کراچی: پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کے پمز اسپتال میں آتشزدگی کے واقعے کے بعد کراچی کے بڑے سرکاری اسپتالوں میں ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے انتظامات پر بھی سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ کراچی کے اسپتالوں سے حاصل کی گئی معلومات کے مطابق شہر کے بعض بڑے سرکاری اسپتالوں میں فائر سیفٹی کے بنیادی انتظامات ناکافی ہیں جبکہ فائر الارم اور ایمرجنسی ایگزٹ بھی موجود نہیں یا غیر مؤثر ہیں اسی طرح اسپتالوں میں عملے کی تربیت کے لیے فائر ڈرلز جیسے اہم اقدامات بھی نہیں ہوتیں۔
کراچی کے بڑے سرکاری طبی مراکز میں روزانہ ہزاروں مریض اور ان کے تیماردار موجود ہوتے ہیں، تاہم کسی بھی ہنگامی صورتحال، خصوصاً آگ لگنے کی صورت میں محفوظ انخلا کے لیے مطلوبہ انتظامات پر سوالات موجود ہیں۔
کے ایم سی کے سب سے بڑے طبی مرکز عباسی شہید اسپتال میں صورتحال خاصی تشویشناک سامنے آئی ہے۔اسپتال ذرائع کے مطابق اسپتال کی ایمرجنسی میں روزانہ 500 سے 600 جبکہ او پی ڈی میں ایک ہزار سے زائد مریض آتے ہیں، لیکن پورے اسپتال میں صرف 13 فائر ایکسٹنگوشرز موجود ہیں۔
اسپتال ذرائع کے مطابق اسپتال میں فائر الارم سسٹم بھی موجود نہیں جبکہ ہنگامی اخراج کے لیے کوئی مخصوص ایمرجنسی ایگزٹ بھی نہیں بنایا گیا۔ کسی حادثے کی صورت میں مریضوں اور عملے کو عام سیڑھیوں کے ذریعے ہی باہر نکلنا ہوگا۔
اسپتال میں فائر سیفٹی سے متعلق تربیت اور عملی مشقیں بھی نہیں ہوتیں۔
پاور بیک اپ کے لیے اسپتال میں دو جنریٹرز موجود ہیں، جن میں سے ایک بیک اپ کے طور پر رکھا گیا ہے۔
عباسی شہید اسپتال کے ایم ایس ڈاکٹر ساجد کا کہنا ہے کہ اسپتال میں فائر سسٹم سے متعلق مزید اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
دوسری جانب پمز اسپتال آتشزدگی کے بعد جناح اسپتال انتظامیہ نے بھی فائر اینڈ سیفٹی انتظامات کا جائزہ لینے کے لیے اسسٹنٹ ڈائریکٹر سیف سومرو کی سربراہی میں کمیٹی قائم کردی ہے۔ کمیٹی میں نوجوان اور مستعد عملے کو شامل کیا گیاہے جنہیں فائر سیفٹی سے متعلق تربیت بھی دی جائے گی
تاہم جناح اسپتال سے حاصل شدہ معلومات کے مطابق جناح اسپتال کے متعدد فائر ایکسٹنگوشرز غیر فعال ہونے کا انکشاف ہوا ہے، جبکہ اتنے بڑے اسپتال میں فائر الارم سسٹم بھی موجود نہیں۔
اسپتال حکام کے مطابق جناح اسپتال میں آخری فائر ڈرل 2017 میں ہوئی تھی، یعنی تقریباً نو سال سے باقاعدہ فائر ڈرل نہیں کرائی گئی۔
جناح اسپتال کے جوائنٹ ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر سلیمان کا کہنا تھا کہ ہر وارڈ میں تقریباً ایک فائر ایکسٹنگوشر موجود ہے، جناح اسپتال میں لگ بھگ 600 کے قریب آگ بجھانے کے آلات مختلف شعبہ جات میں نصب ہیں، انہوں نے بتایا کہ جناح اسپتال میں تین بلند عمارتیں ہیں جو نئی تعمیرات ہیں، ان عمارتوں میں ہنگامی اخراج کا راستہ، فائر سیفٹی سسٹم اور آگ بجھانے کے تمام آلات موجود ہیں، پرانی عمارتیں سنگل اسٹوریز ہیں اور کشادہ ہیں ان میں ایمرجنسی ایگزٹ موجود نہیں ہے۔ انہوں نے بتایاکہ اسپتال میں ابھی فائر فائٹنگ کمیٹی قائم کردی ہے جس میں نوجوان ملازمین شامل کیے ہیں جنہیں تربیت بھی دی جائے گی۔
سول اسپتال کے اے ایم ایس جنرل ڈاکٹر نظام الدین شیخ نے بتایا کہ سول اسپتال کے 56 شعبہ جات میں 200 کے قریب آگ بجھانے کے آلات موجود ہیں جو باقائدہ سے ری فل کیے جاتے ہیں، بچوں کی ایمرجنسی میں 17 فائر اسٹنگوشرز موجود ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ اسپتال میں اونچی عمارتیں موجود نہیں ایک منزلہ عمارتیں کھلی راہداریوں پر مشتمل ہیں تاہم اسپتال میں کوئی ہنگامی اخراج کا راستہ موجود نہیں ہے۔ اسپتال میں باقاعدہ ڈرلز نہیں ہوتیں لیکن عملے کو فائراسٹنگوشرز کے استعمال کی تربیت دی جاتی ہے۔
بچوں کے سب سے بڑے اسپتال این آئی سی ایچ میں ہنگامی اخراج اور فائر سیفٹی سسٹم موجود نہیں ہے تاہم آگ بجھانے والے آلات نصب ہیں لیکن بیشتر ایکسپائر ہیں اور عملے کو ان آلات کو چلانے کی تربیت نہیں دی گئی۔
ماہرین کے مطابق اسپتالوں میں فائر سیفٹی محض آگ بجھانے والے آلات رکھنے تک محدود نہیں ہونی چاہیے، بلکہ فائر الارم، ایمرجنسی ایگزٹ، تربیت یافتہ عملہ، باقاعدہ فائر ڈرلز اور محفوظ انخلا کا مکمل نظام ضروری ہے۔
کراچی کے اسپتالوں کی موجودہ صورتحال اس بات پر سوال اٹھاتی ہے کہ اگر کسی بڑے اسپتال میں اچانک آگ لگ جائے تو سینکڑوں مریضوں، خصوصاً انتہائی نگہداشت، آپریشن تھیٹرز اور دیگر حساس شعبوں میں موجود مریضوں کو محفوظ طریقے سے باہر کیسے نکالا جائے گا۔