اسلام آباد: وفاقی محکمہ صحت کے حکام نے کہا ہے کہ ڈاکٹر ڈرگ سیل لائسنس کے بغیر فارمیسی یا میڈیکل اسٹور نہیں چلا سکتے اور نہ ہی اپنے کلینکس میں ادویات کی تجارتی فروخت کرسکتے ہیں، جبکہ اسلام آباد میں غیر لائسنس یافتہ مراکز چلانے والے ڈاکٹروں کو فوری لائسنس حاصل کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے قانونی کارروائی سے خبردار کیا گیا ہے۔
یہ ہدایات وفاقی آئینی عدالت کے اس فیصلے کے بعد جاری کی گئی ہیں جس میں قرار دیا گیا ہے کہ بطور معالج رجسٹریشن، ادویات کی تجارتی فروخت کے لیے لائسنس کی شرط ختم نہیں کرتی۔ ادویات کے ڈسٹری بیوٹرز کو بھی مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ درست ڈرگ سیل لائسنس کے بغیر کام کرنے والے مراکز کو ادویات اور دیگر علاج میں استعمال ہونے والی مصنوعات فراہم نہ کریں۔
اسلام آباد کے محکمہ صحت کے فارمیسی سروسز اینڈ ڈرگ کنٹرول ونگ کی ایڈوائزری کے مطابق غیر لائسنس یافتہ فارمیسی یا میڈیکل اسٹور چلانے والے رجسٹرڈ معالجین کو بلا تاخیر درخواست دے کر متعلقہ لائسنس حاصل کرنا ہوگا۔ یہ شرط دیگر ایسے مراکز پر بھی لاگو ہوتی ہے جہاں ادویات اور علاج میں استعمال ہونے والی مصنوعات فروخت کی جاتی ہیں یا فروخت کے لیے ذخیرہ کی جاتی ہیں۔
وفاقی وزارت قومی صحت کی خدمات، ضوابط و رابطہ کے تحت 6 اکتوبر کو جاری کردہ ایڈوائزری کو انتہائی فوری نوعیت کا قرار دیا گیا ہے۔ اس میں مقدمہ سی پی ایل اے 538 پی/2023 میں وفاقی آئینی عدالت کے 23 ستمبر کے فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے متعلقہ ٹیموں کو فوری عمل درآمد اور خلاف ورزیوں پر ضابطے کے مطابق کارروائی شروع کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
تاہم، ایڈوائزری میں ادویات کی تجارتی فروخت اور ڈاکٹر کی جانب سے اپنے زیر علاج مریضوں کو محدود مقدار میں ادویات دینے کے درمیان فرق واضح کیا گیا ہے۔ اپنے کلینک میں مشورے اور علاج کے لیے آنے والے مریضوں کو محدود مقدار میں ادویات دینے والے معالجین قانون میں موجود کسی استثنیٰ سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں، بشرطیکہ متعلقہ قانونی تقاضے پورے کیے جائیں۔
ایڈوائزری کے مطابق اس استثنیٰ کی بنیاد پر غیر لائسنس یافتہ فارمیسی یا میڈیکل اسٹور نہیں چلایا جاسکتا۔ عدالت نے بھی اپنے مریضوں کو ادویات دینے اور تجارتی بنیادوں پر ادویات کا مرکز چلانے میں فرق کرتے ہوئے قرار دیا کہ ایسے تجارتی مرکز کے لیے ڈرگز ایکٹ 1976 کے تحت لائسنس ضروری ہے۔
یہ مقدمہ خیبر پختونخوا کے محکمہ صحت کی جانب سے پشاور ہائی کورٹ کے ایک حکم کے خلاف اپیل سے متعلق تھا۔ ہائی کورٹ نے ان ڈاکٹروں کے خلاف کارروائی روک دی تھی جن پر لائسنس کے بغیر ادویات ذخیرہ کرنے اور فروخت کرنے کا الزام تھا۔
وفاقی آئینی عدالت نے ہائی کورٹ کا حکم کالعدم قرار دے کر قانون کے مطابق کارروائی جاری رکھنے کی اجازت دی۔ فیصلے کے مطابق ڈاکٹر کی پیشہ ورانہ رجسٹریشن، تجارتی بنیادوں پر ادویات فروخت کرنے والے مرکز کے لیے درکار لائسنس کا متبادل نہیں ہوسکتی۔
اسلام آباد کے کوالٹی کنٹرول بورڈ کے سیکرٹری سردار شبیر احمد کے دستخط سے جاری کردہ ایڈوائزری کی نقول ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر و لائسنسنگ اتھارٹی، پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کے رجسٹرار اور اسلام آباد ہیلتھ کیئر ریگولیٹری اتھارٹی کو بھی بھیجی گئی ہیں۔ سٹی، صدر اور دیہی علاقوں کے ڈرگ انسپکٹرز کو ہدایات پر عمل درآمد یقینی بنانے اور ضرورت پڑنے پر قانونی کارروائی کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔