بی ایچ یو سے زچگی کی مریضہ واپس، حکیم اور طبیبہ اہلیہ نے مبینہ طور پر غیر قانونی سی سیکشن کر ڈالا

جھنگ: جھنگ کے علاقے اکڑیانوالہ کے قریب ایک اتائی حکیم اور اس کی طبیبہ اہلیہ نے مبینہ طور پر 24 سالہ خاتون کا غیر قانونی سی سیکشن کر دیا، جس کے نتیجے میں نومولود بچی دم توڑ گئی جبکہ ماں شدید انفیکشن اور دیگر پیچیدگیوں کے باعث کئی روز تک اسپتال میں زیر علاج رہی۔

پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن کو دی گئی شکایت کے مطابق نجی اسکول کے استاد رائے فاروق کی اہلیہ حمل کی مدت مکمل ہونے کے بعد زچگی کی پیچیدگیوں کا شکار ہوئیں تو ان کی والدہ اور نند انہیں بنیادی مرکز صحت منڈی شاہ جیونہ لے گئیں، تاہم وہاں موجود عملے نے مبینہ طور پر انہیں داخل کرنے یا طبی امداد فراہم کرنے سے انکار کر دیا۔

خاتون کی حالت بگڑنے پر اہل خانہ انہیں زچہ و بچہ، سرجری اور نومولود کی نگہداشت کی سہولت رکھنے والے اسپتال منتقل کرنے کے بجائے جھنگ سرگودھا روڈ پر محلہ مظفر کالونی، اکڑیانوالہ میں قائم مطب الخیر لے گئے۔

شکایت میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ مطب چلانے والے حکیم غلام رسول اور ان کی اہلیہ طبیبہ سعدیہ شیر نے مطلوبہ تسلیم شدہ قابلیت اور قانونی اجازت نہ ہونے کے باوجود خاتون کا سی سیکشن کر دیا، حالانکہ وہ نہ تو بڑی سرجری کرنے اور نہ ہی زچگی کی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے مجاز تھے۔

رائے فاروق کے مطابق مبینہ آپریشن کے نتیجے میں بچی کی پیدائش ہوئی، تاہم مطب میں نومولود کو طبی امداد، بحالی تنفس یا ضروری نگہداشت فراہم کرنے کا کوئی مناسب انتظام نہیں تھا، جس کے باعث بچی دم توڑ گئی۔

انہوں نے الزام لگایا کہ ان کی اہلیہ کے پیٹ کا زخم بھی درست طریقے سے بند نہیں کیا گیا جبکہ روئی اور دیگر مواد مبینہ طور پر جسم کے اندر رہ گیا۔ خاتون کی حالت مزید بگڑنے پر اسے جھنگ شہر کے ایک نجی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں رحم کی ہنگامی صفائی کا عمل کرنا پڑا اور انفیکشن سمیت دیگر پیچیدگیوں کے باعث وہ کئی روز تک زیر علاج رہی۔

مبینہ آپریشن کے بعد کرائے گئے الٹرا ساؤنڈ میں زچگی کے بعد رحم کے اندر مواد کی موجودگی کی نشاندہی کرتے ہوئے مریضہ کو فوری طور پر شعبہ امراض نسواں منتقل کرنے کا مشورہ دیا گیا۔ یہ رپورٹ بھی ان دستاویزات میں شامل ہے جن کا پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن کی تحقیقات کے دوران جائزہ لیا جائے گا۔

اس واقعے نے سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں کہ مشرقی طریقہ علاج اور حجامہ کی خدمات کا اشتہار دینے والے ایک مطب میں غیر مستند افراد مبینہ طور پر پیٹ کی بڑی سرجری کیسے کرتے رہے اور زچگی کی ہنگامی حالت میں مبتلا خاتون کو قریبی بی ایچ یو میں ابتدائی طبی امداد اور مناسب اسپتال منتقل کرنے کی سہولت کیوں فراہم نہ کی گئی۔

رائے فاروق نے الزام عائد کیا کہ حکیم اور ان کی اہلیہ نے آپریشن اور بعد کی نام نہاد طبی نگہداشت کے عوض اہل خانہ سے کئی لاکھ روپے وصول کیے۔ نومولود کی موت اور خاتون کی حالت خراب ہونے پر سوال اٹھانے کے بعد انہیں مبینہ طور پر دھمکیاں دی گئیں۔

انہوں نے مزید الزام لگایا کہ پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن سے رجوع کرنے کے بعد حکیم نے ایک مقامی اخبار کے ذریعے ان کے خلاف بے بنیاد الزامات شائع کروائے تاکہ انہیں شکایت واپس لینے پر مجبور کیا جا سکے۔

پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن کے حکام نے بتایا کہ شکایت کی تحقیقات جاری ہیں اور ماہرین اور تفتیش کاروں پر مشتمل ٹیم اکڑیانوالہ جا کر مطب کا معائنہ، ریکارڈ کی جانچ اور اس امر کا تعین کرے گی کہ آیا وہاں غیر مجاز طور پر جراحی کی جا رہی تھی۔

حکام کے مطابق تحقیقات میں مبینہ طور پر علاج کرنے والے افراد کے کردار، مطب میں فراہم کی گئی طبی نگہداشت، نومولود کی موت کے حالات اور بی ایچ یو منڈی شاہ جیونہ کی جانب سے بروقت معائنے، ابتدائی طبی امداد اور ریفرل میں مبینہ ناکامی کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ انکوائری مکمل ہونے کے بعد ذمہ دار قرار پانے والے تمام افراد کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔

اہم خبریں

فیچر اور تجزیے

اہم خبریں