سندھ میں ریبیز سے اموات کی تعداد 21 ہوگئی، کراچی میں ایک اور نوجوان جاں بحق

کراچی: سندھ میں رواں سال ریبیز سے ہونے والی اموات کی تعداد 21 ہوگئی ہے، کراچی میں 24 سالہ نوجوان شہریار ریبیز کے باعث جاں بحق ہوگیا، جبکہ جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر (جے پی ایم سی) میں 11 سالہ بچے کو ریبیز انسیفلائٹس کے مشتبہ کیس کے طور پر داخل کرلیا گیا ہے۔

محکمہ صحت کے حکام کے مطابق سندھ میں رپورٹ ہونے والی 21 اموات میں سے 13 اموات کراچی کے انڈس اسپتال، 7 جناح اسپتال جبکہ ایک ہلاکت موت انڈس اسپتال بدین میں میں رپورٹ ہوئی ہے۔

کراچی کے علاقے قیوم آباد کا رہائشی 24 سالہ شہریار تقریباً دو ماہ قبل کتے کے کاٹنے کا شکار ہوا تھا، تاہم ڈاکٹروں کے مطابق اسے کتے کے کاٹنے کے بعد ریبیز سے بچاؤ کی پوسٹ ایکسپوژر ویکسین نہیں لگوائی گئی۔

جے پی ایم سی کے انچارج شعبہ حادثات ڈاکٹر عرفان صدیقی کے مطابق شہریار کو جمعرات کی صبح تقریباً 3 بج کر 40 منٹ پر انتہائی تشویشناک حالت میں ایمرجنسی لایا گیا۔

ڈاکٹر عرفان صدیقی کے مطابق شہریار تقریباً ایک ہفتے سے چڑچڑاپن، بے چینی اور ہیجان میں مبتلا تھا، جبکہ اس میں ہائیڈروفوبیا یعنی پانی پینے سے خوف یا پانی پینے میں دشواری کی علامت بھی ظاہر ہوچکی تھی۔

ڈاکٹر عرفان صدیقی نے بتایا کہ مریض کی طبی علامات ریبیز انسیفلائٹس سے مطابقت رکھتی تھیں۔ اسپتال پہنچنے کے بعد اس کی حالت تیزی سے بگڑی اور وہ تقریباً پانچ گھنٹے بعد صبح 9 بجے دورانِ علاج انتقال کرگیا۔

دوسری جانب جناح اسپتال میں چار ماہ قبل کتے کے کاٹنے کا شکار ہونے والے 11 سالہ بچے میں بھی ریبیز انسیفلائٹس کا مشتبہ کیس سامنے آیا ہے۔

اس کیس کو اس لیے اہم قرار دیا جارہا ہے کہ بچے کے اہلخانہ کا دعویٰ ہے کہ کتے کے کاٹنے کے بعد بچے نے ریبیز سے بچاؤ کے لیے پوسٹ ایکسپوژر پروفیلیکسی (PEP) کا مکمل کورس کیا تھا۔

اسپتال حکام کے مطابق بچے کو بدھ کی شب گزشتہ دو سے تین روز سے جاری بخار اور چڑچڑاپن جبکہ تقریباً ایک روز سے کھانے پینے میں دشواری کی شکایت کے ساتھ ایمرجنسی لایا گیا۔

ایمرجنسی میں ابتدائی طبی امداد کے بعد نیورولوجی ٹیم کو معائنے کے لیے طلب کیا گیا۔ ڈاکٹروں نے ابتدائی طور پر ریبیز انسیفلائٹس کو ممکنہ تشخیص میں شامل کیا، جس کے بعد بچے کو مزید معائنے اور علاج کے لیے نیورولوجی ٹیم کی نگرانی میں ایف جی او وارڈ میں داخل کرلیا گیا۔

ڈاکٹرز کے مطابق بچے میں ریبیز کی حتمی تشخیص کے لیے مزید طبی جائزے کی ضرورت ہے، جبکہ کتے کے کاٹنے کے واقعے اور مبینہ طور پر مکمل کی گئی پوسٹ ایکسپوژر ویکسینیشن کے حوالے سے بھی صورتحال کا جائزہ لیا جائے گا۔

ڈاکٹر عرفان صدیقی نے شہریوں پر زور دیا کہ کتے یا کسی بھی ایسے جانور کے کاٹنے یا نوچنے کی صورت میں جس سے ریبیز کا خدشہ ہو، فوری طور پر طبی امداد حاصل کی جائے اور ڈاکٹر کے مشورے کے مطابق پوسٹ ایکسپوژر پروفیلیکسی مکمل کی جائے۔

ڈاکٹرز کے مطابق ریبیز سے بروقت اور مناسب پوسٹ ایکسپوژر علاج کے ذریعے بچاؤ ممکن ہے، تاہم ایک مرتبہ بیماری کی طبی علامات ظاہر ہوجائیں تو ریبیز تقریباً ہمیشہ جان لیوا ثابت ہوتی ہے۔

اہم خبریں

فیچر اور تجزیے

اہم خبریں