عوامی صحت کے نظام میں بیماریوں کی روک تھام اور مؤثر حکمرانی ناگزیر ہے: ڈاکٹر شہزادعلی خان

کراچی: ہیلتھ سروسز اکیڈمی اسلام آباد کے وائس چانسلر پروفیسرڈاکٹر شہزاد علی خان نے کہا کہ پاکستان کا صحت کا نظام ایک مخلوط نظامِ صحت کی شکل اختیار کرچکا ہے، جس میں سرکاری اور نجی دونوں شعبے شامل ہیں، تاہم محدود مالی وسائل، صحت کی سہولیات تک ناکافی رسائی، کمزور ضابطہ کاری اور بیماریوں کے بڑھتے ہوئے بوجھ کے باعث شعبۂ صحت کو متعدد سنگین چیلنجز کا سامنا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ملک میں تقریباً 2 لاکھ 90 ہزار ڈاکٹرز، 1 لاکھ 30 ہزار ہسپتال کے بستر، 1 لاکھ 8 ہزار کمیونٹی ہیلتھ ورکرز اور 16 ہزار صحت کی سہولیات موجود ہیں، تاہم سرکاری شعبے کی مجموعی کوریج اب بھی محدود ہے۔ دوسری جانب نجی شعبۂ صحت وسیع ہونے کے باوجود اس کا بڑا حصہ مؤثر ضابطہ کاری سے محروم ہے۔ صحت کے مجموعی اخراجات میں حکومت کا حصہ تقریباً 34 فیصد جبکہ نجی شعبے کا 64.4 فیصد ہے، جبکہ عوام اپنی جیب سے 89.9 فیصد اخراجات برداشت کرتے ہیں اور عطیہ دہندگان کا حصہ صرف 1.7 فیصد ہے۔

ڈاکٹر شہزادعلی خان کے مطابق پاکستان میں فی کس صحت کے اخراجات تقریباً 45 امریکی ڈالر ہیں، جبکہ بھارت میں 75 ڈالر، سری لنکا میں 127 ڈالر اور افغانستان میں 50 ڈالر ہیں۔ پاکستان میں صحت پر ہونے والے اخراجات جی ڈی پی کے صرف 0.7 سے 1 فیصد کے برابر ہیں، جبکہ افغانستان میں یہ شرح 9.7 فیصد، سری لنکا میں 3.8 فیصد، بھارت میں 3.6 فیصد اور بنگلہ دیش میں 2.4 فیصد ہے۔ انسانی ترقی کے اشاریے میں پاکستان 189 ممالک میں 150ویں نمبر پر ہے۔ان خیالات کا اظہارانہوں نے بدھ کے روز جامعہ کراچی اور الکوثر یونیورسٹی کے اشتراک سے آئی سی سی بی ایس جامعہ کراچی کی سماعت گاہ میں صحت میں مساوات، استحکام اور جدت کے فروغ پرمنعقدہ پہلی تین روزہ بین الاقوامی کانفرنس کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ ملک کو متعدی اور غیر متعدی بیماریوں کے ساتھ ساتھ غذائی قلت کے سنگین مسائل کا بھی سامنا ہے۔ پاکستان میں 17 فیصد سے زائد آبادی ذیابیطس کا شکار ہے، جبکہ 18 سال سے زائد عمر کے 25 فیصد سے زیادہ افراد ہائی بلڈ پریشر میں مبتلا ہیں۔ 40 سال سے زائد عمر کے تقریباً 36 فیصد افراد بھی بلند فشارِ خون کا شکار ہیں، جبکہ 15 سے 40 سال کی عمر کے تقریباً 30 فیصد افراد میں کولیسٹرول کی زیادتی پائی جاتی ہے۔

ڈاکٹر شہزاد نے بتایا کہ ملک میں 38 فیصد مرد اور 9 فیصد خواتین کسی نہ کسی شکل میں تمباکو استعمال کرتے ہیں۔ شہری علاقوں کی 65 فیصد اور دیہی علاقوں کی 79 فیصد آبادی روزانہ پھلوں کی ایک مکمل مقدار سے بھی کم استعمال کرتی ہے، جبکہ تقریباً 90 فیصد آبادی روزانہ سبزیوں کی دو مقداروں سے بھی کم استعمال کرتی ہے۔ اسی طرح تقریباً 90 فیصد آبادی تفریحی اوقات میں جسمانی سرگرمی سے محروم ہے۔

ان کے مطابق پانچ سال سے کم عمر بچوں میں دست کی شرح 11 فیصد اور نمونیا کی شرح 6 فیصد ہے، جبکہ تقریباً 9 فیصد آبادی ہیپاٹائٹس سی اور 4 فیصد ہیپاٹائٹس بی سے متاثر ہے۔ بچوں میں قد کی نشوونما رکنے یعنی Stunting کی شرح 42.7 فیصد ہے، جو افغانستان کے بعد دنیا میں دوسری بلند ترین شرح ہے۔

غذائی قلت کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ 17.7 فیصد بچے Wasting، 28.9 فیصد کم وزن اور 9.5 فیصد زائد وزن کا شکار ہیں، جبکہ آئرن کی کمی 28.6 فیصد اور زنک کی کمی 18.6 فیصد آبادی کو متاثر کررہی ہے۔ خواتین میں خون کی کمی کی شرح 54 فیصد، وٹامن ڈی کی کمی 79.7 فیصد اور وٹامن اے کی کمی 27.3 فیصد ہے۔ تقریباً 18 فیصد خواتین کم وزن جبکہ 26 فیصد زائد وزن کا شکار ہیں۔

ڈاکٹر شہزاد علی خان نے مزید کہا کہ پاکستان کو نوزائیدہ بچوں کی اموات کے حوالے سے دنیا کی بلند ترین شرح، زچگی کے دوران اموات کی تیسری بلند ترین تعداد اور بچوں کی اموات کی چوتھی بلند ترین تعداد جیسے سنگین مسائل کا سامنا ہے، جبکہ پاکستان دنیا میں تپِ دق (TB) کے مریضوں کی پانچویں سب سے بڑی تعداد رکھنے والے ممالک میں شامل ہے۔ پولیو کے حوالے سے بھی پاکستان دنیا کے ان دو آخری ممالک میں شامل ہے جہاں یہ بیماری اب بھی موجود ہے۔

انہوں نے زور دیا کہ مذکورہ اعداد و شمار پاکستان کے صحت کے نظام کو درپیش چیلنجز کی سنگینی کو واضح کرتے ہیں۔ اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے بنیادی صحت کی سہولیات کی توسیع، بیماریوں کی روک تھام، مؤثر ضابطہ کاری، غذائی قلت کے خاتمے، صحت کے شعبے میں سرکاری سرمایہ کاری میں اضافہ اور سرکاری و نجی شعبوں کے درمیان مؤثر تعاون پر مبنی ایک جامع اور مربوط حکمتِ عملی ناگزیر ہے۔
ڈاکٹر شہزاد نے کہا ہے کہ پاکستان میں ذیابیطس سمیت مختلف بیماریوں کی بڑھتی ہوئی شرح کے پیش نظر صحت کے نظام کو صرف علاج تک محدود رکھنے کے بجائے بیماریوں کی بنیادی سطح پر روک تھام اور مؤثر عوامی صحت کی حکمرانی پر توجہ دینا ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں تقریباً 17 فیصد آبادی، یعنی لگ بھگ تین کروڑ افراد، ذیابیطس سے متاثر ہیں، جو صحت کے نظام کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔

انہوں نے کہا کہ بیماریوں کے بڑھتے ہوئے بوجھ کے جواب میں نئے ڈائیلاسز اور کارڈیک مراکز قائم کرنا ضروری ہوسکتا ہے، تاہم اصل ضرورت بیماریوں کے بنیادی اسباب کی روک تھام اور Upstream Approach اپنانے کی ہے

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں صحت کی ضروریات یکساں نہیں، بلکہ شہری اور دیہی علاقوں کے درمیان صحت، صفائی، بنیادی سہولیات اور معیارِ زندگی کے حوالے سے نمایاں تفاوت موجود ہے۔ اس لیے ملک کے تمام علاقوں کے لیے یکساں پالیسی کے بجائے مقامی ضروریات اور زمینی حقائق کو مدنظر رکھنا ہوگا۔

ڈاکٹر شہزاد نے زور دیا کہ مؤثر اور منصفانہ عوامی صحت کی حکمرانی کے لیے ضروری ہے کہ ملک کے ہر شہری، خواہ وہ بڑے شہر میں رہتا ہو یا دور دراز دیہی علاقے میں، اسے بنیادی صحت، صاف ماحول، تحفظ اور معیاری طبی سہولیات تک مساوی رسائی حاصل ہو۔ یہی ایک مضبوط، مؤثر اور عوام دوست صحت کے نظام کی بنیاد ہے۔

چیئرمین سندھ ہائر ایجوکیشن کمیشن (سندھ ایچ ای سی) ڈاکٹر طارق رفیع نے کہا کہ مؤثر اور معیاری صحت کے نظام کے لیے صرف اسپتال، ادویات اور جدید طبی آلات کافی نہیں، بلکہ قابل، تربیت یافتہ انسانی وسائل، مضبوط انتظامی قیادت اور شواہد پر مبنی پالیسی سازی بھی ناگزیر ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایک کامیاب اسپتال کے پیچھے ماہر ڈاکٹر، نرس، پیتھالوجسٹ، منتظم، محقق اور مؤثر پالیسی ساز کا اہم کردار ہوتا ہے، جبکہ ایسے ماہرین کی تیاری میں جامعات بنیادی کردار ادا کرتی ہیں۔ صحت کے شعبے میں بہتری کے لیے نوجوانوں کو پبلک ہیلتھ، میڈیکل سسٹمز مینجمنٹ، گورننس اور صحت کی پالیسی سازی کے حوالے سے معیاری تعلیم و تربیت فراہم کرنا ضروری ہے۔

ڈاکٹر طارق رفیع نے صحت کی سہولیات میں موجود علاقائی عدم مساوات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بڑے شہروں کے مقابلے میں دور دراز علاقوں میں صحت کی سہولیات اور خدمات کی صورتحال مختلف ہے، جسے بہتر بنانا پالیسی سازوں کی اہم ذمہ داری ہے۔ محدود وسائل کو عوام کی حقیقی ضروریات کے مطابق مؤثر انداز میں استعمال کرنے کے لیے زمینی حقائق اور شواہد کی بنیاد پر فیصلے کرنا ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ بعض بنیادی اور ثانوی صحت مراکز کا انتظام مختلف اداروں کو سونپنے کا تجربہ اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ صحت کے نظام میں صرف فنڈز اور بنیادی ڈھانچہ فراہم کرنا کافی نہیں، بلکہ مؤثر انتظام و انصرام بھی انتہائی اہم ہے۔

چیئرمین سندھ ایچ ای سی نے زور دیا کہ پاکستان میں صحت کے اشاریوں کو بہتر بنانے کے لیے تعلیم، تحقیق، مؤثر حکمرانی، معیاری انسانی وسائل اور بہتر انتظامی نظام پر خصوصی توجہ دینا ہوگی۔ صحت کے مضبوط نظام کی بنیاد جدید طبی سہولیات کے ساتھ ساتھ باصلاحیت افرادی قوت، مؤثر قیادت، شواہد پر مبنی پالیسی سازی اور صحت کی سہولیات تک مساوی رسائی پر قائم ہوتی ہے۔

ڈاکٹر طارق رفیع نے مزید کہا کہ ہم تعلیم اور صحت کے شعبوں پر مطلوبہ سرمایہ کاری کرنے کے لیے تیار نہیں، حالانکہ ان شعبوں میں خاطر خواہ سرمایہ کاری کے بغیر ترقی اور بہتری ممکن نہیں۔ اس خطے میں شاید ایک یا دو ہی ممالک ایسے ہوں گے جو تعلیم اور صحت پر ہم سے کم خرچ کرتے ہیں۔

گورنرسندھ کے پرنسپل سیکریٹری ڈاکٹر سیف الرحمٰن نے کہا کہ ماحولیاتی نگرانی، سیوریج اور گندے پانی کی نگرانی، ویکسینیشن کوریج اور فوری لیبارٹری ٹیسٹنگ جدید نظامِ صحت کی ’’آنکھیں اور کان‘‘ ہیں، جن کے ذریعے بیماریوں کے پھیلاؤ کی بروقت نشاندہی اور ان کی روک تھام ممکن ہے۔

انہوں نے کہا کہ صحتِ عامہ کے مسائل کو محض اعداد و شمار کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے، کیونکہ ہر شماریاتی عدد کے پیچھے ایک انسانی زندگی اور ایک خاندان کی کہانی ہوتی ہے۔ پولیو، غذائی قلت، ریبیز، ملیریا اور غیر محفوظ پانی سے پیدا ہونے والی بیماریوں سمیت متعدد مسائل کو مؤثر پیشگی اقدامات کے ذریعے اسپتال تک پہنچنے سے پہلے ہی روکا جا سکتا ہے۔

انہوں نے سنگاپور، تھائی لینڈ اور روانڈا کے تجربات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان ممالک نے مؤثر نگرانی، بیماریوں کی روک تھام، عوامی شمولیت، جدید ٹیکنالوجی اور مضبوط بنیادی صحت کے نظام کے ذریعے صحتِ عامہ کے چیلنجز سے نمٹنے کے قابلِ ذکر ماڈل پیش کیے ہیں۔ سنگاپور کا تجربہ ظاہر کرتا ہے کہ سائنس، ماحولیاتی نگرانی، قوانین کے مؤثر نفاذ اور عوامی تعاون کو یکجا کرکے بیماریوں پر قابو پایا جا سکتا ہے، جبکہ تھائی لینڈ کی صحت کی اصلاحات بنیادی اور بروقت طبی سہولیات کی اہمیت اجاگر کرتی ہیں۔

ڈاکٹر سیف الرحمٰن نے زور دیا کہ ایک مضبوط اور پائیدار نظامِ صحت کی بنیاد صرف بڑے اسپتال نہیں بلکہ بیماریوں کی پیشگی روک تھام، مؤثر نگرانی، ویکسینیشن، صاف پانی، ماحولیاتی تحفظ، عوامی آگاہی اور بنیادی صحت کے مراکز کو مضبوط بنانے پر استوار ہونی چاہیے۔
این آئی سی وی ڈی کراچی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر طارق صغیر نے کہا کہ ادارے میں کوالٹی اشورنس ڈیپارٹمنٹ قائم کیا جا رہا ہے، جس کی اشد ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ عام طور پر اسپتالوں میں کوالٹی اشورنس کا مؤثر نظام موجود نہیں ہوتا، حالانکہ اس کا بنیادی مقصد مریضوں کی نگہداشت اور علاج کے معیار کی مسلسل نگرانی اور بہتری کو یقینی بنانا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اسپتالوں میں بہتری مؤثر گورننس کے ذریعے ہی ممکن ہے، جس کے لیے تمام متعلقہ افراد کو اپنی ذمہ داری ادا کرتے ہوئے اپنا کردار مؤثر انداز میں ادا کرنا ہوگا۔

کنسلٹنٹ کارڈیالوجسٹ اور پیما پاکستان کے نومنتخب صدر ڈاکٹر احمد سلمان غوری نے کہا ہے کہ پبلک ہیلتھ ایک وسیع اور ہمہ جہت شعبہ ہے، جو صرف اسپتالوں، ادویات اور ڈاکٹروں تک محدود نہیں بلکہ پاکستان کی صحت، وقار اور مستقبل سے جڑا اہم معاملہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ پبلک ہیلتھ کا بنیادی مقصد ایسا معاشرہ تشکیل دینا ہے جہاں لوگوں کو سنگین بیماریوں میں مبتلا ہونے سے قبل مؤثر نگہداشت اور علاج کی سہولیات فراہم کی جاسکیں۔

معروف ماہرِ نفسیات پروفیسر ڈاکٹر اقبال آفریدی نے ذہنی صحت کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے اسے صحت مند معاشرے کے لیے ناگزیر قرار دیا۔ قبل ازیں ڈائریکٹر آئی سی سی بی ایس جامعہ کراچی پروفیسر ڈاکٹر محمد رضا شاہ نے افتتاحی کلمات میں کانفرنس کے اغراض و مقاصد بیان کرتے ہوئے کہا کہ پبلک ہیلتھ پر خصوصی توجہ ہی معاشرے کو ترقی کی راہ پر گامزن کرسکتی ہے۔

اہم خبریں

فیچر اور تجزیے

اہم خبریں