کراچی: سندھ میں آوارہ کتوں کی بہتات کے باعث کتوں کے کاٹنے کے واقعات میں اضافے کے ساتھ ریبیز کے کیسز بھی سامنے آنے لگے ہیں۔ رواں سال سندھ میں کتے کے کاٹنے سے ہونے والی جان لیوا بیماری ریبیز کا 33واں کیس رپورٹ ہوا ہے، 27 سالہ خاتون میں ریبیز کی تصدیق کے بعد اسے جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر سے انڈس اسپتال منتقل کردیا گیا۔
ذرائع کے مطابق ریبیز کا شکار ہونے والی 27 سالہ خاتون کا تعلق ٹنڈو الہیار سے ہے۔ خاتون کو تقریباً 6 ماہ قبل دائیں ٹخنے پر آوارہ کتے نے کاٹا تھا۔
اسپتال ذرائع کے مطابق کتے کے کاٹنے کے بعد خاتون کو ریبیز سے بچاؤ کی ویکسین کی تین خوراکیں بھی لگائی گئی تھیں، تاہم تقریباً چھ ماہ بعد اس میں ریبیز کی علامات ظاہر ہوگئیں۔
خاتون کو 12 ستمبر کی صبح تقریباً ساڑھے چار بجے تشویشناک حالت میں جناح اسپتال لایا گیا۔ ڈاکٹروں کے مطابق مریضہ میں ریبیز وائرس سے متاثر ہونے کی تمام نمایاں علامات موجود ہیں۔ بعد ازاں خاتون کو مزید علاج اور نگہداشت کے لیے جناح اسپتال سے انڈس اسپتال منتقل کردیا گیا۔
اس تازہ کیس نے کتے کے کاٹنے کے بعد مکمل اور مؤثر طبی پروٹوکول، ویکسینیشن اور فوری طبی معائنے کی اہمیت ایک بار پھر اجاگر کردی ہے۔ بالخصوص ایسے مریضوں میں جنہیں ویکسین لگنے کے باوجود علامات ظاہر ہوں، ماہرین کے مطابق کیس کی مکمل طبی تاریخ اور ویکسینیشن ریکارڈ کا جائزہ انتہائی اہم ہے۔
اس سے قبل رواں سال کراچی میں ریبیز کے باعث متعدد اموات بھی رپورٹ ہوچکی ہیں۔ دستیاب اعداد و شمار کے مطابق انڈس اسپتال میں 23 جبکہ جناح اسپتال میں 8 افراد ریبیز کے باعث انتقال کرچکے ہیں۔
یوں رواں سال سندھ میں ریبیز کے 33 کیسز رپورٹ ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جو صوبے میں آوارہ کتوں اور کتے کے کاٹنے سے پیدا ہونے والے صحت کے خطرے کی سنگینی کو ظاہر کرتے ہیں۔
ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ کتے کے کاٹنے کی صورت میں زخم کو فوری طور پر صابن اور پانی سے 15 منٹ تک اچھی طرح دھونے کے بعد بلا تاخیر طبی مرکز سے رجوع کرنا چاہیے اور ڈاکٹر کی ہدایت کے مطابق اینٹی ریبیز ویکسین اور امیونوگلوبلن لازمی لگوانا چاہیے۔