ٹائپ ٹو ذیابیطس کے مریضوں کے لیے سگریٹ نوشی ترک کرنے کی دنیا کی پہلی گائیڈ لائنز جاری


کراچی: ٹائپ ٹو ذیابیطس میں مبتلا افراد کو سگریٹ نوشی ترک کرانے کے لیے دنیا کی پہلی باقاعدہ گائیڈ لائنز جاری کردی گئی ہیں۔ 13 ممالک کے 35 ماہرین پر مشتمل عالمی گروپ کی تیار کردہ سفارشات طبی جریدے Diabetes Research and Clinical Practice میں شائع ہوئی ہیں۔

نئی گائیڈ لائنز میں طبی ماہرین پر زور دیا گیا ہے کہ سگریٹ نوشی ترک کرانا ذیابیطس کے علاج اور مینجمنٹ کا باقاعدہ حصہ بنایا جائے اور ایسے ہر مریض کی مدد کی جائے جو سگریٹ نوشی کرتا ہے، خواہ اس میں نکوٹین پر انحصار کی شدت کتنی ہی ہو یا وہ اس سے قبل سگریٹ چھوڑنے کی کوشش کرچکا ہو۔

ماہرین کے مطابق سگریٹ نوشی ٹائپ ٹو ذیابیطس کے مریضوں میں دل کے امراض، فالج اور دیگر سنگین پیچیدگیوں کا خطرہ نمایاں طور پر بڑھا دیتی ہے، جبکہ سگریٹ چھوڑنے سے ان خطرات میں کمی لائی جاسکتی ہے۔

گائیڈ لائنز میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ سگریٹ نوشی ترک کرنے کے بعد بعض مریضوں کے بلڈ شوگر، وزن اور بلڈ پریشر میں عارضی تبدیلیاں ہوسکتی ہیں، اس لیے سگریٹ چھوڑنے کے عمل کو صرف طرز زندگی سے متعلق مشورہ سمجھنے کے بجائے طبی نگہداشت کا حصہ بنایا جائے۔

انڈس ڈائبیٹیز اینڈ اینڈوکرائنالوجی سینٹر کے ڈائریکٹر اور ڈائبیٹک ایسوسی ایشن آف پاکستان کے سیکریٹری جنرل پروفیسر عبدالباسط نے کہا ہے کہ سگریٹ اور ذیابیطس کا امتزاج خطرناک ہے اور اس کے صحت پر تباہ کن اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔

پروفیسر عبدالباسط کے مطابق ذیابیطس کے مریض کے لیے سگریٹ نوشی ترک کرنا محض طرز زندگی کا انتخاب نہیں بلکہ دل، خون کی شریانوں اور مجموعی صحت کے تحفظ کے لیے اہم قدم ہے۔ نئی گائیڈ لائنز طبی ماہرین کو واضح اور عملی طریقہ کار فراہم کرتی ہیں تاکہ مریض کو صرف سگریٹ چھوڑنے کا مشورہ دینے کے بجائے اس عمل میں باقاعدہ مدد فراہم کی جاسکے۔

سفارشات میں سگریٹ نوشی ترک کرنے کے لیے مناسب طبی علاج، رویوں میں تبدیلی کے لیے منظم معاونت اور باقاعدہ فالو اَپ کو یکجا کرنے پر زور دیا گیا ہے۔

ماہرین نے کہا ہے کہ سگریٹ چھوڑنے کے فیصلے کے بعد ابتدائی ہفتوں میں مریض کی خصوصی نگرانی کی جائے، بلڈ شوگر، وزن اور بلڈ پریشر کو مانیٹر کیا جائے جبکہ ضرورت پڑنے پر ادویات کے اثرات میں ممکنہ تبدیلی کو بھی مدنظر رکھا جائے۔

پروفیسر عبدالباسط کا کہنا ہے کہ پاکستان میں ضرورت اس امر کی ہے کہ مریضوں کو صرف سگریٹ چھوڑنے کا مشورہ دینے کے بجائے حقیقتاً سگریٹ چھوڑنے میں مدد فراہم کی جائے۔ ہر کامیاب کوشش مریض میں سنگین پیچیدگیوں کے خطرے کو کم اور صحت مند مستقبل کے امکانات کو بہتر بنا سکتی ہے۔

گائیڈ لائنز تیار کرنے والے DiaSmokeFree Working Group میں ذیابیطس، امراض قلب و میٹابولک بیماریوں، اندرونی طب، سگریٹ نوشی ترک کرانے، رویوں کے علوم اور طبی گائیڈ لائنز کی تیاری سے وابستہ ماہرین شامل تھے۔

اس عالمی اقدام کا تصور اور رابطہ کاری اٹلی کی یونیورسٹی آف کیٹانیا کے Center of Excellence for the Acceleration of Harm Reduction (CoEHAR) نے کی۔

DiaSmokeFree initiative کے تحت مستقبل میں طبی ماہرین اور مریضوں کے لیے مزید عملی وسائل، علاج سے متعلق رہنمائی اور تعلیمی مواد تیار کرنے کا بھی منصوبہ ہے تاکہ ذیابیطس کے مراکز اور دیگر طبی اداروں میں سگریٹ نوشی ترک کرانے کی خدمات کو معمول کی نگہداشت کا حصہ بنایا جاسکے۔

اہم خبریں

فیچر اور تجزیے

اہم خبریں