محفوظ روزے کے لیے رمضان سے قبل طبی معائنہ اور شوگر مانیٹرنگ ضروری

کراچی: ذیابیطس کے مریضوں کے لیے رمضان میں روزے کا فیصلہ صرف شوگر لیول نہیں بلکہ دل اور میٹابولک خطرات، وزن، ادویات کی حفاظت اور مریض کی مجموعی جسمانی حالت کو مدنظر رکھ کر کیا جانا چاہیے، ماہرین نے رمضان سے قبل طبی جائزے، علاج میں بروقت تبدیلی اور باقاعدہ شوگر مانیٹرنگ کو محفوظ روزے کے لیے ضروری قرار دے دیا۔


کراچی کے مقامی ہوٹل میں ڈائیبیٹک ایسوسی ایشن آف پاکستان کے زیر اہتمام سیمینار سے انٹرنیشنل ڈائیبیٹس فیڈریشن کے بورڈ ممبر جرمنی سے تعلق رکھنے والے پروفیسر پیٹر شوارز نے کہا کہ پاکستان سمیت دنیا بھر میں ذیابیطس تیزی سے بڑھ رہا ہے، جس کے لیے مؤثر روک تھام، بروقت تشخیص اور مربوط طبی حکمت عملی کی ضرورت ہے۔


پروفیسر ارشد حسین نے کہا کہ رمضان میں جامع میٹابولک نتائج کے حصول کے لیے جدید علاج کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔
پروفیسر زمان شیخ کی نظامت میں ہونے والی پینل ڈسکشن میں پروفیسر نجم الاسلام، پروفیسر عبدالباسط، پروفیسر یعقوب احمدانی، ڈاکٹر عائشہ شیخ، ڈاکٹر قمر مسعود اور ارم غفور نے شرکت کی۔


ماہرین کے مطابق رمضان میں ہر ذیابیطس مریض کے لیے روزے کا فیصلہ انفرادی بنیاد پر ہونا چاہیے۔ رمضان سے قبل مکمل طبی معائنہ، ادویات میں مناسب تبدیلی، مریض کی تربیت، باقاعدہ شوگر مانیٹرنگ اور ضرورت کے مطابق طبی رابطہ محفوظ روزے کی بنیادی ضروریات ہیں۔


ماہرین نے کہا کہ جامع میٹابولک کیئر صرف بلڈ شوگر کنٹرول تک محدود نہیں بلکہ وزن میں بہتری، دل کے امراض کے خطرات میں کمی اور مجموعی میٹابولک صحت کو بھی علاج کا حصہ سمجھنا چاہیے۔

اہم خبریں

فیچر اور تجزیے

اہم خبریں