فارمولا دودھ کے اشتہارات کی اجازت سے متعلق ہدایات واپس لی جائیں، سندھ کا ڈریپ سے مطالبہ

کراچی: سندھ حکومت نے ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (ڈریپ) سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ شیر خوار بچوں کے فارمولا دودھ کے اشتہارات سے متعلق حالیہ ہدایات فوری طور پر واپس لے، کیونکہ ایسے اشتہارات کی اجازت موجودہ وفاقی اور صوبائی قوانین کے منافی ہے اور اس سے ماں کے دودھ کی حوصلہ شکنی ہوگی۔

سندھ کے محکمہ صحت نے ڈریپ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر کو لکھے گئے ایک خط میں کہا ہے کہ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے قومی صحت کی سفارشات کے بعد ڈریپ کے فارمیسی سروسز ڈویژن کی جانب سے جاری کی گئی ہدایات، جن میں ’’ماں کا دودھ بچے کے لیے بہترین غذا ہے‘‘ جیسے انتباہی پیغامات کے ساتھ اشتہارات کی اجازت کا تاثر ملتا ہے، ایک ایسے عمل کو قانونی جواز فراہم کر سکتی ہیں جس پر پہلے ہی پابندی عائد ہے۔

محکمہ صحت سندھ نے مؤقف اختیار کیا کہ بریسٹ ملک سبسٹیٹیوٹ (ماں کے دودھ کے متبادل) کی تشہیر کے حوالے سے قوانین میں کسی قسم کی نرمی کی گنجائش موجود نہیں اور اس معاملے میں زیرو ٹالرنس پالیسی اختیار کی جانی چاہیے۔

خط میں کہا گیا ہے کہ وفاقی قوانین کے تحت ملک بھر میں ماں کے دودھ کے متبادل مصنوعات کی تشہیر ممنوع ہے، جبکہ سندھ پروٹیکشن اینڈ پروموشن آف بریسٹ فیڈنگ اینڈ ینگ چائلڈ نیوٹریشن ایکٹ 2023 بچوں کی عمر تین سال تک بڑھاتے ہوئے مزید سخت تحفظ فراہم کرتا ہے اور فارمولا دودھ کی تشہیر، تشہیری مہمات اور مارکیٹنگ کو جرم قرار دیتا ہے۔

سندھ حکومت کے مطابق مذکورہ قانون کے تحت الیکٹرانک، پرنٹ اور سوشل میڈیا، عوامی مقامات، دکانوں اور صحت کے مراکز میں فارمولا مصنوعات کے اشتہارات پر پابندی ہے، جبکہ کمپنیوں کو بڑی عمر کے بچوں کے لیے تیار کردہ مصنوعات کی ایک جیسی پیکنگ، لوگو یا رنگوں کے ذریعے بالواسطہ تشہیر سے بھی روکا گیا ہے۔

قانون کے تحت فارمولا دودھ بنانے والی کمپنیوں کے نمائندوں کے صحت کے اداروں کے دوروں، ڈاکٹروں یا طبی عملے کو تحائف دینے، کانفرنسوں کی اسپانسرشپ اور ماؤں یا طبی عملے میں تشہیری مواد تقسیم کرنے پر بھی پابندی عائد ہے۔

محکمہ صحت سندھ نے خبردار کیا کہ قانون کی خلاف ورزی کرنے والی کمپنیوں کو دو سال تک قید اور پانچ لاکھ سے 50 لاکھ روپے تک جرمانے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، جبکہ ایسے اشتہارات یا تشہیری سرگرمیوں میں ملوث دکانداروں اور طبی عملے کے خلاف بھی قانونی کارروائی اور متعلقہ پیشہ ورانہ اداروں کی جانب سے تادیبی اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔

سندھ حکومت نے اس معاملے کو قومی صحت کے تحفظ کا مسئلہ قرار دیتے ہوئے ڈریپ پر زور دیا ہے کہ وہ پیمرا، پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ (پی آئی ڈی) اور سندھ کے نو قائم شدہ انفنٹ اینڈ ینگ چائلڈ نیوٹریشن بورڈ کے ساتھ مل کر تین سال تک کی عمر کے بچوں کے لیے فارمولا دودھ اور ماں کے دودھ کے متبادل مصنوعات کی تشہیر پر غیر مبہم پابندی کا حکم جاری کرے۔

سندھ انسٹی ٹیوٹ آف چائلڈ ہیلتھ اینڈ نیونیٹولوجی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر پروفیسر جمال رضا نے کہا کہ ماہرین اطفال فارمولا دودھ کی تشہیر کی اجازت نہیں دیں گے اور اگر کسی نے اس کی مارکیٹنگ کی کوشش کی تو اس کے خلاف سندھ کے موجودہ قوانین کے تحت کارروائی کی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان پہلے ہی بچوں کی صحت کے خراب اشاریوں کا سامنا کر رہا ہے اور ماں کا دودھ اور حفاظتی ٹیکوں کا مکمل کورس بچوں کو غذائی قلت، انفیکشنز اور قابل تدارک اموات سے بچانے کا بہترین ذریعہ ہیں۔

پاکستان پیڈیاٹرک ایسوسی ایشن کے سینئر رہنما ڈاکٹر خالد شفیع نے کہا کہ ملک بھر کے ماہرین اطفال فارمولا دودھ کی تشہیر کے خلاف ہیں اور بریسٹ فیڈنگ سے متعلق قوانین پر سختی سے عمل درآمد چاہتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ بچوں کی صحت کو صرف کاروباری مفادات کی خاطر نقصان پہنچانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی اور ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ شیر خوار اور کم عمر بچوں سمیت تمام شہریوں کے حقوق کا تحفظ کرے۔

ماہرین صحت کے مطابق فارمولا دودھ کی جارحانہ تشہیر ماؤں کو دودھ پلانے سے دور کرتی ہے، خاندانوں پر غیر ضروری مالی بوجھ ڈالتی ہے اور بچوں کی نشوونما اور بقا پر منفی اثرات مرتب کرتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ زندگی کے پہلے چھ ماہ تک صرف ماں کا دودھ پلانا اور حفاظتی ٹیکوں کا مکمل کورس بچوں کی صحت بہتر بنانے اور شیر خوار بچوں کی اموات میں کمی لانے کے مؤثر ترین اقدامات میں شامل ہیں۔

اہم خبریں

فیچر اور تجزیے

اہم خبریں