سندھ میں موبائل ہیلتھ یونٹس کو جدید بنانے کا فیصلہ، 50 لاکھ سے زائد مریض مستفید

کراچی: سندھ حکومت نے صوبے میں موبائل ہیلتھ یونٹس کے نظام کو مزید مؤثر بنانے، جدید ٹیکنالوجی متعارف کرانے اور طبی سہولیات سے متعلق ڈیجیٹل ریکارڈ مرتب کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

مشیر وزیراعلیٰ سندھ برائے محکمہ بحالی گیانچند ایسرانی کی زیرصدارت اجلاس میں بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ موبائل ڈائیگناسٹک اینڈ ایمرجنسی ہیلتھ کیئر سروسز کے تحت جون 2016 سے ستمبر 2026 تک 50 لاکھ 19 ہزار 864 مریضوں کو طبی سہولیات فراہم کی گئیں، جبکہ اس عرصے میں 12 لاکھ 74 ہزار 322 لیبارٹری اور دیگر طبی ٹیسٹ بھی کیے گئے۔

اجلاس میں بتایا گیا کہ اس وقت سندھ کے 17 اضلاع میں 20 موبائل یونٹس کام کر رہے ہیں، جن میں 13 موبائل ڈائیگناسٹک یونٹس اور 7 موبائل ہیلتھ یونٹس شامل ہیں۔

گیانچند ایسرانی کے مطابق عمرکوٹ سول اسپتال میں قائم ماڈل موبائل اسپتال کے ذریعے اب تک 3 ہزار 654 زچگیاں کروائی جا چکی ہیں، جبکہ 18 ہزار 178 مریضوں کو طبی سہولیات فراہم کی گئی ہیں۔ اس اسپتال میں موبائل آئی سی یو، گائناکالوجی، زچگی اور نوزائیدہ بچوں کی انتہائی نگہداشت کی سہولیات دستیاب ہیں۔

اجلاس میں موبائل ہیلتھ یونٹس کی خدمات سے متعلق عوامی آگاہی بڑھانے پر بھی زور دیا گیا۔ اس مقصد کے لیے سوشل میڈیا، پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کے ذریعے آگاہی مہم چلانے اور طبی کیمپوں کے انعقاد سے قبل مقامی آبادی کو بروقت اطلاع دینے کا فیصلہ کیا گیا۔

بریفنگ کے مطابق موبائل یونٹس کے ذریعے مریضوں کے طبی معائنے، خون کے ٹیسٹ، دیگر ضروری لیبارٹری ٹیسٹ اور کینسر کی تشخیص سے متعلق ٹیسٹوں کی سہولیات بھی فراہم کی جاتی ہیں، تاکہ دور دراز اور پسماندہ علاقوں کے لوگوں کو ان کی دہلیز پر طبی سہولیات میسر آسکیں۔

گیانچند ایسرانی نے موبائل یونٹس کی گاڑیوں میں ٹریکرز فعال رکھنے، ان کی نقل و حرکت کی نگرانی اور طبی خدمات کا ریکارڈ مرتب کرنے کی ہدایات بھی دیں۔ اس کے علاوہ مریضوں، طبی ٹیسٹوں، اضلاع، عملے اور فراہم کی جانے والی سہولیات کا مستند ڈیجیٹل ریکارڈ رکھنے کے لیے متعلقہ ویب سائٹ اور پورٹل کو فعال بنانے پر بھی زور دیا گیا۔

اہم خبریں

فیچر اور تجزیے

اہم خبریں