کوئٹہ: کوئٹہ کے سرکاری اسپتال میں نوجوان خاتون ڈاکٹر پر تیزاب پھینکنے کا واقعہ مبینہ طور پر اس وقت پیش آیا جب انہوں نے ملزم کی دوستی کی پیشکش اور بات چیت کی کوششوں کو مسلسل مسترد کر دیا، جس پر وہ مشتعل ہوگیا اور حملہ کر بیٹھا-
خاتون ڈاکٹر کے کولیگز کے انٹرویوز اور ابتدائی تحقیقات سے وابستہ ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ ملزم جوکہ بعد میں ایک پولیس مقابلے میں مارا گیا خاتون ڈاکٹر سے دوستی اور شادی کے تقاضے کر رہا تھا۔
شدید جھلسنے والی ڈاکٹر ماہ نور ناصر کو بعد ازاں ایئر ایمبولینس کے ذریعے کراچی منتقل کیا گیا، جہاں وہ آغا خان یونیورسٹی اسپتال میں زیر علاج ہیں۔ اسپتال ذرائع کے مطابق ان کی حالت مستحکم ہے اور کراچی پہنچنے کے بعد انہوں نے خود ایمرجنسی روم میں ڈاکٹروں کو اپنی طبی ہسٹری بیان کی۔
ڈاکٹر ماہ نور ناصر سنڈیمن صوبائی اسپتال کوئٹہ میں جنرل سرجری کی پوسٹ گریجویٹ ٹرینی ہیں۔ ان کے ساتھیوں کا کہنا ہے کہ اسپتال میں لفٹ آپریٹر کے طور پر کام کرنے والا ملزم ہمایوں شاہ کافی عرصے سے ان سے دوستی کرنا اور بات چیت بڑھانا چاہتا تھا، تاہم ڈاکٹر مہنور نے نہ صرف اس کی دوستی کی پیشکش مسترد کر دی بلکہ اس سے بات چیت کرنے سے بھی گریز کیا۔
ساتھی ڈاکٹروں کے مطابق ملزم اس انکار پر مسلسل برہم تھا اور ابتدائی تحقیقات سے بھی یہی تاثر ملتا ہے کہ خاتون ڈاکٹر کی جانب سے دوستی اور رابطے سے انکار نے اسے مشتعل کر دیا، جس کے بعد اس نے مبینہ طور پر یہ ہولناک اقدام کیا۔ تاہم حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کے محرکات کا حتمی تعین تحقیقات مکمل ہونے کے بعد کیا جائے گا۔
پولیس کے مطابق ملزم نے اسپتال کے اندر ڈاکٹر ماہ نور کے چہرے پر تیزاب پھینکا اور موقع سے فرار ہوگیا۔ واقعے کے فوراً بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے اس کی گرفتاری کے لیے کارروائی شروع کی اور بعد ازاں اسے ایک بس اسٹاپ کے قریب تلاش کر لیا۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ گرفتاری کی کوشش کے دوران ملزم نے مبینہ طور پر پولیس پر فائرنگ کی، جس پر جوابی کارروائی میں وہ ہلاک ہوگیا۔ پولیس نے موقع سے پستول، گولیاں اور خول بھی برآمد کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
ذرائع کے مطابق ملزم نے مرنے سے قبل یہ دعوی کیا تھا کہ اس نے ڈاکٹر ماہ نور پر حملہ اس لیے کیا کیونکہ وہ اس کی دوستی اور رابطے کی کوششوں کا مثبت جواب نہیں دے رہی تھیں۔
اس واقعے نے ملک بھر کی طبی برادری کو ہلا کر رکھ دیا ہے اور ایک بار پھر اسپتالوں میں کام کرنے والی خواتین ڈاکٹروں کو درپیش ہراسانی، عدم تحفظ اور تشدد کے خطرات کو نمایاں کر دیا ہے۔
ڈاکٹر ماہ نور ضلع دکی سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر حبیب اللہ ناصر کی صاحبزادی ہیں۔ ان کے ساتھیوں نے انہیں ایک محنتی، باصلاحیت اور اپنے پیشے سے مخلص نوجوان ڈاکٹر قرار دیا ہے جو اپنی پوسٹ گریجویٹ تربیت مکمل کرنے پر توجہ مرکوز کیے ہوئے تھیں۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی ہدایات پر صوبائی حکومت نے ڈاکٹر ماہ نور کو کراچی منتقل کرنے کے لیے ایئر ایمبولینس کا انتظام کیا جبکہ ان کے علاج کے تمام اخراجات برداشت کرنے کا اعلان بھی کیا ہے۔
یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا ہے جب چند ماہ قبل کوہاٹ میں خاتون ڈاکٹر مہوش کو ڈیوٹی کے دوران فائرنگ کرکے قتل کر دیا گیا تھا، جس کے بعد ملک بھر میں ڈاکٹروں نے احتجاج کرتے ہوئے طبی عملے کے لیے بہتر سیکیورٹی اور تحفظ کا مطالبہ کیا تھا۔
طبی تنظیموں کا کہنا ہے کہ ڈاکٹروں کے خلاف بڑھتے ہوئے تشدد، ہراسانی، دھمکیوں اور عدم تحفظ کے واقعات نہ صرف طبی برادری کے لیے تشویش کا باعث ہیں بلکہ نوجوانوں، خصوصاً خواتین، کی طب کے شعبے میں دلچسپی کو بھی متاثر کر رہے ہیں۔
ماہرین صحت نے اس واقعے کے تناظر میں بلوچستان میں برنز کے خصوصی مراکز کی عدم دستیابی کی طرف بھی توجہ دلائی ہے۔ ان کے مطابق ڈاکٹر مہنور کو سرکاری مداخلت کے باعث فوری طور پر کراچی منتقل کر دیا گیا، لیکن عام شہریوں کو ایسی سہولتیں میسر نہیں ہوتیں۔
طبی برادری نے مطالبہ کیا ہے کہ اسپتالوں میں کام کرنے والے تمام طبی عملے، بالخصوص خواتین ڈاکٹروں، کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے مؤثر سیکیورٹی اقدامات، شکایات کے فعال نظام اور تشدد کے واقعات پر زیرو ٹالرنس پالیسی اختیار کی جائے-