کراچی: سندھ کے بڑے سرکاری اسپتالوں میں مینٹیننس اور مرمت کے لیے مختص بجٹ تاحال جاری نہ ہونے کے باعث ضروری مرمتی کام متاثر ہونے لگے، جبکہ خراب الیکٹریکل اور الیکٹرانک آلات کی بروقت مرمت نہ ہونے سے اسپتالوں میں حادثات کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔
ذرائع کے مطابق جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر (جے پی ایم سی) کے مینٹیننس اور مرمت کے لیے 18 کروڑ روپے جبکہ سول اسپتال کے لیے 20 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں، تاہم تاحال یہ بجٹ جاری نہیں کیا جاسکا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ مینٹیننس اور ریپئرنگ کا بجٹ دستیاب نہ ہونے کے باعث اسپتالوں میں خراب الیکٹریکل اور الیکٹرانک آلات کی مرمت میں مشکلات کا سامنا ہے۔ متعدد ضروری آلات اور تنصیبات کی بروقت مرمت نہ ہونے سے نہ صرف روزمرہ طبی خدمات متاثر ہونے کا خدشہ ہے بلکہ کسی بھی وقت حادثہ پیش آنے کا خطرہ بھی موجود ہے۔
ذرائع کے مطابق محکمہ صحت کی جانب سے کمیٹی کے قیام کے بعد اسپتالوں کو مینٹیننس اور ریپئرنگ کا بجٹ جاری کرنے کا کہا گیا تھا، تاہم تاحال نہ کمیٹی قائم ہوسکی اور نہ ہی مختص بجٹ جاری کیا گیا ہے۔
اس صورتحال میں سرکاری اسپتالوں کی عمارتوں، بجلی کے نظام، الیکٹریکل تنصیبات اور دیگر ضروری آلات کی دیکھ بھال اور مرمت کا کام متاثر ہورہا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اسپتالوں میں فائر سیفٹی سمیت دیگر حفاظتی انتظامات کے لیے بھی برقی اور تکنیکی نظام کا فعال ہونا ضروری ہے۔ مینٹیننس کا کام بروقت نہ ہونے کی صورت میں معمولی خرابی بھی بڑے حادثے کا سبب بن سکتی ہے۔
محکمہ صحت کی جانب سے بجٹ کے اجرا کے لیے کمیٹی تشکیل دینے کی یقین دہانی کے باوجود عملی پیش رفت نہ ہونے پر اسپتال انتظامیہ اور طبی حلقوں میں تشویش پائی جاتی ہے۔
متعلقہ حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ سرکاری اسپتالوں کے لیے مختص مینٹیننس بجٹ فوری جاری کیا جائے اور ضروری مرمتی کام بلا تاخیر مکمل کیے جائیں تاکہ مریضوں، ڈاکٹروں اور طبی عملے کو ممکنہ حادثات سے محفوظ رکھا جاسکے۔