20 ستمبر کے ایم ڈی کیٹ میں شفافیت یقینی بنانے کا مطالبہ، پی ایم اے نے نجی میڈیکل کالجز کے فرانزک آڈٹ پر زور دے دیا

کراچی: پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن (پی ایم اے) نے 20 ستمبر 2026 کو ہونے والے میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج داخلہ ٹیسٹ (ایم ڈی کیٹ) کے حوالے سے مکمل شفافیت، فول پروف سیکیورٹی اور میرٹ پر مبنی امتحانی عمل یقینی بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔
پی ایم اے کا کہنا ہے کہ ایم ڈی کیٹ میڈیکل تعلیم کے لیے طلبہ کی صلاحیت جانچنے کا اہم ذریعہ ہے، تاہم ماضی میں یہ امتحان مختلف تنازعات، انتظامی بدانتظامی اور پیپر لیک جیسے واقعات کی وجہ سے متاثر ہوتا رہا ہے۔


ایسوسی ایشن نے مطالبہ کیا کہ 20 ستمبر کو ہونے والے ایم ڈی کیٹ کے لیے ایسے انتظامات کیے جائیں جن سے امتحانی عمل میں کسی قسم کی بے ضابطگی یا مداخلت کا امکان نہ رہے۔ پی ایم اے کے مطابق مستقبل کے ڈاکٹرز کا انتخاب شفاف، بے داغ اور میرٹ پر مبنی طریقہ کار کے تحت ہونا چاہیے۔


پی ایم اے نے اس بات پر بھی زور دیا کہ صرف ایم ڈی کیٹ پر انحصار کرنے کے بجائے ملک کے پرائمری اور سیکنڈری تعلیمی نظام کو عالمی معیار کے مطابق بہتر بنایا جائے۔ ایسوسی ایشن کے مطابق مضبوط بنیادی تعلیم طلبہ کو اعلیٰ طبی تعلیم کے لیے قدرتی طور پر تیار کر سکتی ہے اور مستقبل میں ہائی اسٹیکس داخلہ ٹیسٹ پر ضرورت سے زیادہ انحصار کم کیا جا سکتا ہے۔
پی ایم اے نے ملک میں میڈیکل تعلیم کی بڑھتی ہوئی کمرشلائزیشن پر بھی گہری تشویش کا اظہار کیا۔ ایسوسی ایشن کے مطابق متعدد نجی میڈیکل کالجز انتہائی کم تعداد میں مستقل فیکلٹی، ناکافی سہولیات اور جز وقتی عملے کے ساتھ کام کر رہے ہیں، جبکہ بنیادی تعلیمی اور طبی معیار پورا کیے بغیر نشستوں میں اضافے کے لیے بھی کوششیں کی جاتی ہیں۔


پی ایم اے نے بعض نجی میڈیکل کالجز میں تدریسی معیار سے متعلق رپورٹس پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ غیر ماہر یا کم اہل عملے کے ذریعے انڈرگریجویٹ میڈیکل تعلیم فراہم کرنا مریضوں کی حفاظت کے لیے براہ راست خطرہ بن سکتا ہے۔


ایسوسی ایشن نے مطالبہ کیا کہ ملک بھر کے تمام نجی میڈیکل اور ڈینٹل کالجز کا فوری فرانزک آڈٹ کیا جائے، جس میں فیکلٹی کی اسناد، طبی سہولیات، انفراسٹرکچر اور دیگر بنیادی تعلیمی تقاضوں کا جائزہ لیا جائے۔


پی ایم اے نے زور دیا کہ ایکریڈیٹیشن اور مقررہ معیار پر پورا نہ اترنے والے اداروں کے خلاف سخت قانونی اور ضابطہ کار کارروائی کی جائے۔


ایسوسی ایشن نے نجی میڈیکل کالجز کی بھاری فیسوں کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ مالی رکاوٹوں کے باعث غریب اور متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے بہت سے ذہین اور مستحق طلبہ میڈیکل تعلیم کے مواقع سے محروم ہیں۔


پی ایم اے نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ پبلک سیکٹر کی میڈیکل یونیورسٹیوں کو ترجیح دی جائے، ان کے بجٹ میں اضافہ کیا جائے اور ذہین و کم مراعات یافتہ طلبہ کے لیے مزید نشستیں پیدا کی جائیں تاکہ میڈیکل تعلیم میں میرٹ اور مساوی مواقع کو یقینی بنایا جا سکے۔

اہم خبریں

فیچر اور تجزیے

اہم خبریں