ذیابیطس کے باعث ہزاروں پاؤں کٹنے سے بچانے کیلئے پاکستان میں 24 گھنٹے ہیلپ لائن قائم

کراچی: پاکستان میں ذیابیطس کے باعث سالانہ تقریباً تین لاکھ افراد کے پاؤں یا ٹانگیں کاٹے جانے کے پیش نظر مریضوں کو پاؤں کے زخم، السر اور انفیکشن کی صورت میں فوری طبی رہنمائی اور مناسب علاج تک رسائی فراہم کرنے کیلئے 24 گھنٹے ڈائبیٹک فٹ ہیلپ لائن قائم کردی گئی ہے۔

ماہرین کے مطابق پاکستان میں اوسطاً ہر گھنٹے 34 افراد ذیابیطس سے پیدا ہونے والی پیچیدگیوں کے باعث پاؤں یا ٹانگ کے کسی حصے سے محروم ہورہے ہیں، تاہم بروقت تشخیص، زخموں کے فوری علاج اور ماہرین تک رسائی کے ذریعے ان میں سے بڑی تعداد کو معذوری سے بچایا جاسکتا ہے۔

ہیلپ لائن 0330-6666774 کا اعلان بقائی انسٹی ٹیوٹ آف ڈائبیٹولوجی اینڈ اینڈوکرائنولوجی (BIDE) کے ڈائریکٹر پروفیسر زاہد میاں نے کراچی میں منعقدہ تین روزہ انٹرنیشنل کانفرنس آن ڈائبیٹیز اینڈ ڈائبیٹک فٹ 2026 کے دوران کیا، جو اتوار کو ملکی اور غیر ملکی ماہرین کی شرکت کے بعد اختتام پذیر ہوگئی۔

پروفیسر زاہد میاں کے مطابق پاکستان میں 30 لاکھ سے زائد افراد ذیابیطس کے باعث پاؤں کے زخموں کا شکار ہیں اور ایسے مریضوں کو ابتدائی مرحلے میں درست رہنمائی، بروقت ریفرل اور علاج میسر آجائے تو بڑی تعداد میں پاؤں اور ٹانگیں کٹنے سے بچائی جاسکتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہیلپ لائن چوبیس گھنٹے فعال رہے گی جہاں پاؤں میں زخم، السر، انفیکشن، سوجن یا کسی دوسری غیر معمولی علامت کی صورت میں مریضوں کو فوری رہنمائی فراہم کی جائے گی تاکہ حالت بگڑنے سے پہلے انہیں مناسب طبی مرکز یا ماہر ڈاکٹر تک پہنچایا جاسکے۔

پروفیسر زاہد میاں نے ڈائبیٹک فٹ کی روک تھام اور علاج کیلئے پاکستان کے پہلے دو سالہ پوسٹ گریجویٹ ڈپلومہ کے آغاز کا بھی اعلان کیا، جس کا پہلا بیچ جنوری 2027 میں شروع ہوگا۔ پروگرام کے ذریعے طبی ماہرین کو پاؤں کے زخموں کی جلد تشخیص، علاج اور پاؤں یا ٹانگ کٹنے سے بچانے کی خصوصی تربیت دی جائے گی۔

کانفرنس کی آرگنائزنگ کمیٹی کے چیئرمین ڈاکٹر محمد سیف الحق نے کہا کہ ذیابیطس کے مریض کے پاؤں پر معمولی زخم بھی نظرانداز کیے جانے کی صورت میں السر، شدید انفیکشن اور بالآخر پاؤں یا ٹانگ کاٹنے تک پہنچ سکتا ہے۔ مریضوں میں آگاہی، فوری علاج اور مختلف شعبوں کے ماہرین کے درمیان مربوط نظام ہزاروں افراد کو معذوری سے بچا سکتا ہے۔

کانفرنس میں پیش کیے گئے اعدادوشمار کے مطابق ذیابیطس کے تقریباً 18 فیصد مریض پاؤں کے السر کا شکار ہوتے ہیں جبکہ پاکستان میں تقریباً 43.2 فیصد مریضوں میں ڈائبیٹک پیریفرل نیوروپیتھی پائی جاتی ہے، جس کے باعث پاؤں کی حس کم یا ختم ہونے سے مریض کو زخم کا بروقت علم نہیں ہوپاتا۔

واسکولر اسپیشلسٹ ڈاکٹر فہد طارق نے بتایا کہ ڈائبیٹک فٹ محض معذوری نہیں بلکہ جان کیلئے بھی بڑا خطرہ ہے۔ ڈائبیٹک فٹ السر کے تقریباً 30 فیصد مریض پانچ سال کے اندر انتقال کرجاتے ہیں جبکہ معمولی ایمپیوٹیشن کے بعد پانچ سالہ شرح اموات 40 فیصد سے زیادہ اور بڑی ایمپیوٹیشن کے بعد 50 فیصد سے تجاوز کرجاتی ہے۔

بین الاقوامی ڈائبیٹک فٹ ماہر پروفیسر ذوالفقار جی عباس نے کہا کہ دنیا کے تقریباً 80 فیصد ذیابیطس کے مریض کم اور متوسط آمدنی والے ممالک میں رہتے ہیں جہاں بیماری اور اس کی پیچیدگیوں کے مقابلے میں وسائل محدود ہیں۔ انہوں نے مریضوں کی آگاہی اور طبی عملے کی تربیت کو پاؤں کٹنے سے بچانے کیلئے بنیادی اہمیت کا حامل قرار دیا۔

کانفرنس میں مصنوعی ذہانت کے استعمال پر ڈاکٹر سہیل چغتائی نے اے آئی سے لیس ڈیجیٹل ڈائبیٹک فٹ کلینک کا تصور پیش کیا، جس کے تحت مریض پاؤں کے زخم کی تصاویر اپ لوڈ کرکے اس کی نوعیت، سائز اور شدت کا ابتدائی تجزیہ حاصل کرسکیں گے جبکہ زیادہ خطرے والے مریضوں کو فوری طور پر متعلقہ ماہرین تک پہنچانے میں مدد مل سکے گی۔

پروفیسر طارق وسیم نے کنٹینیوس گلوکوز مانیٹرنگ (CGM) کو شوگر کے بہتر کنٹرول کیلئے اہم قرار دیا جبکہ پروفیسر قمر مسعود نے کہا کہ اس ٹیکنالوجی سے مریضوں میں اپنے گلوکوز کی سطح اور اس میں ہونے والی تبدیلیوں کے بارے میں آگاہی بڑھتی ہے۔ ڈاکٹر صومیہ اقتدار نے کہا کہ سی جی ایم سے اندازوں کے بجائے شواہد اور مسلسل حاصل ہونے والے ڈیٹا کی بنیاد پر علاج کے فیصلے کرنے میں مدد ملتی ہے۔

پاکستان اینڈوکرائن سوسائٹی کے صدر ڈاکٹر علی اصغر نے ذیابیطس کے مریضوں کی جسمانی صحت کے ساتھ ذہنی صحت پر بھی توجہ دینے پر زور دیا۔ ڈاکٹر خرم دانیال نے بتایا کہ ذیابیطس اور گردوں کے امراض کے بڑھتے بوجھ کے باعث صرف کراچی میں ڈائیلاسز مراکز کی تعداد 100 سے تجاوز کرچکی ہے جبکہ ڈاکٹر عروج ریاض نے ماہرین ذیابیطس پر زور دیا کہ وہ مریضوں کو مناسب وقت دیں اور ان کے مسائل تفصیل سے سنیں۔

تین روزہ کانفرنس میں بین الاقوامی ماہرین کی بڑی تعداد نے شرکت کی جن میں برطانیہ کی پروفیسر فرانسس گیم، فرانس کے پروفیسر ایرک سینیویل، اٹلی کے پروفیسر روبرٹو انیچینی، تنزانیہ کے پروفیسر ذوالفقار جی عباس، کویت کی ڈاکٹر سلمیٰ خریبط، امریکا کے ڈاکٹر بیجان نجفی، ڈاکٹر ولبرٹ وان لار، ڈاکٹر ہانی بدحدح، ڈاکٹر ولیم اکی کی اور دیگر ماہرین شامل تھے۔

پاکستانی ماہرین میں پروفیسر جاوید اکرم، پروفیسر نجم الاسلام، پروفیسر جمیل احمد، پروفیسر ضیاء الرحمٰن، پروفیسر بشیر اے سومرو، ڈاکٹر صائمہ عسکری، پروفیسر افتخار علی شاہ، ڈاکٹر زاہد علی فہیم، پروفیسر کمال یوسف، پروفیسر عبدالرشید، ڈاکٹر نعمان القمری، ڈاکٹر وریام صالح، ڈاکٹر عمار پیرزادہ، ڈاکٹر فہد میمن، ڈاکٹر رضوان خان اور دیگر ماہرین نے ذیابیطس، ڈائبیٹک فٹ، اعصابی پیچیدگیوں، انفیکشن، خون کی شریانوں کی بیماری، زخموں کے علاج اور پاؤں کٹنے سے بچانے کے جدید طریقوں پر اظہار خیال کیا۔

اہم خبریں

فیچر اور تجزیے

اہم خبریں