ہیئر ٹرانسپلانٹ کے نام پر اتائیت مریضوں کی زندگیوں اور پاکستان کی ساکھ کے لیے خطرہ بن گئی، ڈاکٹر منظور قادر انڑ

کراچی: ہیئر ریسٹوریشن سوسائٹی آف پاکستان (HRSP) ساؤتھ ریجن نے ہیئر ٹرانسپلانٹ کے شعبے میں بڑھتی ہوئی اتائیت، غیر مجاز پریکٹس اور غیر معیاری طبی طریقۂ کار پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سندھ اور متعلقہ ریگولیٹری اداروں سے فوری کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

یہ مطالبہ سوسائٹی کے بانی رکن اور چیئرمین بورڈ آف گورنرز ڈاکٹر منظور قادر انڑ نے کراچی پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر ڈاکٹر حنیف سعید، ڈاکٹر منصور راجپر، ڈاکٹر نزہت ابڑو، ڈاکٹر ثمر اقبال اور دیگر بھی موجود تھے۔

ڈاکٹر منظور قادر انڑ نے کہا کہ بعض غیر مجاز اور غیر تربیت یافتہ افراد خود کو ڈاکٹر ظاہر کرکے ہیئر ٹرانسپلانٹ جیسے طبی و جراحی عمل انجام دے رہے ہیں، جو مریضوں کی صحت اور زندگی کے لیے سنگین خطرہ بن سکتا ہے۔ ہیئر ٹرانسپلانٹ محض ایک کاسمیٹک سروس نہیں بلکہ باقاعدہ طبی اور جراحی عمل ہے، جس کے لیے متعلقہ قابلیت، قانونی رجسٹریشن اور محفوظ طبی ماحول ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ ناقص طریقۂ علاج، غیر محفوظ طبی ماحول اور انفیکشن کنٹرول کے اصولوں کی خلاف ورزی سے مریضوں کو انفیکشن، ہیپاٹائٹس بی اور سی، غیر فطری ہیئر لائن، بالوں کی غلط سمت میں نشوونما اور ڈونر ایریا کو مستقل نقصان جیسی پیچیدگیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

پریس کانفرنس کے دوران ڈاکٹر حنیف سعید نے دعویٰ کیا کہ غلط طریقے سے ہیئر ٹرانسپلانٹ کے نتیجے میں ہونے والے انفیکشن کے باعث چار افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے طبی مراکز میں مطلوبہ حفاظتی اقدامات اور طبی معیارات پر عمل درآمد یقینی بنانا ضروری ہے۔

اس موقع پر ہیئر ٹرانسپلانٹ سے متاثر ہونے والے شہری اشرف نے بھی اپنا تجربہ بیان کیا۔ ان کے مطابق انہوں نے کراچی کے علاقے ڈیفنس میں واقع ایک کلینک سے ہیئر ٹرانسپلانٹ کروایا، تاہم انہیں فائدے کے بجائے نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹرانسپلانٹ کرنے والا شخص پہلے موبائل ٹیکنیشن تھا۔

ڈاکٹر منظور قادر انڑ نے مطالبہ کیا کہ سندھ بھر میں ہیئر ٹرانسپلانٹ سینٹرز اور متعلقہ کلینکس کا باقاعدہ معائنہ کیا جائے، وہاں کام کرنے والے ڈاکٹروں کی قابلیت اور رجسٹریشن کی تصدیق کی جائے اور غیر مجاز پریکٹس میں ملوث افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔

انہوں نے کہا کہ سندھ ہیلتھ کیئر کمیشن، متعلقہ ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسرز (DHOs) اور پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (PMDC) اپنی قانونی ذمہ داریاں مؤثر انداز میں ادا کریں۔ ہیئر ٹرانسپلانٹ مراکز کی قانونی حیثیت، طبی آلات، آپریشن تھیٹر، انفیکشن کنٹرول اور مریضوں کی حفاظت سے متعلق انتظامات کی جانچ پڑتال بھی ضروری ہے۔

ایچ آر ایس پی ساؤتھ ریجن نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ متعلقہ سرکاری اداروں، مستند ہیئر ٹرانسپلانٹ سرجنز اور دیگر اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے مراکز کے لیے واضح اور یکساں طبی معیارات مرتب کیے جائیں۔ ان معیارات میں ڈاکٹروں کی مطلوبہ قابلیت، مراکز کی رجسٹریشن، آلات کی جراثیم کشی، علاج کے بعد مریضوں کی نگرانی اور ہنگامی طبی سہولیات کی فراہمی کو لازمی قرار دیا جائے۔

ڈاکٹر منظور قادر انڑ نے کہا کہ ہر ہیئر ٹرانسپلانٹ مرکز میں کسی بھی طبی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ضروری آلات، تربیت یافتہ عملہ اور واضح ایمرجنسی پروٹوکول موجود ہونا چاہیے۔ انہوں نے زور دیا کہ ریگولیٹری اداروں کی نگرانی محض کاغذی کارروائی تک محدود نہیں رہنی چاہیے بلکہ باقاعدہ معائنے اور عوامی شکایات کے بروقت ازالے کا مؤثر نظام قائم کیا جائے۔

پریس کانفرنس میں ڈاکٹر ذوالفقار علی تونیو نے کہا کہ غیر معیاری طبی پریکٹس صرف عوامی صحت کا مسئلہ نہیں بلکہ پاکستان کی بین الاقوامی ساکھ اور میڈیکل ٹورازم کے فروغ کے لیے بھی نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔ اگر ملکی اور غیر ملکی مریضوں کو غیر معیاری علاج فراہم کیا گیا تو پاکستان کے طبی شعبے پر ان کا اعتماد متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ اسپیشل انویسٹمنٹ فیسی لیٹیشن کونسل (SIFC) نے میڈیکل ٹورازم کو زرمبادلہ کے حصول کے اہم شعبوں میں شامل کیا ہے۔ ایسے میں ہیئر ٹرانسپلانٹ سمیت طبی شعبوں میں غیر مجاز اور غیر معیاری پریکٹس کی روک تھام ضروری ہے تاکہ پاکستان میں طبی خدمات کے معیار اور عالمی اعتماد کو بہتر بنایا جا سکے۔

ڈاکٹر ذوالفقار علی تونیو نے عوام سے بھی اپیل کی کہ ہیئر ٹرانسپلانٹ کروانے سے پہلے متعلقہ ڈاکٹر کی طبی قابلیت اور رجسٹریشن، کلینک کی قانونی حیثیت، انفیکشن کنٹرول کے انتظامات اور ہنگامی طبی سہولیات کی موجودگی کی تصدیق ضرور کریں۔

انہوں نے کہا کہ ہیئر ریسٹوریشن سوسائٹی آف پاکستان کا مقصد کسی فرد، ڈاکٹر یا ادارے کو نشانہ بنانا نہیں بلکہ مریضوں کے حقوق کا تحفظ، غیر مجاز پریکٹس کی روک تھام اور محفوظ و معیاری طبی خدمات کو فروغ دینا ہے۔ سوسائٹی اس مقصد کے لیے حکومت سندھ، سندھ ہیلتھ کیئر کمیشن، پی ایم ڈی سی اور دیگر متعلقہ اداروں کے ساتھ تعاون کے لیے تیار ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت معاملے کی سنگینی کا ادراک کرتے ہوئے متعلقہ اداروں کو متحرک کرے اور مؤثر اقدامات کے ذریعے عوام کا اعتماد بحال کیا جائے۔

اہم خبریں

فیچر اور تجزیے

اہم خبریں