کراچی میں انڈین نشہ آور ادویات بنانے والی فیکٹری پکڑی گئی

کراچی: ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (ڈریپ) اور وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کی مشترکہ ٹیم نے کراچی کے علاقے احسن آباد میں ایک غیر قانونی دوا ساز یونٹ پر چھاپہ مار کر ہائی ڈوز ٹراماڈول گولیاں اور کیپسول تیار کرنے والی فیکٹری کا سر بمہر کردی جہاں 225 ملی گرام اور 250 ملی گرام طاقت کی ٹراماڈول تیار کی جا رہی تھی، حالانکہ پاکستان میں ان طاقتوں کی تیاری پر پابندی عائد ہے-

ڈریپ حکام کے مطابق کچی آبادی میں قائم غیر قانونی فیکٹری میں انڈین برانڈز بشمول ٹراما کنگ اینڈ دیگر برانڈز کی ممنوعہ ادویات تیار کی جارہی تھیں-

حکام کے مطابق ڈریپ نے حالیہ برسوں میں 225 ملی گرام اور 250 ملی گرام ٹراماڈول کی تمام رجسٹریشنز منسوخ کر دی تھیں، جب بین الاقوامی اداروں اور کئی افریقی ممالک کی جانب سے یہ اطلاعات سامنے آئیں کہ پاکستان میں غیر قانونی طور پر تیار کی جانے والی ہائی ڈوز ٹراماڈول بیرون ملک اسمگل ہو رہی ہے اور وہاں بلیک مارکیٹ میں فروخت ہو رہی ہے۔

موجودہ قواعد کے تحت پاکستان میں صرف 50 ملی گرام اور 100 ملی گرام ٹراماڈول طبی مقاصد کے لیے تیار اور فروخت کی جا سکتی ہے۔

طبی ماہرین کے مطابق ہائی ڈوز ٹراماڈول کا غیر طبی استعمال نشے کی لت، سانس میں رکاوٹ، دوروں اور بعض صورتوں میں موت کا باعث بھی بن سکتا ہے۔ عالمی سطح پر یہ دوا بالخصوص مغربی و شمالی افریقہ اور مشرق وسطیٰ میں ایک سنگین عوامی صحت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے چیلنج بن چکی ہے، جہاں اسے سستے اوپیائیڈ متبادل کے طور پر بڑے پیمانے پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ بین الاقوامی منشیات کنٹرول ادارے بھی جنوبی ایشیا میں قائم غیر قانونی مینوفیکچرنگ مراکز کو بین الاقوامی اسمگلنگ نیٹ ورکس سے جوڑتے رہے ہیں۔

ڈریپ کے ایک سینئر اہلکار نے وائٹلز نیوز کو بتایا کہ احسن آباد کی ایک کچی آبادی میں قائم یہ فیکٹری ہائی ڈوز ٹراماڈول کی متعدد غیر قانونی برانڈز تیار کر رہی تھی، جن میں بدنام زمانہ ‘ٹراما کنگ’ بھی شامل ہے، جس کا نام بین الاقوامی سطح پر ہائی اسٹرینتھ اوپیائیڈ ادویات کے غلط استعمال اور اسمگلنگ سے جوڑا جاتا رہا ہے۔ اہلکار کے مطابق خفیہ اطلاع ملنے پر ڈریپ اور ایف آئی اے اینٹی کرپشن سرکل نے مشترکہ کارروائی کی۔

چھاپے کے دوران حکام نے ٹراماڈول بنانے کے لیے استعمال ہونے والا خام کیمیائی مادہ (ایکٹو فارماسیوٹیکل اجزا)، تیار شدہ گولیاں اور کیپسول، پیکنگ میٹریل، ایکسیپیئنٹس اور دوا سازی کی مشینری برآمد کی۔ اہلکار کے مطابق فیکٹری میں تیار ہونے والی مقدار سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ نیٹ ورک قانونی دواسازی کے بجائے غیر قانونی منڈیوں کو بڑے پیمانے پر سپلائی کے لیے کام کر رہا تھا۔

ابتدائی گرفتاریوں کے بعد مشترکہ ٹیم نے ملزمان کی نشاندہی پر ایک اور مقام پر کارروائی کی، جہاں درجنوں ڈرم برآمد کیے گئے جن میں مبینہ طور پر ٹراماڈول کا خام کیمیائی مادہ موجود تھا۔ اگرچہ کنٹینرز پر میلامائن درج تھا، تاہم حکام نے شبہ ظاہر کیا کہ یہ مواد ہائی ڈوز ٹراماڈول کی تیاری کے لیے استعمال کیا جا رہا تھا۔ نمونے کیمیائی تجزیے کے لیے لیبارٹری بھیج دیے گئے ہیں۔

دوسری جانب محکمہ صحت سندھ کے حکام نے تشویش کا اظہار کیا ہے کہ گزشتہ برسوں میں غیر قانونی گولیوں اور خام مال کی کروڑوں روپے مالیت کی بڑی ضبطیوں کے باوجود ملزمان کے خلاف مؤثر قانونی کارروائیاں کم ہی ہو پاتی ہیں۔ ایک سینئر اہلکار کے مطابق فیکٹریاں سیل ہو جاتی ہیں اور اسٹاک ضبط کر لیا جاتا ہے، لیکن سپلائی چین برقرار رہتی ہے اور نیٹ ورکس چلانے والے افراد اکثر نئے ناموں اور فرنٹس کے ساتھ دوبارہ سامنے آ جاتے ہیں۔

ایف آئی اے کے مطابق لیبارٹری رپورٹس اور ریگولیٹری جائزے مکمل ہونے کے بعد مزید قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی، جبکہ ڈریپ حکام نے زور دیا کہ ہائی ڈوز ٹراماڈول کی غیر قانونی تیاری کے خلاف کارروائیاں نہ صرف ملک میں منشیات کے غلط استعمال کو روکنے کے لیے ضروری ہیں بلکہ پاکستان کو بین الاقوامی اوپیائیڈ اسمگلنگ کے منبع کے طور پر استعمال ہونے سے بچانے کے لیے بھی اہم ہیں-

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے