پاکستان میں ساڑھے تین کروڑ افراد ہائی بلڈ پریشر کا شکار، تقریباً ایک کروڑ 90 لاکھ مرض سے لاعلم

کراچی: پاکستان میں ہائی بلڈ پریشر خاموشی سے پھیلنے والی ایک بڑی بیماری ہے جسے نظر انداز کیا جاتا ہے اور یہ پاکستان میں صحت کا ایک بحران بن چکا ہے، حالیہ تحقیق کے مطابق ملک میں تقریباً ساڑھے تین کروڑ افراد بلند فشار خون میں مبتلا ہیں، تاہم افسوسناک طور پر ان میں سے تقریباً ایک کروڑ 90 لاکھ افراد اپنے مرض سے لا علم ہیں، جس کے باعث وہ دل کے دورے، فالج، گردوں کی ناکامی اور بینائی متاثر ہونے سمیت دیگر سنگین پیچیدگیوں کے خطرے سے دوچار ہو سکتے ہیں۔

ماہرین صحت کے مطابق پاکستان میں ہائی بلڈ پریشر کے مریضوں کی بڑی تعداد تشخیص سے محروم ہے کیونکہ بلند فشار خون اکثر بغیر کسی واضح علامات کے بڑھتا رہتا ہے۔ ماہرین صحت کے مطابق ملک میں ہائی بلڈ پریشر کے مریضوں میں سے تقریباً 55 سے 60 فیصد افراد اپنے مرض سے لاعلم ہیں جبکہ جو افراد تشخیص کے بعد علاج شروع کرتے ہیں ان میں بھی بلڈ پریشر کو قابو میں رکھنے کی شرح کم ہے۔

یہ اعدادوشمار ملک بھر میں کیے گئے “ڈسکورنگ ہائپرٹینشن پراجیکٹ” کے زیر اہتمام کی گئی اسکریننگ کےنتائج سے سامنے آئی ہے جس کے تحت پاکستان کے مختلف شہروں میں بڑے شہروں میں بڑےپیمانے پر بلڈ پریشر اسکریننگ کی گئی۔ اس منصوبے کو مقامی دوا ساز کمپنی فارم ایوو نے اپنے کارپوریٹ سوشل رسپانسبلٹی پروگرام کے تحت شروع کیا تھا جس کا مقصد ملک میں ہائی بلڈ پریشر کی شرح اور اس سے متعلق مسائل کا جائزہ لینا تھا۔

اس منصوبے کے دوران ملک کے 50 شہروں میں ایک لاکھ 16 ہزار سے زائد افراد کے بلڈ پریشر کی جانچ کی گئی جبکہ تقریباً 1500 ڈاکٹرز اور طبی ماہرین نے اس اسکریننگ مہم میں حصہ لیا۔ اس عمل کے دوران بڑی تعداد میں ایسے افراد کی نشاندہی ہوئی جو ہائی بلڈ پریشر کے مریض کا شکار تھے مگر انہیں اس کا علم ہی نہیں تھا۔

ڈسکورنگ ہائپرٹینشن پراجیکٹ کے ڈائریکٹر سید جمشید احمد کے مطابق پاکستان میں لاکھوں افراد ہائی بلڈ پریشر کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں مگر انہیں اس کا علم نہیں ہوتا۔ ان کا کہنا تھا کہ بہت سے مریضوں کو اس وقت بیماری کا پتا چلتا ہے جب وہ دل کی بیماری، فالج یا دیگر پیچیدگیوں کا شکار ہو جاتے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ منصوبے کے تحت پانچ ہزار سے زائد ہائی بلڈ پریشر کے مریضوں کے ڈیٹا کا تفصیلی تجزیہ بھی کیا گیا تاکہ یہ سمجھا جا سکے کہ علاج کے باوجود بلڈ پریشر کو قابو میں رکھنے میں مشکلات کیوں پیش آتی ہیں۔

تحقیق کے نتائج کے مطابق بلڈ پریشر کی ادویات استعمال کرنے والے مریضوں میں سے صرف تقریباً ایک چوتھائی افراد ہی اپنا بلڈ پریشر قابو میں رکھنے میں کامیاب ہو سکے جبکہ صرف طرز زندگی میں تبدیلی کے ذریعے بلڈ پریشر کو کنٹرول کرنے والے افراد میں بھی کامیابی کی شرح کم رہی۔

ماہرین کے مطابق ایسے افراد جو اپنے مرض کو قابو میں نہیں رکھ سکے اس کی بڑی وجوہات میں نمک کا زیادہ استعمال، جنک فوڈ اور میٹھے مشروبات کا بڑھتا ہوا استعمال، موٹاپا، جسمانی سرگرمی کی کمی اور بلڈ پریشر کی باقاعدہ جانچ نہ کروانا شامل ہیں۔ اسکریننگ میں شامل افراد میں سے نصف سے زیادہ نے بتایا کہ وہ باقاعدگی سے ورزش یا جسمانی سرگرمی نہیں کرتے جبکہ بہت سے افراد صرف اس وقت بلڈ پریشر چیک کرواتے ہیں جب انہیں سرد درد ، چکر آنا یا طبیعت خراب محسوس ہوتی ہے۔

سید جمشید احمد کے مطابق ہائی بلڈ پریشر کی بروقت تشخیص اور اس کی روک تھام کے لیے عوام میں آگاہی پیدا کرنا اور باقاعدہ اسکریننگ کو فروغ دینا ضروری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بلڈ پریشر کی جانچ ایک سادہ عمل ہے اور اگر لوگ باقاعدگی سے اپنا بلڈ پریشر چیک کروائیں اور صحت مند طرز زندگی اختیار کریں تو اس بیماری سے ہونے والی بہت سی پیچیدگیوں سے بچا جا سکتا ہے۔

ماہرین امراض قلب کے مطابق شہری طرز زندگی، غیر متوازن غذا، زیادہ نمک کا استعمال اور جسمانی سرگرمی کی کمی پاکستان میں ہائی بلڈ پریشر اور دل کی بیماریوں کے بڑھتے ہوئے رجحان کی اہم وجوہات ہیں۔ ماہرین نے اس بات پر زور دیا ہے کہ اسکریننگ، علاج اور صحت مند طرز زندگی کو فروغ دے کر ہائی بلڈ پریشر کے بڑھتے ہوئے بوجھ کو کم کیا جا سکتا ہے-

اہم خبریں

فیچر اور تجزیے

پاکستان میں ساڑھے تین کروڑ افراد ہائی بلڈ پریشر کا شکار، تقریباً ایک کروڑ 90 لاکھ مرض سے لاعلم

کراچی میٹروپولیٹن یونیورسٹی میں طالبات کے لیے کامن روم کا افتتاح

ادویات کی قلت کا فوری خطرہ نہیں تاہم کمپنیاں تیار رہیں: ڈریپ