کراچی: ضلع سانگھڑ کے علاقے جھول سے تعلق رکھنے والی 8 سالہ بچی میں ریبیز کی تصدیق ہوگئی ہے۔ بچی کو ڈیڑھ ماہ قبل آوارہ کتے نے متعدد اور گہرے زخم لگائے تھے۔
انڈس اسپتال کراچی کے مطابق بچی کو مختلف سرکاری اسپتالوں میں پوسٹ ایکسپوژر پروفیلیکسیس (PEP) دی گئی، تاہم علاج ریبیز سے بچاؤ کی ویکسین نہیں دی گئی۔
اسپتال حکام کے مطابق اب بچی میں ہائیڈروفوبیا (پانی سے خوف) اور ایروفوبیا (ہوا سے خوف) جیسی واضح علامات ظاہر ہو چکی ہیں، جو ریبیز کے آخری مرحلے کی نشاندہی کرتی ہیں۔
متاثرہ بچی کو انڈس اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے جہاں اسے پیلئی ایٹو کیئر فراہم کی جا رہی ہے۔
یہ سال 2026 کا پہلا ریبیز کیس ہے، جبکہ صرف اسی مہینے میں کتے کے کاٹنے کے 3000 سے زائد کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں۔
ماہرین صحت نے خبردار کیا ہے کہ کتے کے کاٹنے کے فوری بعد زخموں کو صابن اور پانی سے کم از کم 15 منٹ تک دھونا، ویکسین اور امیونوگلوبلین کا بروقت اور مکمل استعمال ہی ریبیز سے بچاؤ کا واحد مؤثر طریقہ ہے۔
گزشتہ سال سندھ میں ریبیز کا 21 افراد انتقال کرگئے اور 60 ہزار سے زیادہ کتے کے کاٹنے کے کیسز رپورٹ ہوئے۔
