اسلام آباد: خیرپور میں منکی پاکس (ایم پاکس) کے کیسز میں مسلسل اضافے اور دیگر اضلاع تک اس کے پھیلاؤ کے خدشات کے پیش نظر محکمہ صحت سندھ نے صوبے بھر کے تمام سرکاری و نجی اسپتالوں کو ہدایت جاری کی ہے کہ وہ فوری طور پر ایم پاکس رسپانس یونٹس قائم کریں اور چوبیس گھنٹے فعال معلوماتی و سہولت ڈیسک شروع کریں، جنہیں ریسکیو 1122 سے منسلک کیا جائے گا تاکہ مشتبہ مریضوں کی فوری منتقلی اور ریفرل ممکن ہو سکے۔
ڈائریکٹوریٹ جنرل ہیلتھ سروسز سندھ کی جانب سے جاری کردہ ہدایت نامے میں صورتحال کو انتہائی ہنگامی قرار دیتے ہوئے تمام ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسرز اور میڈیکل سپرنٹنڈنٹس کو فوری اقدامات یقینی بنانے کا حکم دیا گیا ہے، کیونکہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ وائرس اب صرف چند کیسز تک محدود نہیں رہا بلکہ مقامی سطح پر پھیلنا شروع ہو چکا ہے۔
محکمہ صحت سندھ کے مطابق تمام اسپتالوں میں واضح شناخت کے ساتھ ایم پاکس رسپانس یونٹس قائم کیے جائیں گے، جہاں تربیت یافتہ عملہ تعینات ہوگا اور مناسب سائن بورڈز کے ذریعے مشتبہ مریضوں کی بروقت نشاندہی اور رہنمائی کی جائے گی۔ اس کے ساتھ ساتھ چوبیس گھنٹے معلوماتی اور سہولتی ڈیسک قائم کیے جائیں گے جو مریضوں اور تیمارداروں کو علامات، رپورٹنگ کے طریقہ کار اور ریفرل نظام سے متعلق آگاہی فراہم کریں گے۔
تمام معلوماتی ڈیسک کو ریسکیو 1122 کے ساتھ لازمی طور پر منسلک کیا جائے گا تاکہ فوری ردعمل، محفوظ منتقلی اور مریضوں کی مربوط ریفرل یقینی بنائی جا سکے۔ حکام نے ہسپتالوں میں انفیکشن کنٹرول کے اقدامات پر سختی سے عملدرآمد کی بھی ہدایت کی ہے، جبکہ ماہرین پہلے ہی خبردار کر چکے ہیں کہ کمزور انفیکشن کنٹرول کے باعث وائرس کے پھیلاؤ میں اضافہ ہو رہا ہے۔
اسپتالوں کو جاری ہدایت نامے میں مزید کہاگیا ہے کہ ایم پاکس کی علامات اور احتیاطی تدابیر سے متعلق آگاہی عام کی جائے، معلوماتی ڈیسک پر تربیت یافتہ عملہ تعینات کیا جائے اور ہسپتالوں، سرویلنس ٹیموں اور ایمرجنسی سروسز کے درمیان رابطہ بہتر بنایا جائے۔ تمام متعلقہ حکام کو 48 گھنٹوں کے اندر عملدرآمد کی رپورٹ جمع کرانے کا پابند بنایا گیا ہے۔
یہ حکومتی اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خیرپور میں ایم پاکس کے مشتبہ اور تصدیق شدہ کیسز میں مسلسل اضافہ رپورٹ ہو رہا ہے اور اطلاعات ہیں کہ وائرس سندھ کے دیگر علاقوں میں بھی سامنے آنا شروع ہو گیا ہے۔
صوبائی حکام کے مطابق ضلع خیرپور میں اب تک سات نوزائیدہ بچوں کی اموات رپورٹ ہو چکی ہیں، جن میں سے کئی میں ایم پاکس کی تصدیق ہوئی، تاہم حکام کا کہنا ہے کہ اموات کی بڑی وجہ قبل از وقت پیدائش، کم وزن اور دیگر پیچیدگیاں تھیں۔
ماہرین صحت، جن میں ماہر امراض اطفال اور متعدی بیماریوں کے ماہرین شامل ہیں، خبردار کر رہے ہیں کہ وائرس اب کمیونٹی سطح پر پھیل رہا ہے، خاص طور پر بچوں اور نوزائیدہوں میں۔ ان کے مطابق انفیکشن کنٹرول میں خامیاں، کیسز کی تاخیر سے تشخیص اور اداروں کے درمیان کمزور رابطہ اس پھیلاؤ کو تیز کر رہا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ عالمی ادارہ صحت نے ضرورت پڑنے پر ایم پاکس ویکسین فراہم کرنے کی پیشکش بھی کی ہے، تاہم ویکسین صرف ہائی رسک گروپس، ہیلتھ ورکرز اور قریبی رابطوں تک محدود رکھی جائے گی کیونکہ وبا ابھی ابتدائی مرحلے میں ہے۔
طبی ماہرین نے نگرانی کے نظام کو مزید مضبوط بنانے پر زور دیتے ہوئے مشتبہ بچوں کے کیسز میں دیگر انفیکشنز، خصوصاً ایچ آئی وی کی اسکریننگ کی بھی سفارش کی ہے تاکہ بیماری کے پھیلاؤ اور خطرات کو بہتر طور پر سمجھا جا سکے۔
حکام کے مطابق سندھ بھر میں نگرانی کا نظام تیز کر دیا گیا ہے اور مختلف اضلاع میں مشتبہ کیسز پر نظر رکھی جا رہی ہے، تاہم ماہرین صحت نے خبردار کیا ہے کہ شفافیت میں کمی اور بروقت رپورٹنگ نہ ہونے کی صورت میں صورتحال مزید سنگین ہو سکتی ہے-