لاہور: ماہرینِ صحت اور پالیسی سازوں نے کہا ہے کہ جنوبی ایشیائی ہونا خود امراضِ قلب، ذیابطیس اور میٹابولک بیماریوں سمیت کئی غیر متعدی امراض کا ایک بڑا خطرہ ہے جبکہ پاکستان کی غیر معمولی نسلی، موسمی اور جغرافیائی تنوع ایسی صورتحال پیدا کرتی ہے جہاں ملک کو غیر ملکی ڈیٹا پر مکمل انحصار کرنے کے بجائے مقامی طبی تحقیق اور اپنے مسائل کے مطابق حل درکار ہیں۔
انسٹی ٹیوٹ آف پبلک ہیلتھ لاہور میں ہیلتھ ریسرچ ایڈوائزری بورڈ (ہیلتھ ریب) کے زیر اہتمام ساتویں انٹرنیشنل ہیلتھ ریسرچ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ماہرین کا کہنا تھا کہ پاکستان میں بیماریوں کے پھیلاؤ، خطرے کے عوامل اور صحت کے مسائل دنیا کے کئی دیگر ممالک سے مختلف ہیں، اس لیے مؤثر پالیسی سازی اور بیماریوں کے کنٹرول کے لیے مقامی حقائق پر مبنی، عملی اور قابلِ استعمال تحقیق ناگزیر ہے۔
“ون نیشن، ون ریکارڈ، ون رجسٹری نیٹ ورک: شواہد پر مبنی تحقیق کے ذریعے صحت کے نظام کو مضبوط بنانا” کے موضوع پر منعقدہ کانفرنس میں ملک بھر سے سینئر معالجین، محققین، ریگولیٹرز، وائس چانسلرز، پالیسی سازوں اور ماہرینِ صحت نے شرکت کی اور قومی بیماری رجسٹریوں، مقامی تحقیق، ڈیٹا شیئرنگ اور مقامی طبی ٹیکنالوجی کی ترقی پر تبادلہ خیال کیا۔
وفاقی سیکریٹری صحت محمد اسلم غوری نے کہا کہ وفاقی حکومت قومی بیماری رجسٹریوں اور صحت سے متعلق تحقیق کو انتہائی سنجیدگی سے لے رہی ہے اور جلد قومی شناختی کارڈ نمبر کو یونیورسل میڈیکل ریکارڈ نمبر کے طور پر استعمال کیا جائے گا تاکہ مریضوں کے علاج میں تسلسل، بیماریوں کی نگرانی اور شواہد پر مبنی پالیسی سازی کو بہتر بنایا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ صحت صرف سماجی شعبے کا مسئلہ نہیں بلکہ قومی صحت اور اقتصادی سلامتی کا معاملہ بھی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے ملک کی پہلی نیشنل ویکسین پالیسی کی منظوری دے دی ہے تاکہ مقامی سطح پر ویکسین سازی کو فروغ دیا جا سکے جبکہ ادویات اور طبی تحقیق کے شعبے میں بھی مقامی پیداوار کی حوصلہ افزائی کی جا رہی ہے۔
صوبائی وزیر برائے اسپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر و میڈیکل ایجوکیشن خواجہ سلمان رفیق نے کہا کہ حکومتوں کو بہتر پالیسی سازی اور صحت کی خدمات کی فراہمی کے لیے ماہرینِ صحت اور محققین کی مسلسل رہنمائی درکار ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ ہیلتھ ریب کانفرنس کی سفارشات پنجاب میں نافذ کرنے کی کوشش کریں گے اور مستقبل میں بھی محققین اور طبی ماہرین سے مشاورت جاری رکھیں گے۔
ہیلتھ ریب کے جنرل سیکریٹری پروفیسر ڈاکٹر ذکی الدین احمد نے تنظیم کی سالانہ رپورٹ پیش کرتے ہوئے بتایا کہ ہیلتھ راب قومی بیماری رجسٹریوں کے قیام، تحقیق کے فروغ، فیلوشپس، گرانٹس، تربیتی پروگرامز اور ہیلتھ ریسرچ میں ڈپلومہ پروگرامز پر کام کر رہی ہے۔
ہیلتھ ریب کے چیئرمین اور معروف ماہرِ ذیابطیس پروفیسر ڈاکٹر عبدالباسط نے کہا کہ پاکستان میں تحقیق کا رجحان بتدریج مضبوط ہو رہا ہے اور ملک بھر کے پچاس سے زائد جامعات کے سربراہان اور وائس چانسلرز اس کانفرنس میں شریک ہیں تاکہ صحت کے شعبے میں تحقیق کو مزید فروغ دیا جا سکے۔
معروف آرتھوپیڈک سرجن پروفیسر ڈاکٹر سید شاہد نور نے طبی آلات کی مقامی تیاری پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس سے درآمدات پر انحصار کم ہوگا اور علاج نسبتاً سستا ہو سکے گا۔
ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (ڈریپ) کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈاکٹر عبیداللہ ملک نے صحت کے شعبے میں شواہد اور ڈیٹا پر مبنی فیصلوں کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ جب پاکستان کو ویکسینز اور ادویات کے خام مال کی عالمی سطح پر فراہمی میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تو ملک کو مقامی ویکسین سازی اور ایکٹو فارماسیوٹیکل انگریڈینٹس کی تیاری پر سنجیدگی سے غور کرنا پڑا۔ “یہ ایک مشکل اور طویل سفر ضرور ہے مگر ناممکن نہیں”، انہوں نے کہا۔
وزیراعظم کے صحت سہولت پروگرام کے چیف ایگزیکٹو آفیسر محمد ارشد قائمخانی نے کہا کہ صحت کارڈ پروگرام کے پاس ملک بھر کے اسپتالوں اور مراکزِ علاج سے حاصل ہونے والا “ڈیٹا کا خزانہ” موجود ہے، لہٰذا محققین کو ایسی عملی، قابلِ استعمال اور کم لاگت تحقیق پر توجہ دینی چاہیے جو براہِ راست صحت کی خدمات کو بہتر بنا سکے۔
معروف معالج اور سابق نگراں وفاقی وزیرِ صحت پروفیسر ڈاکٹر جاوید اکرم نے “ون ہیلتھ” کے تصور پر زور دیتے ہوئے خبردار کیا کہ پولٹری اور لائیو اسٹاک سیکٹر میں اینٹی بایوٹکس کے بے دریغ استعمال سے اینٹی مائیکروبیل ریزسٹنس تیزی سے بڑھ رہی ہے، جو دنیا کے لیے ایک بڑا خطرہ بن چکی ہے۔ انہوں نے متعدی اور غیر متعدی دونوں بیماریوں پر مقامی تحقیق اور عملی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔
ہیلتھ سروسز اکیڈمی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر شہزاد علی خان نے کہا کہ مضبوط اور معیاری تحقیق ہی قابلِ اعتماد سائنسی ڈیٹا پیدا کرتی ہے جبکہ کمزور تحقیق اکثر گمراہ کن نتائج کا سبب بنتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پالیسی سازی میڈیا میں بیماریوں کے شور کے بجائے سائنسی اور ادارہ جاتی شواہد کی بنیاد پر ہونی چاہیے۔
کانفرنس کے دوران پاکستان کے ممتاز معالجین، محققین اور سینئر ہیلتھ جرنلسٹ عامر ملک کو صحت، تحقیق اور صحافت کے شعبوں میں نمایاں خدمات پر قومی ایوارڈز اور گولڈ میڈلز سے نوازا گیا۔ ایوارڈ حاصل کرنے والوں میں پروفیسر ڈاکٹر شہزاد علی خان، پروفیسر ڈاکٹر جاوید اکرم، پروفیسر ڈاکٹر ایم اقبال چوہدری اور معروف نیورو سرجن پروفیسر ڈاکٹر سید اطہر انعام شامل تھے۔