اسلام آباد: پاکستان میں آنے والے دنوں میں شدید گرمی کی لہر کے مزید شدت اختیار کرنے کا خدشہ ہے اور جنوبی پنجاب، بالائی سندھ اور جنوبی و مشرقی بلوچستان میں درجہ حرارت 52 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ سکتا ہے جبکہ ملک کے بیشتر علاقوں میں پہلے ہی درجہ حرارت معمول سے 2 سے 4 ڈگری زیادہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔
محکمہ موسمیات کی 27 اپریل کو جاری کردہ تازہ ایڈوائزری کے مطابق مئی اور جون سال کے گرم ترین مہینے ہوں گے اور گرمی سے متاثرہ علاقوں میں غیر معمولی درجہ حرارت ریکارڈ ہونے کا امکان ہے۔ ان علاقوں میں عمومی طور پر درجہ حرارت 43 سے 45 ڈگری سینٹی گریڈ کے درمیان رہتا ہے، تاہم موجودہ صورتحال میں یہ معمول سے زیادہ ہو چکا ہے۔
ادارے کے مطابق عالمی موسمیاتی عوامل، جن میں ایل نینو سدرن اوسیلیشن (ENSO) اور انڈین اوشن ڈائپول (IOD) شامل ہیں، اس وقت نیوٹرل سطح پر ہیں، تاہم مئی سے جولائی کے دوران ایل نینو کے بننے کے 61 فیصد امکانات موجود ہیں جو خطے کے موسم پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔
ایڈوائزری میں کہا گیا ہے کہ 29 اپریل سے 3 مئی کے دوران ملک کے جنوبی علاقوں میں ہلکی شدت کی گرمی کی لہر پیدا ہونے کا امکان ہے جس سے پہلے سے متاثرہ علاقوں میں گرمی کی شدت مزید بڑھ سکتی ہے۔
تاہم محکمہ موسمیات کے مطابق بالائی علاقوں میں مغربی ہواؤں کے سلسلے کے باعث وقتی ریلیف ملنے کا امکان ہے جو 27 اپریل کی رات سے 29 اپریل تک اور پھر 3 سے 5 مئی تک اثر انداز ہوگا، جس کے دوران درجہ حرارت میں 2 سے 4 ڈگری تک کمی ہو سکتی ہے۔
محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ صورتحال کی مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے اور اگر گرمی کی لہر میں شدت آتی ہے تو مزید اپ ڈیٹس جاری کی جائیں گی۔
محکمہ موسمیات کے ماہرین کے مطابق موسمیاتی تبدیلی کے باعث بڑھتی ہوئی شدید گرمی نہ صرف صحت عامہ بلکہ زراعت اور آبی وسائل پر بھی منفی اثرات ڈال سکتی ہے، خاص طور پر ان علاقوں میں جو پہلے ہی شدید گرمی کا شکار رہتے ہیں-