اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے وفاقی وزیر صحت سید مصطفیٰ کمال اور قائم مقام وفاقی سیکرٹری صحت کیپٹن (ر) محمد محمود کو ہدایت کی ہے کہ وہ باری باری ایک ایک دن پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) میں گزار کر طبی، انتظامی اور مریضوں کی دیکھ بھال سے متعلق امور کی براہ راست نگرانی کریں۔
یہ فیصلہ وزیراعظم کی زیر صدارت صحت کے شعبے سے متعلق اعلیٰ سطحی اجلاس میں کیا گیا، جس میں اہم امور کا جائزہ لیا گیا اور متعدد فیصلوں کی منظوری دی گئی۔
انتظام کے تحت وزیر صحت اور قائم مقام سیکرٹری صحت متبادل دنوں میں پمز میں بیٹھیں گے۔ وزیر صحت طبی معاملات، علاج معالجے کی سہولیات اور مریضوں کو درپیش مسائل کا جائزہ لیں گے، جبکہ قائم مقام سیکرٹری صحت انتظامی اور طبی امور کی نگرانی کریں گے۔
یہ اقدام پمز کے مدر اینڈ چائلڈ ہیلتھ سینٹر کے نوزائیدہ بچوں کے وارڈ میں 26 اگست کو لگنے والی آگ کے بعد کیا گیا ہے، جس میں وارڈ میں موجود 15 میں سے 14 نومولود بچے جاں بحق ہوگئے تھے۔
عبوری تحقیقاتی رپورٹ آگ لگنے کی حتمی وجہ کا تعین نہیں کرسکی، تاہم اس میں داخلی برقی نظام یا کسی طبی آلے سے متعلق خرابی کو ممکنہ سبب قرار دیا گیا۔ رپورٹ میں آگ سے بچاؤ کے انتظامات، ہنگامی راستوں، انخلا کے منصوبے، بروقت اطلاع، فائر فائٹنگ کی تیاری، عملے کی حاضری اور مختلف شعبوں و سکیورٹی کے درمیان رابطے میں سنگین خامیوں کی نشاندہی کی گئی۔
تحقیقاتی رپورٹ کے بعد وزیراعظم نے پمز کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر رانا عمران سکندر، جوائنٹ ایگزیکٹو ڈائریکٹرز، شعبہ نیونیٹالوجی کے بعض سینئر حکام، سکیورٹی افسر اور سی ڈی اے ایمرجنسی سروسز کے سربراہ سمیت آٹھ افراد کو معطل کرنے کی منظوری دی تھی۔
وفاقی سیکرٹری صحت محمد اسلم غوری کو بھی سانحے کے فوری بعد عہدے سے ہٹا دیا گیا تھا، جس کے بعد پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس کے بی ایس 21 افسر کیپٹن (ر) محمد محمود کو تین ماہ یا مستقل سیکرٹری کی تعیناتی تک سیکرٹری صحت کا اضافی چارج دیا گیا۔
کیپٹن (ر) محمد محمود نے اس سے قبل پمز کے احاطے میں خیمہ دفتر قائم کیا تھا، تاکہ اسپتال کے انتظامی معاملات کی براہ راست نگرانی، مسائل کے حل اور مریضوں و عملے کی شکایات سنی جا سکیں۔ نئے انتظام کے تحت وزیر صحت اور قائم مقام سیکرٹری صحت دونوں باقاعدگی سے پمز میں موجود رہیں گے۔
حکومت کو تشویش ہے کہ پمز کے مسائل صرف آتشزدگی تک محدود نہیں۔ اسپتال طویل عرصے سے کمزور انتظامی ڈھانچے، اختیارات کی تقسیم، عملے کی کمی، ناقص مرمت و دیکھ بھال، خریداری میں تاخیر، سکیورٹی کے مسائل اور ملازمین کے مختلف گروپوں کے تنازعات کا شکار ہے۔
حکومت پمز کے انتظامی امور اور جوابدہی بہتر بنانے کے لیے ایک خودمختار بورڈ آف گورنرز کے قیام سمیت وسیع اصلاحات پر بھی غور کر رہی ہے۔ حکام کے مطابق پائیدار انتظامی ڈھانچے کے لیے پارلیمان سے قانون سازی درکار ہوسکتی ہے۔
وزیراعظم نے نرسری آتشزدگی کے ذمہ داروں کے خلاف محکمانہ اور فوجداری کارروائی کی ہدایت کرتے ہوئے پمز اور دیگر سرکاری اسپتالوں میں ایسے سانحات کی روک تھام کے لیے فوری اقدامات کرنے کا بھی حکم دیا ہے۔