لفٹ آپریٹر کئی ماہ سے خاتون ڈاکٹر کو ہراساں کر رہا تھا، مگر وہ خاموش رہیں، وزیر صحت بلوچستان

 

کراچی: بلوچستان کے وزیر صحت بخت محمد کاکڑ نے دعویٰ کیا ہے کہ کوئٹہ کے سرکاری اسپتال میں تیزاب گردی کا نشانہ بننے والی نوجوان خاتون ڈاکٹر ماہ نور ناصر کئی ماہ سے ایک لفٹ آپریٹر کی جانب سے مبینہ ہراسانی کا سامنا کر رہی تھیں لیکن انہوں نے اس بارے میں نہ اپنے اہل خانہ کو آگاہ کیا اور نہ ہی اسپتال انتظامیہ کو کوئی شکایت کی۔

صوبائی وزیر بخت محمد کاکڑ نے کہا کہ تفتیش کے دوران ملزم کے موبائل فون سے ملنے والے پیغامات اور دیگر شواہد سے معلوم ہوا کہ وہ جنرل سرجری کی پوسٹ گریجویٹ ٹرینی ڈاکٹر ماہ نور ناصر کو کئی ماہ سے ہراساں کر رہا تھا۔

انہوں نے کہا کہ ابتدائی تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ ملزم ہمایوں شاہ، جو سینڈمین صوبائی اسپتال کوئٹہ میں کنٹریکٹ پر لفٹ آپریٹر تھا اور ضلع نوشکی کا رہائشی تھا، کافی عرصے سے ڈاکٹر ماہ نور کے ساتھ ذاتی تعلق قائم کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔

وزیر صحت کے مطابق ڈاکٹر ماہ نور نے اس معاملے سے کسی کو آگاہ نہیں کیا، جس پر انہیں حیرت ہوئی۔ ان کا کہنا تھا کہ ممکنہ طور پر انہوں نے خاندانی یا قبائلی ردعمل کے خدشے کے باعث اس معاملے کو پوشیدہ رکھا۔

انہوں نے بتایا کہ ملزم کے موبائل فون سے ملنے والے پیغامات اور دیگر ڈیجیٹل شواہد کی جانچ کے بعد ہراسانی کے شواہد سامنے آئے ہیں، جس کے بعد یہ انکشاف ہوا کہ حملے سے قبل کئی ماہ تک خاتون ڈاکٹر کو مبینہ طور پر تنگ کیا جاتا رہا۔

ڈاکٹر ماہ نور ناصر پر گزشتہ دنوں سینڈمین صوبائی اسپتال کے احاطے میں تیزاب پھینکا گیا تھا جس سے ان کا چہرہ اور جسم کے دیگر حصے جھلس گئے تھے۔ واقعے کے بعد انہیں ابتدائی طبی امداد کے لیے کوئٹہ میں علاج فراہم کیا گیا جبکہ بعد ازاں ایئر ایمبولینس کے ذریعے کراچی کے آغا خان یونیورسٹی اسپتال منتقل کر دیا گیا۔

بخت محمد کاکڑ نے صوبے میں برن کیئر سہولیات نہ ہونے کے تاثر کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ کوئٹہ میں جھلسنے والے مریضوں کے علاج کے لیے دو خصوصی مراکز موجود ہیں، جن میں سینڈمین صوبائی اسپتال اور بولان میڈیکل کمپلیکس کے برن سینٹر شامل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ان مراکز میں ماضی میں نوشکی آئل ٹینکر دھماکے اور بلوچستان میں کسٹمز کے ایک گودام میں لگنے والی آگ کے متاثرین کا بھی کامیاب علاج کیا گیا تھا۔

وزیر صحت کے مطابق حملے کے بعد جب سینڈمین اسپتال میں لوگوں کا ہجوم جمع ہوگیا تو ڈاکٹر ماہ نور کو نجی آریہ میڈیکل سینٹر منتقل کیا گیا۔ بعد ازاں ان کے والدین نے انہیں کراچی منتقل کرنے کی درخواست کی جس پر حکومت بلوچستان نے ایئر ایمبولینس کا انتظام کیا۔

انہوں نے کہا کہ اگر اہل خانہ چاہتے تو ڈاکٹر ماہ نور کا علاج کوئٹہ میں بھی جاری رہ سکتا تھا، تاہم والدین کی خواہش پر انہیں آغا خان یونیورسٹی اسپتال منتقل کیا گیا۔

بخت کاکڑ کے مطابق آغا خان اسپتال میں کیے گئے ابتدائی طبی معائنے سے ظاہر ہوا ہے کہ ڈاکٹر ماہ نور کی آنکھوں سمیت اہم اعضا محفوظ ہیں اور زیادہ تر زخم سطحی نوعیت کے ہیں جبکہ صرف ایک مقام پر نسبتاً گہرا زخم موجود ہے۔

انہوں نے امید ظاہر کی کہ ڈاکٹر ماہ نور مکمل صحت یاب ہو جائیں گی۔

آغا خان یونیورسٹی اسپتال سے وابستہ ذرائع کے مطابق ڈاکٹر ماہ نور کی حالت مستحکم ہے اور کراچی پہنچنے کے بعد انہوں نے خود ایمرجنسی روم کے ڈاکٹروں کو اپنی طبی معلومات اور واقعے کی تفصیلات فراہم کیں۔

وزیر صحت نے بتایا کہ وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے متاثرہ ڈاکٹر کے اہل خانہ کو ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے اور ضرورت پڑنے پر بیرون ملک علاج کی پیشکش بھی کی ہے۔

ان کے مطابق وزیراعلیٰ نے والدین کو یقین دلایا ہے کہ اگر معالجین لندن یا کسی اور ملک میں علاج کی سفارش کرتے ہیں تو حکومت بلوچستان تمام انتظامات اور اخراجات برداشت کرے گی۔

دوسری جانب پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے حملے کے بعد ملزم کی تلاش کے لیے ضلع بھر میں کارروائیاں شروع کیں اور بعد ازاں اسے نوشکی میں ایک بس اسٹاپ کے قریب ٹریس کر لیا۔

پولیس حکام کے مطابق ملزم کو گرفتاری دینے کا کہا گیا لیکن اس نے فائرنگ شروع کر دی، جس پر جوابی کارروائی میں وہ ہلاک ہوگیا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ابتدائی تفتیش کے دوران ملزم نے اعتراف کیا تھا کہ اس نے ڈاکٹر ماہ نور پر حملہ اس لیے کیا کیونکہ انہوں نے اس کے ساتھ تعلقات قائم کرنے کی کوششوں کو مسترد کر دیا تھا۔

جائے وقوعہ سے ایک پستول، گولیاں اور خول بھی برآمد کیے گئے۔

ڈاکٹر ماہ نور ناصر ضلع دکی سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر حبیب اللہ ناصر کی بیٹی ہیں اور ان کے ساتھی انہیں ایک محنتی، باصلاحیت اور اپنے پیشے سے مخلص نوجوان سرجن قرار دیتے ہیں۔

یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب ملک بھر میں طبی عملے خصوصاً خواتین ڈاکٹروں کے تحفظ کے حوالے سے تشویش میں اضافہ ہو رہا ہے۔ چند ماہ قبل کوہاٹ میں خاتون ڈاکٹر مہر ویش کو ڈیوٹی کے دوران گولی مار کر قتل کر دیا گیا تھا، جس کے بعد ملک بھر میں ڈاکٹروں نے احتجاج کرتے ہوئے طبی عملے کے لیے مؤثر حفاظتی اقدامات کا مطالبہ کیا تھا۔

طبی تنظیموں کا کہنا ہے کہ ڈاکٹروں کے خلاف بڑھتے ہوئے تشدد، ہراسانی، عدم تحفظ، دھمکیوں اور کام کی جگہ پر دباؤ نے نہ صرف پیشے کے وقار کو متاثر کیا ہے بلکہ نوجوانوں، بالخصوص خواتین، میں شعبہ طب اختیار کرنے کے رجحان کو بھی متاثر کیا ہے۔

ڈاکٹروں کی نمائندہ تنظیموں نے مطالبہ کیا ہے کہ طبی عملے کے خلاف تشدد اور ہراسانی کے واقعات پر زیرو ٹالرنس پالیسی اپنائی جائے، مؤثر شکایتی نظام قائم کیا جائے اور اسپتالوں میں کام کرنے والے تمام طبی کارکنوں کے لیے محفوظ ماحول یقینی بنایا جائے۔

اہم خبریں

فیچر اور تجزیے

اہم خبریں