اسلام آباد: ایک لاکھ 73 ہزار سے زائد پاکستانیوں کے جینیاتی تجزیے پر مبنی ایک تاریخی تحقیق میں ذیابیطس، دل کے امراض، موٹاپے، جگر کی چربی، پارکنسنز اور دیگر بیماریوں سے متعلق اہم جینیاتی عوامل سامنے آئے ہیں، جن سے مستقبل میں زیادہ مؤثر اور محفوظ علاج کی راہ ہموار ہونے کی توقع ظاہر کی گئی ہے۔
معروف سائنسی جریدے نیچر میں شائع ہونے والی اس تحقیق میں پاکستان کے 23 شہروں سے تعلق رکھنے والے 1 لاکھ 73 ہزار 303 افراد کے جینیاتی نمونوں کا جائزہ لیا گیا، جس سے پاکستان کے لیے دنیا کے بڑے جینیاتی ذخائر میں سے ایک قائم ہو گیا۔
تحقیق میں 31 لاکھ سے زائد ایسے جینیاتی تبدیلیاں دریافت کی گئیں جو اس سے پہلے دنیا کے دیگر خطوں میں سامنے نہیں آئی تھیں، تقریباً 20 لاکھ جینیاتی تبدیلیاں عالمی ڈیٹا بیس میں بھی پہلے کبھی ریکارڈ نہیں کی گئی تھیں۔
ماہرین کے مطابق تحقیق کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ تقریباً تیس تیس اعشاریہ چھ فیصد شرکاء نے بتایا کہ ان کے والدین آپس میں فرسٹ کزن تھے۔ محققین کا کہنا ہے کہ قریبی رشتہ داروں میں شادیوں کی زیادہ شرح کے باعث پاکستان بعض موروثی بیماریوں کے اسباب جاننے اور نئی ادویات کی تیاری کے لیے انتہائی اہم ملک بن گیا ہے۔
تحقیق کے دوران ایسے جینیاتی عوامل بھی سامنے آئے جو نقصان دہ کولیسٹرول اور خون میں چکنائی کی سطح کو کم رکھنے میں مدد دیتے ہیں، جس سے موجودہ کولیسٹرول کم کرنے والی ادویات کی افادیت کی مزید تصدیق ہوئی۔ بعض ایسے جینز بھی دریافت ہوئے جن کی غیر فعالیت جگر میں چربی جمع ہونے سے تحفظ فراہم کرتی ہے اور مستقبل میں انہی بنیادوں پر نئی ادویات تیار کی جا سکتی ہیں۔
پارکنسنز کے مرض سے متعلق جینیاتی معلومات بھی حاصل ہوئیں، جنہیں محققین مستقبل میں زیادہ محفوظ علاج کی تیاری کے لیے اہم قرار دے رہے ہیں۔
ہیلتھ سروسز اکیڈمی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر شہزاد علی خان نے اس تحقیق کو ایک سنگ میل قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستانی آبادی پر مبنی یہ معلومات سائنسدانوں کو موروثی اور طرز زندگی سے جڑی بیماریوں کو بہتر طور پر سمجھنے میں مدد دیں گی، جس سے بیماریوں کی جلد تشخیص، ان کی روک تھام اور ہر مریض کے لیے اس کی جینیاتی ساخت کے مطابق علاج کی راہ ہموار ہوگی۔
تحقیق کے مرکزی محققین میں پروفیسر دانش صالحین، ڈاکٹر آصف رشید، ڈاکٹر لبنیٰ کمانی، ڈاکٹر شرف خالد، ڈاکٹر ملیحہ زمان خان، پروفیسر شہزاد علی خان، محمد جہانزیب، محمد ریحان میاں اور دیگر پاکستانی و بین الاقوامی سائنسدان شامل تھے۔
ڈاکٹر لبنیٰ کمانی کے مطابق اس جینیاتی ذخیرے کی مدد سے مستقبل میں ایسے افراد کی نشاندہی ممکن ہو سکے گی جن میں بیماریوں کا خطرہ علامات ظاہر ہونے سے پہلے موجود ہو، جبکہ نایاب موروثی بیماریوں کی تشخیص اور ہر مریض کے لیے انفرادی نوعیت کے علاج (پریسیژن میڈیسن) کو بھی فروغ ملے گا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ تحقیق نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر میں بیماریوں کی وجوہات سمجھنے اور نئی ادویات کی تیاری میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔