کراچی: جامعہ کراچی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر وسیم قاضی نے کہا ہے کہ مصنوعی ذہانت، جعلی خبروں اور الگورتھمز کے بڑھتے ہوئے اثرات نے سچائی کے تحفظ کو بڑا چیلنج بنا دیا ہے، جس سے نمٹنے کے لیے حقائق کی تصدیق، تنقیدی سوچ اور ذمہ دارانہ طرزِ عمل ناگزیر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تاریخ کو محض ماضی کے واقعات کے بجائے مستقبل کی تعمیر کے تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کو قائداعظم محمد علی جناح کے 150ویں یوم ولادت کے سلسلے میں جامعہ کراچی کے پاکستان اسٹڈی سینٹر کے زیر اہتمام منعقدہ خصوصی لیکچر بعنوان ’’قائداعظم کا تصورِ پاکستان: قومی وحدت، جمہوری اقدار اور ریاستی استحکام‘‘ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
وائس چانسلر نے کہا کہ جامعہ کراچی کی تاریخ آخری مرتبہ 1975 میں ڈاکٹر ریاض الاسلام نے تحریر کی تھی، جس کے بعد اس حوالے سے کوئی باضابطہ کام نہیں ہوا۔ جامعہ کی علمی و تحقیقی خدمات اور ادارہ جاتی ارتقا کو محفوظ بنانے کے لیے اس کی تاریخ ازسرِنو مرتب کرنا ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ جامعات کی ذمہ داری محض ڈگریاں فراہم کرنا نہیں بلکہ طلبہ میں تحقیق، تخلیقی صلاحیتوں اور تنقیدی فکر کو فروغ دینا بھی ہے۔ نصاب کو عصری تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے اور تعلیم کو سماجی ذمہ داری، قانون کی حکمرانی اور عوامی فلاح سے مربوط بنانے کی ضرورت ہے۔
اس موقع پر سینئر صحافی مظہر عباس نے کہا کہ پاکستان میں تحقیق کا رجحان مسلسل کم ہو رہا ہے، جبکہ جامعات میں تنقیدی سوچ کا عمل تقریباً ختم ہو چکا ہے۔ ان کے مطابق قائداعظم ایک ایسی جمہوری اور شفاف ریاست کے خواہاں تھے جہاں تمام شہریوں، بالخصوص اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ کیا جائے۔
مظہر عباس نے کہا کہ پاکستان میں قانون کی حکمرانی کے بجائے حکمرانوں کی منشا کا قانون نظر آتا ہے، جبکہ نظامِ عدل ابتدائی برسوں ہی سے زوال کا شکار رہا ہے۔ انہوں نے بدعنوانی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ احتساب کے ذمہ دار افراد اور اداروں کو بھی جواب دہ ہونا چاہیے۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا قائداعظم کی زندگی، افکار اور نظریات کی حقیقی تاریخ کبھی مرتب کی جا سکے گی؟ ان کا کہنا تھا کہ ملک میں جمہوری اقدار، شفافیت اور انصاف کے فروغ کے لیے قائداعظم کے تصورِ پاکستان کو سمجھنا ضروری ہے۔