اسلام آباد: پاکستان میں 2012 سے اب تک سرکاری اور نجی اسپتالوں میں آتشزدگی کے کم از کم 17 واقعات میں 33 نومولود اور شیر خوار بچوں سمیت کم از کم 41 افراد جاں بحق جبکہ درجنوں مریض، طبی عملہ اور دیگر افراد زخمی ہوئے ہیں۔
دستیاب ریکارڈ کے جائزے سے معلوم ہوتا ہے کہ اسپتالوں میں آگ لگنے کے بیشتر واقعات میں بجلی کے نظام میں خرابی، شارٹ سرکٹ، ایئرکنڈیشننگ سسٹم، آلات کی ناقص دیکھ بھال، آگ بجھانے کے ناکافی انتظامات اور ہنگامی صورتحال میں مریضوں کے انخلا کی کمزور تیاری جیسے عوامل سامنے آتے رہے ہیں۔
پاکستان میں صحت کے مراکز میں آتشزدگی کے واقعات کا کوئی مرکزی عوامی ریکارڈ موجود نہیں، اس لیے اصل تعداد اس سے زیادہ ہوسکتی ہے جبکہ کئی چھوٹے واقعات صرف مقامی سطح پر رپورٹ ہوتے ہیں۔
بدھ کو پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) اسلام آباد کے مدر اینڈ چائلڈ ہیلتھ وارڈ میں لگنے والی آگ، جس میں کم از کم 14 نومولود جاں بحق ہوئے، گزشتہ کم از کم 14 سال کے دوران کسی پاکستانی اسپتال میں آتشزدگی کا سب سے مہلک واقعہ ہے۔
پمز سانحے سے قبل سب سے زیادہ ہلاکتیں جون 2024 میں ساہیوال ٹیچنگ اسپتال کے پیڈیاٹرک وارڈ میں آتشزدگی کے نتیجے میں ہوئی تھیں جہاں 11 شیر خوار بچے جان کی بازی ہار گئے تھے۔
اس واقعے کی تحقیقات میں انکشاف ہوا تھا کہ اسپتال میں موجود آگ بجھانے والے آلات یا تو زائد المیعاد تھے یا قابل استعمال نہیں تھے جبکہ ہنگامی صورتحال کے دوران بچوں کی منتقلی میں طے شدہ طریقہ کار پر بھی عمل نہیں کیا گیا تھا۔
ابتدائی طور پر آگ لگنے کی وجہ وارڈ کے ایئرکنڈیشننگ سسٹم میں شارٹ سرکٹ بتائی گئی تھی۔ بعد ازاں وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے انکوائری رپورٹس اور ویڈیو شواہد کا جائزہ لینے کے بعد اسپتال کے سینئر حکام کے خلاف کارروائی کا حکم دیا تھا۔
جون 2012 میں سروسز اسپتال لاہور کی نرسری میں آگ لگنے سے سات نومولود جاں بحق جبکہ ایک درجن سے زائد بچے شدید جھلس گئے تھے۔ ابتدائی تحقیقات میں اس واقعے کی وجہ بھی شارٹ سرکٹ قرار دی گئی تھی۔
اسی اسپتال میں جون 2020 میں سرجیکل ایمرجنسی بلڈنگ کے آپریشن تھیٹر میں ایک اور بڑی آگ لگی جس کے نتیجے میں ایک خاتون جاں بحق جبکہ ڈاکٹروں، پیرامیڈیکس اور مریضوں سمیت آٹھ افراد زخمی ہوئے تھے۔
جنوری 2020 میں کراچی کے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف چائلڈ ہیلتھ (این آئی سی ایچ) میں ایک انکیوبیٹر میں آگ لگنے سے نومولود بچی جاں بحق ہوگئی تھی۔ پولیس اور محکمہ صحت کی تحقیقات میں واقعے کو بجلی کی چنگاری یا شارٹ سرکٹ سے منسلک کیا گیا تھا۔
فروری 2024 میں سندھ گورنمنٹ اسپتال لیاقت آباد کراچی کے ایمرجنسی بلاک میں آگ لگنے سے چار اسپتال ملازمین، جن میں پیرامیڈیکل اسٹاف بھی شامل تھا، جاں بحق ہوئے جبکہ بعد کی بعض رپورٹس میں ہلاکتوں کی تعداد پانچ بتائی گئی۔
سرکاری انکوائری میں انکشاف ہوا تھا کہ اسپتال میں فائر فائٹنگ سسٹم موجود نہیں تھا جبکہ بجلی کے نظام میں بھی سنگین خامیاں پائی گئی تھیں۔ انکوائری نے ابتدائی طور پر سامنے آنے والے سلنڈر دھماکے کے دعوے کو مسترد کرتے ہوئے برقی چنگاری کو ممکنہ وجہ قرار دیا تھا۔
نجی اسپتال بھی ایسے واقعات سے محفوظ نہیں رہے۔ جنوری 2015 میں ڈیرہ غازی خان کے ایک نجی اسپتال میں آگ لگنے سے ایک شخص جاں بحق ہوا جبکہ جنوری 2022 میں کراچی کی ایم اے جناح روڈ پر واقع ایک نجی اسپتال میں آتشزدگی کے نتیجے میں ویلڈر سمیت دو کارکن جاں بحق اور ایک شدید زخمی ہوا تھا۔
جولائی 2016 میں دادو کے نجی سٹی میڈیکل سینٹر میں گیس سلنڈر پھٹنے سے 20 مریض زخمی ہوئے تھے، جن میں زیادہ تر حاملہ خواتین تھیں، جبکہ دو نومولود سمیت 11 افراد کی حالت تشویشناک بتائی گئی تھی۔
دیگر واقعات میں 2013 میں الائیڈ اسپتال فیصل آباد کے پیڈیاٹرک وارڈ، 2014 میں نشتر اسپتال ملتان کے ایمرجنسی بلاک، سر گنگا رام اسپتال لاہور اور ڈی ایچ کیو اسپتال راولپنڈی میں آتشزدگی کے واقعات شامل ہیں۔
چلڈرن اسپتال لاہور میں 2022، ضیاء الدین اسپتال کراچی میں 2025 اور رواں سال جناح اسپتال کراچی میں بھی بڑی آگ لگنے کے واقعات رپورٹ ہوئے تاہم ان میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا اور متعدد مریضوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنا پڑا۔
دستیاب ریکارڈ کے مطابق 2012 سے اب تک اسپتالوں میں آتشزدگی کے واقعات میں کم از کم 33 نومولود اور شیر خوار بچے اور آٹھ بالغ افراد جان سے جاچکے ہیں۔ اگر سندھ گورنمنٹ اسپتال لیاقت آباد کے واقعے میں بعد میں رپورٹ ہونے والی پانچویں ہلاکت کو شامل کیا جائے تو مجموعی تعداد 42 بنتی ہے۔