پاکستان میں پولیو کا آٹھواں کیس رپورٹ، خیبرپختونخوا میں متاثرہ کی تعداد چھ ہوگئی

اسلام آباد: پاکستان میں رواں سال پولیو کا آٹھواں کیس سامنے آگیا ہے، جہاں خیبرپختونخوا کے ضلع خیبر کی تحصیل باڑہ میں 13 ماہ کی بچی میں پولیو وائرس کی تصدیق ہوئی ہے، جبکہ صوبے میں رواں سال متاثرہ بچوں کی تعداد چھ ہوگئی ہے

۔
نیشنل ایمرجنسی آپریشن سینٹر برائے انسداد پولیو کے مطابق متاثرہ بچی کا تعلق ضلع خیبر کی تحصیل باڑہ کی یونین کونسل جانباز بی سے ہے۔ رواں سال ضلع خیبر سے رپورٹ ہونے والا یہ دوسرا جبکہ خیبرپختونخوا سے چھٹا پولیو کیس ہے۔


حکام کے مطابق پاکستان میں رواں سال اب تک پولیو کے آٹھ کیس رپورٹ ہوچکے ہیں، جن میں سے چھ خیبرپختونخوا اور دو سندھ سے سامنے آئے ہیں۔ خیبرپختونخوا کے چھ متاثرہ بچوں میں سے چار کا تعلق صوبے کے جنوبی اضلاع سے ہے۔


محکمہ صحت کے حکام کا کہنا ہے کہ پشاور اور ضلع خیبر پر مشتمل پشاور بلاک میں پولیو وائرس کی موجودگی بدستور تشویش کا باعث ہے، جہاں ماحولیاتی نگرانی کے دوران حاصل کیے گئے نمونوں میں وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔


حکام کے مطابق ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی موجودگی اس بات کا ثبوت ہے کہ متعلقہ علاقوں میں وائرس کی گردش جاری ہے اور حفاظتی قطرے نہ پینے والے یا نامکمل ویکسینیشن والے بچوں کو بدستور خطرات لاحق ہیں۔


پاکستان پولیو ایریڈیکیشن انیشی ایٹو نے ضلع خیبر میں سامنے آنے والے نئے کیس کی تفصیلی تحقیقات شروع کردی ہیں تاکہ بچی میں وائرس کی منتقلی کے ممکنہ اسباب اور حفاظتی ٹیکہ جات کی فراہمی میں موجود خامیوں کا جائزہ لیا جاسکے۔


حکام کے مطابق تحقیقات کی روشنی میں متاثرہ اور ملحقہ علاقوں میں خصوصی ویکسینیشن سرگرمیوں اور بچوں کے معمول کے حفاظتی ٹیکوں کے نظام کو مزید مؤثر بنانے کے لیے اقدامات کیے جائیں گے۔


دوسری جانب ملک کے 97 اضلاع میں دو نومبر سے انسداد پولیو کی سات روزہ مہم شروع کی جارہی ہے، جو آٹھ نومبر تک جاری رہے گی۔


نیشنل ایمرجنسی آپریشن سینٹر کے مطابق اس مہم کے دوران پانچ سال سے کم عمر تقریباً دو کروڑ 40 لاکھ بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ مہم میں ضلع خیبر سمیت پولیو وائرس سے متاثرہ اور زیادہ خطرات والے علاقے بھی شامل ہیں۔


حکام نے والدین سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنے پانچ سال سے کم عمر تمام بچوں کو ہر انسداد پولیو مہم کے دوران حفاظتی قطرے ضرور پلوائیں، چاہے بچے اس سے پہلے بھی کئی مرتبہ پولیو ویکسین حاصل کرچکے ہوں۔


انسداد پولیو پروگرام کے مطابق پاکستان میں رواں سال اب تک چار بڑی انسداد پولیو مہمات چلائی جاچکی ہیں، جن کے دوران ساڑھے چار کروڑ سے زائد بچوں کو متعدد مرتبہ حفاظتی قطرے پلائے گئے۔


اس کے علاوہ پشاور بلاک سمیت زیادہ خطرات والے علاقوں میں خصوصی مہمات کے دوران بچوں کو پولیو سے بچاؤ کی خوراک کے ذریعے دی جانے والی ویکسین کے ساتھ انجیکشن کے ذریعے لگائی جانے والی ویکسین بھی فراہم کی گئی۔
ستمبر میں

ہونے والی انسداد پولیو مہم کے دوران ملک بھر میں دو کروڑ 93 لاکھ سے زائد بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائے گئے تھے۔
حکام کے مطابق پاکستان میں گزشتہ برس 2025 کے دوران پولیو کے مجموعی طور پر 31 کیس رپورٹ ہوئے تھے، جبکہ رواں سال کے ابتدائی 10 ماہ کے دوران آٹھ بچوں میں پولیو وائرس کی تصدیق ہوچکی ہے۔


انسداد پولیو پروگرام کے اعدادوشمار کے مطابق پاکستان میں 1990 کی دہائی کے آغاز میں سالانہ تقریباً 20 ہزار بچے پولیو سے متاثر ہوتے تھے، تاہم مسلسل ویکسینیشن مہمات کے نتیجے میں پولیو کیسز میں 99.8 فیصد کمی آچکی ہے۔


اس کے باوجود حکام کا کہنا ہے کہ ملک میں پولیو وائرس کی مکمل روک تھام ابھی ممکن نہیں ہوسکی اور متاثرہ بچوں کے ساتھ ماحولیاتی نمونوں میں وائرس کی موجودگی ظاہر کرتی ہے کہ بیماری کے دوبارہ پھیلنے کا خطرہ برقرار ہے۔


طبی ماہرین کے مطابق پولیو ایک انتہائی متعدی وائرل بیماری ہے جو بنیادی طور پر پانچ سال سے کم عمر بچوں کو متاثر کرتی ہے۔ یہ وائرس اعصابی نظام پر حملہ کرکے بچوں کو زندگی بھر کی معذوری میں مبتلا کرسکتا ہے، جبکہ بعض صورتوں میں موت کا سبب بھی بن سکتا ہے۔


ماہرین کا کہنا ہے کہ پولیو کا کوئی علاج موجود نہیں، تاہم محفوظ اور مؤثر ویکسین کے ذریعے اس بیماری سے بچاؤ ممکن ہے۔
نیشنل ایمرجنسی آپریشن سینٹر نے والدین، مذہبی رہنماؤں، سماجی شخصیات اور ذرائع ابلاغ سے اپیل کی ہے کہ وہ انسداد پولیو مہم میں تعاون کریں اور ویکسین سے متعلق غلط معلومات کے تدارک میں اپنا کردار ادا کریں۔


حکام نے واضح کیا کہ پاکستان سے پولیو کے مکمل خاتمے کے لیے ضروری ہے کہ پانچ سال سے کم عمر ہر بچے کو ہر مہم میں پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائے جائیں اور بچوں کے معمول کے حفاظتی ٹیکوں کا کورس بھی مکمل کرایا جائے۔

اہم خبریں

فیچر اور تجزیے

اہم خبریں