کراچی: محکمہ تعلیم سندھ نے طلبہ کی حاضری اور تعلیمی ریکارڈ کو ڈیجیٹل بنانے کی جانب اہم پیش رفت کرتے ہوئے اسٹوڈنٹ اٹینڈنس مانیٹرنگ اینڈ ریڈریس سسٹم (SAMRS) کا دائرہ کار 3,481 سرکاری اسکولوں تک وسیع کر دیا۔
صوبائی وزیر تعلیم سید سردار علی شاہ کے مطابق 10 اگست 2026 تک سندھ کے 3,481 سرکاری اسکول SAMRS نظام پر آن بورڈ ہو چکے ہیں، جبکہ صوبے کے تمام سرکاری اسکولوں کو اپریل 2027 تک اس نظام میں شامل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
محکمہ تعلیم کے مطابق SAMRS کے تحت ہر طالب علم کا منفرد ڈیجیٹل تعلیمی پروفائل تشکیل دیا جائے گا، جس میں حاضری، تعلیمی کارکردگی، امتحانی ریکارڈ، گریڈ پروموشن اور اسکول منتقلی سمیت طالب علم کے تعلیمی سفر کا ریکارڈ موجود ہوگا۔
نظام کے ذریعے طلبہ کی مسلسل غیر حاضری کی بروقت نشاندہی کی جا سکے گی اور ایسے بچوں کی شناخت میں بھی مدد ملے گی جو اسکول چھوڑنے کے خطرے سے دوچار ہیں۔ غیر حاضری کی صورت میں والدین یا متعلقہ افراد کو ایس ایم ایس، ای میل اور واٹس اپ کے ذریعے الرٹس بھیجنے کی سہولت بھی موجود ہوگی۔
ایس اے ایم آر ایس میں طلبہ کی رجسٹریشن، طلبہ اور اسٹاف کی حاضری، منفرد اسٹوڈنٹ آئی ڈی اور کیو آر کوڈز کے اجرا سمیت سرٹیفکیٹس کی تیاری اور روزانہ، ماہانہ و سالانہ رپورٹس تیار کرنے کی سہولت شامل ہے۔
محکمہ تعلیم کے مطابق جیو فینسڈ حاضری اور آف لائن فیشل ریکگنیشن کی سہولت بھی نظام کا حصہ ہے، جبکہ کمزور انٹرنیٹ کنیکٹیویٹی والے علاقوں کے لیے آف لائن فعالیت متعارف کرائی گئی ہے۔
نظام میں اسٹوڈنٹس اٹینڈ ریڈریس کے ذریعے طلبہ کی غیر حاضری کی وجوہات جاننے اور ان کے حل کے لیے بروقت اقدامات کی سہولت فراہم کی گئی ہے۔ حاضری سے متعلق اصلاحی اقدامات کے لیے Student Attendance Redress Procedures بھی نوٹیفائی کیے جا چکے ہیں۔
طلبہ کی منفرد شناخت کے لیے محکمہ اسکول ایجوکیشن، لوکل گورنمنٹ اور نادرا کے درمیان تعاون بھی منصوبے کا حصہ ہے، جبکہ لوکل گورنمنٹ کے تعاون سے یونین کونسلز کے ذریعے بچوں کی پیدائش اور چائلڈ رجسٹریشن کے عمل کو بھی سہل بنایا جائے گا۔
محکمہ تعلیم کے مطابق SAMRS پالیسی 2026 کی منظوری سندھ کابینہ نے مارچ 2026 میں دی تھی، جبکہ مانیٹرنگ افسران اور مانیٹرنگ اسسٹنٹس کی ٹرینر آف ٹرینر بھی مکمل کر لی گئی ہے۔