سندھ میں پرانے اسپتالوں کا سروے، بجلی کی لائنوں کی مرمت اور بریکرز تبدیل کریں گے، وزیر صحت سندھ

کراچی: وزیر صحت سندھ ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو نے اسلام آباد کے پمز اسپتال میں بچوں کی اموات کے واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے وزیر صحت نے کہا کہ سندھ کے پرانے اسپتالوں کا سروے کیا جا رہا ہے۔

انہوں نےاس بات کی تصدیق کی کہ سندھ کے اسپتالوں کا مینٹیننس بجٹ روکا ہوا تھا جو اب جاری کردیں گے، اسپتالوں میں بجلی کی لائنوں اور بریکرز کو تبدیل کیا جا رہا ہے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ اسپتالوں میں آگ بجھانے کے آلات نصب ہیں جبکہ فائر ڈرلز بھی کرائی جائیں گی۔

سندھ سیکریٹریٹ میں سیکریٹری صحت طاہر سانگی کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو نے کہا کہ صوبے میں نرسز کی شدید کمی کا سامنا ہے، بڑی تعداد میں نرسز بہتر مواقع کے لیے بیرون ملک جا رہی ہیں، جس کے باعث نرسنگ کے شعبے میں افرادی قوت کی کمی پوری کرنے کے لیے نئی پالیسی اور قانون سازی پر کام جاری ہے۔
نرسنگ کالجز کے لیے مشترکہ داخلہ پالیسی متعارف کرائی جا رہی ہے تاکہ نرسنگ کی تعلیم اور تربیت کا معیار بہتر بنایا جا سکے۔

انہوں نے بتایا کہ نرسنگ کے شعبے میں بہتری کے لیے ایشین ڈویلپمنٹ بینک کے ساتھ بھی بات چیت جاری ہے۔ اس وقت سرکاری اور نجی اداروں سے تقریباً 5 ہزار نرسز فارغ التحصیل ہو رہی ہیں، تاہم اس تعداد کو مزید بڑھانے کی ضرورت ہے۔

وزیر صحت کا کہنا تھا کہ نرسز کا تعلق عموماً غریب گھرانوں سے ہوتا ہے اور بہتر مالی مواقع کی وجہ سے وہ بیرون ملک چلی جاتی ہیں۔ حکومت نرسنگ کے شعبے کے لیے ایسی پالیسی تشکیل دے رہی ہے جس سے صوبے میں نرسز کی تعداد اور معیار دونوں میں بہتری لائی جا سکے۔ پائلٹ پروجیکٹ کے لیے دو مراکز بھی قائم کیے جا رہے ہیں۔

ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو نے بتایا کہ جناح اسپتال اور قومی ادارہ برائے امراض قلب میں ملازمین کی بھرتی کی اجازت دے دی گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ سندھ کی تمام ڈسپنسریاں پی پی ایچ آئی کے حوالے کی گئی ہیں، تاہم پی پی ایچ آئی کو زیادہ فنڈز فراہم نہیں کیے جا رہے۔

وزیر صحت نے سندھ انسٹی ٹیوٹ آف چائلڈ ہیلتھ اینڈ نیونیٹولوجی (SICHN) کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ ادارہ بچوں کے علاج کے شعبے میں اچھا کام کر رہا ہے، جبکہ سندھ انسٹی ٹیوٹ آف یورولوجی اینڈ ٹرانسپلانٹیشن کو بھی مزید وسعت دی گئی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ قومی ادارہ برائے امراض قلب میں او پی ڈی کے لیے نیا بلاک تعمیر کیا گیا ہے، جبکہ ٹراما سینٹر میں ویسکولر سرجری کا آغاز بھی ہو چکا ہے۔

وزیر صحت نے کہا کہ سول اسپتال کراچی کا ماسٹر پلان تیار کر لیا گیا ہے اور میڈیکل بلاک کی تعمیر رواں سال شروع ہو گئی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اسپتالوں میں ریڈیالوجی کے نظام کو آؤٹ سورس کرنے کی طرف بھی جا رہے ہیں۔ جناح اسپتال میں اسٹروک سے بچاؤ کے لیے یونٹ قائم کیا جا رہا ہے اور اس مقصد کے لیے مطلوبہ دوا بھی دستیاب ہے۔

ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو نے بتایا کہ سندھ حکومت اپنا ڈیٹا سینٹر قائم کرے گی، جبکہ رواں سال صحت کے بجٹ میں 30 فیصد کمی ہوئی ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت فراہم کیا جانے والا علاج سرکاری اسپتالوں میں فراہم کیے جانے والے علاج کے معیار کے مطابق ہی ہوگا۔

وزیر صحت نے کہا کہ ضلعی اسپتالوں کو بہتر انداز میں چلانے کے لیے پوسٹ گریجویٹ (PG) ڈاکٹرز کو تعینات کرنا ہوگا، جس سے ان اسپتالوں کی کارکردگی میں بہتری آئے گی۔

انہوں نے کہا کہ این آئی سی ایچ پر مریضوں کا بوجھ کم کرنے کے لیے سندھ انسٹی ٹیوٹ آف چائلڈ ہیلتھ اینڈ نیونیٹولوجی کو مزید بہتر اور مضبوط بنانا ہوگا۔

ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو نے کہا کہ کراچی میں میڈیکو لیگل افسران کی کمی کا سامنا ہے۔ میڈیکو لیگل افسران کے تبادلوں کے لیے اکثر سفارشیں آتی رہتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ عدالتی کارروائی اور دیگر امور کی وجہ سے ڈاکٹرز میڈیکو لیگل شعبے میں جانے کو ترجیح نہیں دیتے، اسی لیے حکومت میڈیکو لیگل کے لیے الگ کیڈر بنانے جا رہی ہے۔

وزیر صحت نے سینئر ڈاکٹرز کی سرکاری اسپتالوں میں عدم موجودگی اور نجی پریکٹس کے حوالے سے شکایت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سینئر ڈاکٹرز اسپتالوں میں کم نظر آتے ہیں اور نجی پریکٹس کرتے ہیں۔

سندھ ہیلتھ کیئر کمیشن کی کارکردگی پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو نے کہا کہ وہ کمیشن کی کارکردگی سے مطمئن نہیں ہیں۔

انہوں نے واضح کیا کہ سندھ ہیلتھ کیئر کمیشن ایک خودمختار ادارہ ہے اور ان کے ماتحت نہیں، تاہم کمیشن کے حوالے سے قانون سازی کی جا رہی ہے۔

وزیر صحت کا کہنا تھا کہ حکومت سندھ صحت کے شعبے میں موجود مسائل کے حل، طبی عملے کی کمی پوری کرنے اور سرکاری اسپتالوں میں سہولیات بہتر بنانے کے لیے مختلف اقدامات کر رہی ہے۔

اہم خبریں

فیچر اور تجزیے

اہم خبریں