خیرپور: شاہ عبداللطیف یونیورسٹی کا بڑا ایکشن، 1200 سے زائد مشتبہ ایل ایل بی ڈگریاں اور نتائج منسوخ کرنے کا فیصلہ

کراچی: شاہ عبداللطیف یونیورسٹی خیرپور نے اعلیٰ تعلیم میں شفافیت، احتساب اور قانون کی بالادستی کو یقینی بنانے کے لیے اپنے ملحقہ لاء کالجز کی 1200 سے زائد مشتبہ ایل ایل بی ڈگریاں اور امتحانی نتائج منسوخ کرنے کی کارروائی شروع کر دی ہے۔

ان مشتبہ ڈگریوں میں ملک کے بعض نامور قانون دانوں کی اسناد بھی شامل ہونے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔


رجسٹرار آفس سے 7 جولائی 2026 کو جاری نوٹیفکیشن کے مطابق یہ اقدام یونیورسٹی سنڈیکیٹ کے 11 اپریل 2026 کو ہونے والے 92ویں اجلاس میں منظور کی گئی قرارداد نمبر 4 اور 5 کی روشنی میں اٹھایا گیا۔ ان قراردادوں پر قائم تحقیقاتی کمیٹی نے یونیورسٹی اور ملحقہ لاء کالجز کے ریکارڈ کی تفصیلی جانچ، تصدیق اور موازنہ کیا، جس کے دوران متعدد ڈگریاں اور نتائج لازمی قانونی اور دفتری ضابطہ کار مکمل کیے بغیر جاری ہونے کا انکشاف ہوا، جبکہ بعض متعلقہ کالجز نے بھی ایسے اندراجات سے لاتعلقی ظاہر کی۔


یونیورسٹی ذرائع کے مطابق موجودہ وائس چانسلر ڈاکٹر یوسف خشک کی سربراہی میں گزشتہ دو برس کے دوران جامعہ میں احتساب اور ادارہ جاتی اصلاحات کے لیے خصوصی مہم چلائی گئی۔ اس مہم کے پہلے مرحلے میں مبینہ جعلی ریکارڈ کے معاملات پر 128 افراد کے خلاف ایف آئی آرز درج کرائی گئیں، دوسرے مرحلے میں آٹھ سے زائد افسران کو معطل کرکے ان کے خلاف محکمانہ اور قانونی کارروائی شروع کی گئی، جبکہ تیسرے مرحلے میں 1200 سے زائد مشتبہ ایل ایل بی ڈگریوں کی جانچ اور ممکنہ منسوخی کا عمل شروع کیا گیا ہے۔


نوٹیفکیشن کے مطابق کارروائی ایل ایل بی پانچ سالہ پروگرام کے 2017 بیج جبکہ تین سالہ پروگرام کے 2014-2016، 2015-2017 اور 2016-2018 بیجز پر لاگو ہوگی۔ اس فیصلے سے سکھر، جیکب آباد، کشمور، کندھ کوٹ، گھوٹکی، لاڑکانہ، پنو عاقل، کنڈیارو، مورو، قمبر اور نوشہرو فیروز کے متعدد لاء کالجز متاثر ہوں گے۔


یونیورسٹی نے متاثرہ طلبہ کے نام اور رول نمبرز اپنی ویب سائٹ پر جاری کرتے ہوئے انہیں 15 روز کے اندر کنٹرولر امتحانات کے دفتر میں اپنے دعوے کے حق میں مستند دستاویزی شواہد جمع کرانے کی ہدایت کی ہے۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ یہ متاثرہ امیدواروں کو حقِ سماعت دینے کا آخری موقع ہے۔


نوٹیفکیشن میں واضح کیا گیا ہے کہ مقررہ مدت کے اندر جواب یا قابل قبول شواہد پیش نہ کرنے کی صورت میں متعلقہ طلبہ کی ڈگریاں اور امتحانی نتائج بغیر کسی مزید نوٹس کے مستقل طور پر منسوخ کر دیے جائیں گے۔ جامعہ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ یہ اقدام اعلیٰ تعلیم کے نظام میں شفافیت، احتساب اور قانون کی بالادستی قائم کرنے کی اصلاحاتی مہم کا اہم حصہ ہے۔

اہم خبریں

فیچر اور تجزیے

اہم خبریں