کیا بعض اسٹیج فور کینسر کا علاج ممکن ہے؟ جناح اسپتال کراچی میں منتخب مریضوں کے لیے جدید ہائی پیک سہولت دستیاب

کراچی: کینسر کی تشخیص سنتے ہی اکثر مریض اسے زندگی کا آخری موڑ سمجھ لیتے ہیں، لیکن ہر اسٹیج فور کینسر کا مطلب علاج کا اختتام نہیں۔ جناح اسپتال میں پیٹ کے اندر پھیلنے والے بعض سرطانوں کے منتخب مریضوں کے لیے ایسا جدید طریقہ علاج دستیاب ہے جس میں پہلے سرجری کے ذریعے کینسر نکالا جاتا ہے اور پھر اسی پیٹ کے اندر گرم کیموتھراپی دی جاتی ہے۔

ہائی پیک (HIPEC) نامی اس طریقہ علاج کے لیے ملک کے مختلف علاقوں سے ہر ماہ آٹھ سے 10 مریض جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر ریفر ہو رہے ہیں، تاہم مکمل طبی جانچ کے بعد صرف موزوں مریضوں کو ہی اس پیچیدہ علاج کے لیے منتخب کیا جاتا ہے۔

جناح اسپتال کے سرجیکل وارڈ ٹو کے سربراہ اور کولوریکٹل و سرجیکل آنکولوجسٹ ڈاکٹر سید شفقت اللہ کے مطابق ہائی پیک سروس 2017 میں شروع کی گئی تھی۔ ابتدائی طور پر اس مقصد کے لیے قومی ادارہ برائے امراض قلب کے تعاون سے مشینری کا انتظام کیا گیا، جبکہ بعد میں جناح اسپتال نے اپنی جدید مشین خرید لی۔

انہوں نے کہا کہ HIPEC ہر اسٹیج فور کینسر کے مریض کے لیے موزوں نہیں۔ مریض کے مکمل معائنے، سرطان کی قسم، اس کے پھیلاؤ اور مجموعی صحت کا جائزہ لینے کے بعد ہی فیصلہ کیا جاتا ہے کہ وہ اس علاج کا امیدوار ہے یا نہیں۔

اپینڈکس، بڑی آنت اور ریکٹم، بعض گائناکولوجیکل سرطانوں اور معدے کے کینسر کے منتخب مریض اس طریقہ علاج کے امیدوار ہوسکتے ہیں۔

اس طریقہ علاج میں سرجن ایک بڑی سرجری کے ذریعے پیٹ میں موجود نظر آنے والا کینسر نکالتے ہیں، جس کے بعد تقریباً 90 منٹ تک گرم کیموتھراپی پیٹ کے اندر گردش کرائی جاتی ہے۔ اس پورے عمل کو سائٹوریڈکٹیو سرجری کے ساتھ ہائپرتھرمک انٹراپیریٹونیل کیموتھراپی کہا جاتا ہے۔

ڈاکٹر شفقت اللہ کے مطابق جناح اسپتال میں اس سہولت سے متعلق آگاہی بڑھنے کے بعد کراچی اور سندھ کے علاوہ بلوچستان اور پنجاب سمیت ملک کے مختلف علاقوں سے بھی مریض علاج کے لیے آ رہے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ جنرل سرجیکل او پی ڈی میں ہفتے کے چھ دن مختلف اقسام کے کینسر کے مریضوں کا مفت معائنہ کیا جاتا ہے۔ ان میں معدے، جگر، لبلبے، تلی، چھاتی، تھائرائڈ اور نرم بافتوں کے کینسر کے مریض بھی شامل ہوتے ہیں۔

ڈاکٹر شفقت اللہ نے کینسر کی بروقت تشخیص پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں ایک بڑا مسئلہ یہ ہے کہ لوگ ابتدائی علامات کو نظر انداز کرتے ہیں اور بعض اوقات متعلقہ ماہر ڈاکٹر تک پہنچنے میں کافی وقت ضائع ہوجاتا ہے۔ کینسر کی جتنی جلد تشخیص ہو، علاج کے بہتر نتائج کے امکانات اتنے ہی زیادہ ہوتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ خواتین میں آنت اور مقعد سے متعلق علامات کو شرم کی وجہ سے نظر انداز کرنے کا رجحان خاص طور پر تشویش ناک ہے۔ پاخانے میں خون آنا، اچانک قبض شروع ہوجانا، پاخانے کے دوران تکلیف یا یہ محسوس ہونا کہ آنت مکمل طور پر صاف نہیں ہوئی، ایسی علامات ہیں جنہیں نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ مریضوں میں کولونوسکوپی اور بائیوپسی کے حوالے سے بھی خوف پایا جاتا ہے، جس کے باعث تشخیص میں مزید تاخیر ہوجاتی ہے۔ بروقت تشخیص نہ ہونے کی صورت میں مرض پیچیدہ مرحلے میں پہنچ سکتا ہے اور علاج میں کیموتھراپی، ریڈی ایشن اور طویل سرجیکل مراحل شامل ہوسکتے ہیں۔

ڈاکٹر شفقت اللہ نے بتایا کہ نوجوانوں میں کولوریکٹل کینسر کے کیسز بھی تشویش کا باعث بن رہے ہیں، اس لیے معاشرے میں علامات اور بروقت تشخیص سے متعلق آگاہی بڑھانے کی ضرورت ہے۔ ابتدائی علامات سامنے آنے پر مریض کو فوری طور پر مستند اور متعلقہ ماہر ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ جناح اسپتال میں HIPEC کے لیے مریضوں کی مکمل جانچ ایک ماہر ٹیم کرتی ہے، جس میں ریڈیولوجسٹ، پیتھالوجسٹ، سرجن اور آنکولوجی کے ماہرین شامل ہوتے ہیں۔ ہر اسٹیج فور مریض کو ہائی پیک کا امیدوار قرار دینے کے بجائے ہر کیس کا الگ جائزہ لیا جاتا ہے۔

ڈاکٹر شفقت اللہ نے ایک مریض کی مثال دیتے ہوئے بتایا کہ اسے طویل عرصے تک لبلبے کے کینسر کا مشتبہ مریض سمجھا جاتا رہا، تاہم جناح اسپتال میں ماہرین نے دوبارہ جائزہ لینے کے بعد اپینڈکس سے پیدا ہونے والے کینسر کی تشخیص کی اور اسے ہائی پیک کے ممکنہ امیدوار کے طور پر شناخت کیا۔

انہوں نے بتایا کہ ہائی پیک کے دوران استعمال ہونے والے خصوصی سرکٹ کی لاگت تقریباً ساڑھے چار سے چھ لاکھ روپے فی مریض آتی ہے۔ اس خرچ کے مستقل انتظام کے لیے اسپتال انتظامیہ اور سندھ حکومت سے بات چیت جاری ہے، جبکہ فی الحال وارڈ اپنے دستیاب فنڈز سے مریضوں کے اخراجات برداشت کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

ڈاکٹر شفقت اللہ کے مطابق جدید سہولیات کے ساتھ عوامی آگاہی بھی کینسر کے خلاف جنگ میں انتہائی اہم ہے، تاکہ مریض ابتدائی علامات کو نظر انداز کرنے کے بجائے بروقت تشخیص اور علاج کے لیے اسپتال پہنچیں۔

اہم خبریں

فیچر اور تجزیے

اہم خبریں