اسلام آباد: پاکستان میں کھیلوں میں عوامی شرکت انتہائی محدود رہی ہے اور 67 فیصد پاکستانیوں نے گزشتہ ایک سال کے دوران کوئی بھی کھیل نہ کھیلنے کا انکشاف کیا ہے، جبکہ کھیلوں میں حصہ لینے والے افراد میں کرکٹ 16 فیصد کے ساتھ سب سے مقبول کھیل بن کر سامنے آئی ہے، یہ بات گیلپ اینڈ گیلانی پاکستان کے ایک ملک گیر سروے میں سامنے آئی ہے۔
18 جون 2026 کو جاری کیے گئے اس سروے میں ملک بھر کے بالغ پاکستانیوں کی نمائندہ رائے لی گئی، جس سے ظاہر ہوا کہ جسمانی سرگرمیوں اور کھیلوں میں عوامی دلچسپی محدود ہے۔
سروے کے مطابق 16 فیصد پاکستانیوں نے گزشتہ ایک سال کے دوران کرکٹ کھیلنے کی تصدیق کی، جس کے بعد والی بال پانچ فیصد کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہی، جبکہ چار فیصد افراد نے فٹ بال کھیلنے کا بتایا۔
دو فیصد افراد نے بیڈمنٹن، ایک فیصد نے ہاکی جبکہ ایک فیصد سے بھی کم افراد نے ٹینس کھیلنے کی اطلاع دی۔
اس کے برعکس 67 فیصد افراد نے کہا کہ انہوں نے گزشتہ ایک سال میں کوئی کھیل نہیں کھیلا، جبکہ سات فیصد افراد نے اس سوال کا جواب نہیں دیا یا انہیں یاد نہیں تھا۔
گیلپ اینڈ گیلانی پاکستان کے مطابق نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان میں کھیلوں میں شرکت محدود ہے اور کرکٹ بدستور سب سے زیادہ پسند کیا جانے والا کھیل ہے۔
سروے میں کھیل کھیلنے والے افراد سے یہ بھی پوچھا گیا کہ انہوں نے آخری بار کب کوئی کھیل کھیلا تھا۔ اس پر 14 فیصد افراد نے بتایا کہ انہوں نے گزشتہ روز کھیل کھیلا تھا، جبکہ 23 فیصد نے گزشتہ ہفتے کے دوران کھیلنے کا بتایا۔
تیرہ فیصد افراد نے کہا کہ انہوں نے اسی ماہ کھیل کھیلا، جبکہ 24 فیصد نے بتایا کہ وہ گزشتہ چھ ماہ کے دوران کسی وقت کھیل میں حصہ لے چکے ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بہت سے افراد باقاعدگی کے بجائے وقفے وقفے سے کھیلوں میں حصہ لیتے ہیں۔
تقریباً 26 فیصد افراد نے اس سوال کا جواب نہیں دیا یا انہیں یاد نہیں تھا۔
سروے کے نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ اگرچہ ایک محدود طبقہ روزمرہ یا ہفتہ وار بنیادوں پر کھیلوں میں حصہ لیتا ہے، تاہم پاکستانیوں کی بڑی اکثریت یا تو کھیلوں سے مکمل طور پر دور ہے یا بہت کم جسمانی سرگرمیوں میں حصہ لیتی ہے، جو ملک میں کھیلوں اور صحت مند طرز زندگی کے فروغ کے حوالے سے ایک اہم چیلنج کی نشاندہی کرتا ہے۔