لانڈھی سوشل سیکیورٹی اسپتال میں ایچ آئی وی کیسز کی تحقیقات کے لیے 5 رکنی انکوائری کمیٹی قائم، 7 روز میں رپورٹ طلب

کراچی: سندھ ایمپلائز سوشل سیکیورٹی انسٹیٹیوشن (SESSI) نے سوشل سیکیورٹی لانڈھی اسپتال میں سامنے آنے والے ایچ آئی وی کیسز کی جامع تحقیقات کے لیے پانچ رکنی انکوائری کمیٹی قائم کر دی ہے، جسے سات روز کے اندر اپنی رپورٹ سفارشات سمیت پیش کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

جاری کردہ آفس آرڈر کے مطابق کمیٹی کی سربراہی چیف میڈیکل آفیسر ڈاکٹر نائلہ ظہیر کریں گی، جبکہ ڈاکٹر رضوان اشرف، ڈاکٹر راشد حسن علوی، ڈائریکٹر ایڈمنسٹریشن (میڈیکل) ڈاکٹر تنویر قادر خانزادہ اور ڈپٹی ڈائریکٹر آڈٹ محمد طاہر کمیٹی کے ارکان ہوں گے۔

نوٹیفکیشن کے مطابق کمیٹی لانڈھی سوشل سیکیورٹی اسپتال میں رپورٹ ہونے والے ایچ آئی وی کیسز کی مکمل چھان بین کرے گی، متاثرہ افراد کی درست تعداد، ان کی کیٹیگریز، لیبارٹری اور کنفرمیٹری ٹیسٹ رپورٹس کی تصدیق کرے گی۔
کمیٹی کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ متاثرہ کیسز کے درمیان وبائی روابط (Epidemiological Linkages) کا جائزہ لے، انفیکشن کے ممکنہ ذرائع کی نشاندہی کرے اور اسپتال میں انجیکشن لگانے کے طریقہ کار، ڈسپوزیبل سرنجوں اور سوئیوں کے استعمال کی بھی تحقیقات کرے۔

اس کے علاوہ کمیٹی ادویات اور ڈسپوزیبل طبی سامان کی خریداری اور دستیابی، بائیو میڈیکل ویسٹ مینجمنٹ، اسپتال میں رائج اسٹینڈرڈ آپریٹنگ پروسیجرز (SOPs) اور انفیکشن پریوینشن اینڈ کنٹرول (IPC) اقدامات کا بھی تفصیلی جائزہ لے گی۔

آفس آرڈر میں کمیٹی کو متاثرہ بچوں اور ان کے والدین کا مکمل ریکارڈ مرتب کرنے کی بھی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔

کمیٹی اپنی حتمی رپورٹ میں تحقیقات کے نتائج، اسپتال کے نظام میں بہتری کے لیے قابل عمل سفارشات اور اگر کسی فرد یا ادارے کی ذمہ داری سامنے آتی ہے تو اس کا تعین بھی کرے گی۔ رپورٹ سات روز کے اندر سندھ ایمپلائز سوشل سیکیورٹی انسٹیٹیوشن کو پیش کی جائے گی۔

واضح رہے کہ لانڈھی سوشل سیکیورٹی اسپتال لانڈھی میں 15 بچوں میں ایچ آئی وی کیسز سامنے آنے کے بعد اس معاملے پر تشویش پائی جا رہی ہے، جبکہ صوبائی محتسب سندھ کی ہدایت پر بھی مختلف سطح پر تحقیقات کا عمل جاری ہے۔ اس نئی انکوائری کمیٹی کا مقصد ایچ آئی وی کیسز کی اصل وجوہات کا تعین کرنا اور مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات تجویز کرنا ہے۔

سوشل سیکورٹی اسپتال لانڈھی کے ایم ایس ڈاکٹر ظفر نے وائٹل نیوز کو بتایا کہ ایچ آئی وی سے متاثرہ تمام بچے اور بڑی عمر کے افراد کو وائرس اسپتال سے نہیں باہر سے منتقل ہوا کیونکہ اسپتال کے اطراف آباد میں غیرقانونی کلینکس اور بلڈ بینکس بھرمار ہے جہاں غیرقانونی پریکٹسز جاری ہیں، ہم نے اسپتال کی او پی ڈی میں سی ڈی سی کی معاونت سے تھری اسٹیپ اسکریننگ شروع کردی ہے۔

انہوں نے کہا کہ سندھ ہیلتھ کیئر کمیشن کی ذمہ داری بنتی ہے وہ اتائیوں اور غیرقانونی کلینکس کے خلاف کارروائی کاریں۔

اہم خبریں

فیچر اور تجزیے

اہم خبریں