی تعداد میں افراد کا ماننا ہے کہ الیکٹرانک سگریٹ عام سگریٹ کے برابر یا اس سے بھی زیادہ نقصان دہ ہیں۔ چار میں سے زائد افراد نے ویپنگ کو روایتی تمباکو نوشی سے زیادہ مضر قرار دیا، جبکہ دیگر نے دونوں کو یکساں خطرناک سمجھا۔

ویپنگ کے ممکنہ اثرات پر تشویش صرف استعمال کرنے والوں تک محدود نہیں رہی۔ ویپنگ سے واقف ستر فیصد سے زائد افراد کا خیال ہے کہ الیکٹرانک سگریٹ اردگرد موجود لوگوں کے لیے بھی نقصان دہ ہو سکتے ہیں، جس طرح سگریٹ کے دھوئیں سے دوسروں کی صحت متاثر ہوتی ہے۔ شہری علاقوں میں یہ تشویش نسبتاً زیادہ پائی گئی، خاص طور پر بند اور مشترکہ جگہوں میں استعمال کے حوالے سے۔

نوجوانوں میں ویپنگ کے بڑھتے رجحان کی وجوہات کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں زیادہ تر افراد نے فیشن اور اسٹائل کو اس کی بنیادی وجہ قرار دیا۔ اس کے بعد تجسس، تفریح اور دوستوں کا دباؤ نمایاں عوامل کے طور پر سامنے آئے، جبکہ بعض افراد نے نکوٹین کی لت کو بھی اس رجحان سے جوڑا۔

ویپنگ کے ساتھ ساتھ سروے میں زردہ، سنس اور نکوٹین پاؤچز جیسی چبانے والی تمباکو مصنوعات سے متعلق آگاہی کا بھی جائزہ لیا گیا۔ ان مصنوعات کے بارے میں واقفیت ویپنگ کے مقابلے میں قدرے زیادہ رہی، جہاں ہر پانچ میں سے ایک پاکستانی نے ان کے بارے میں جاننے کا کہا۔ یہاں بھی شہروں اور خوشحال طبقے میں آگاہی زیادہ دیکھی گئی۔

ان مصنوعات سے واقف افراد کی اکثریت کا ماننا تھا کہ ذائقہ دار اقسام نوجوانوں کو خاص طور پر اپنی طرف متوجہ کرتی ہیں، جس سے یہ خدشہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ مصنوعات نکوٹین کے استعمال کی طرف پہلا قدم بن سکتی ہیں۔

جب مختلف طبقات پر تمباکو اور نکوٹین مصنوعات کے اثرات کے بارے میں سوال کیا گیا تو تقریباً نصف افراد نے نوجوانوں کو سب سے زیادہ متاثر ہونے والا طبقہ قرار دیا۔ اس کے علاوہ محنت کش طبقہ اور طلبہ کا بھی بار بار ذکر کیا گیا، جو اس مسئلے کی وسعت کو ظاہر کرتا ہے۔

گیلپ پاکستان کے مطابق یہ جائزہ اٹھارہ سال یا اس سے زائد عمر کے بالغ افراد میں کیا گیا، اس لیے اس میں کم عمر بچوں اور اسکول جانے والے طلبہ کے استعمال کا احاطہ شامل نہیں۔ تاہم غیر رسمی معلومات کے مطابق نابالغ بچے بھی ویپنگ اور ذائقہ دار نکوٹین مصنوعات آزما رہے ہیں، جس پر مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔

نتائج پر تبصرہ کرتے ہوئے گیلپ پاکستان کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر بلال گیلانی نے کہا کہ یہ صورتحال ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پاکستان میں روایتی تمباکو نوشی میں کمی دیکھی گئی ہے، مگر اس کے ساتھ ہی بغیر دھوئیں اور الیکٹرانک نکوٹین مصنوعات تیزی سے مقبول ہو رہی ہیں۔ ان کے مطابق اگر ان نئے رجحانات پر بروقت توجہ نہ دی گئی تو یہ تمباکو نوشی میں ہونے والی پیش رفت کو متاثر کر سکتے ہیں۔

بلال گیلانی نے اس بات پر زور دیا کہ ویپنگ اور چبانے والی تمباکو مصنوعات کے طویل المدتی صحت اور سماجی اثرات کو سمجھنے کے لیے مزید تحقیق اور باخبر عوامی مکالمہ ناگزیر ہے، خاص طور پر نوجوانوں کے حوالے سے اس ایشو کو اجاگر کرنے کی سخت ضرورت ہے –

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے