قومی ادارہ برائے صحتِ اطفال میں آگ لگنے کے سنگین خطرات ہیں: فائر سیفٹی آڈٹ رپورٹ میں انکشاف


کراچی: نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف چائلڈ ہیلتھ (NICH) میں فائر سیفٹی آڈٹ کے دوران نیونٹل آئی سی یو سمیت عمارت کے مختلف حصوں میں آگ لگنے کے سنگین خطرات کی نشاندہی ہوئی ہے۔ رپورٹ میں بجلی کی غیر محفوظ وائرنگ، آکسیجن لیکیج، پرانے ایئر کنڈیشننگ یونٹس، غیر فعال فائر الارم سسٹم، ناکافی فائر فائٹنگ انتظامات اور ایمرجنسی راستوں میں رکاوٹوں سمیت متعدد خامیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے فوری اصلاحی اقدامات کی سفارش کی گئی ہے۔

ڈپٹی کمشنر ساؤتھ کراچی کی ہدایات پر 28 اگست 2026 کو نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف چائلڈ ہیلتھ کا فائر سیفٹی آڈٹ کیا گیا۔ آڈٹ 26 اگست کو اسلام آباد کے پی آئی ایم ایس مدر اینڈ چائلڈ سینٹر میں لگنے والی آگ کے واقعے کے بعد کیا گیا، جس میں رپورٹ کے مطابق 14 نومولود بچے جاں بحق ہوئے تھے۔

اسسٹنٹ کمشنر کے دفتر، ریسکیو 1122 اور سول ڈیفنس کے نمائندوں نے مشترکہ طور پر این آئی سی ایچ کے نیونٹل آئی سی یو، مریضوں کے علاقوں، آمدورفت کے راستوں، بجلی کی تنصیبات اور میڈیکل گیس پوائنٹس کا معائنہ کیا۔

فائر سیفٹی آڈٹ کے مطابق نیونٹل آئی سی یو کے ڈیزائن میں بجلی کے پوائنٹس اور آکسیجن سپلائی پائپس ایک ہی وال پینل میں انتہائی قریب نصب ہیں۔ متعدد مقامات پر بجلی کی کھلی تاریں آکسیجن آؤٹ لیٹس کے بالکل قریب پائی گئیں، جس سے اسپارک کی صورت میں آگ بھڑکنے کا شدید خطرہ قرار دیا گیا ہے۔

رپورٹ میں پرانے ایئر کنڈیشننگ یونٹس کو بھی خطرناک قرار دیا گیا ہے۔ کئی اے سی یونٹس کی وائرنگ کھلی اور عارضی حالت میں پائی گئی جبکہ بعض جگہ تاروں کو ٹیپ کے ذریعے جوڑا گیا تھا۔ اے سی یونٹس سے مسلسل پانی کے اخراج کے باعث بجلی اور آکسیجن کی تنصیبات والی دیواروں کو بھی نقصان پہنچنے کی نشاندہی کی گئی ہے۔

معائنے کے دوران کئی مقامات پر چھت کی ٹائلیں غائب یا ہٹی ہوئی پائی گئیں جبکہ کھلی اور گرد آلود کیبلنگ بھی موجود تھی۔

عمارت کے دیگر حصوں میں بھی کھلی اور غیر محفوظ بجلی کی وائرنگ کی نشاندہی ہوئی۔ ڈسٹری بیوشن بورڈز کے کور غائب تھے، ٹرمینلز کھلے اور گندے تھے جبکہ بعض جگہ لائیو بورڈ کے اندر کپڑا موجود پایا گیا۔ رپورٹ کے مطابق بعض کیبلز چھتوں کے ساتھ ڈھیلی حالت میں اور آکسیجن پائپس پر ٹکی ہوئی تھیں۔

پاور روم بھی فائر سیفٹی کے حوالے سے تشویشناک قرار دیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق پاور روم کھلا تھا اور عوام کے لیے آسانی سے قابل رسائی تھا۔ کیبلز بے ترتیب اور کھلی تھیں جبکہ چھت بھی خراب حالت میں پائی گئی۔ پاور روم اور اس کے ساتھ موجود اٹینڈنٹس کے ویٹنگ ایریا میں اسموک ڈیٹیکٹر، فائر ایکسٹنگوشر یا مناسب فائر فائٹنگ انتظامات موجود نہیں تھے۔

نیونٹل آئی سی یو میں آکسیجن لیکیج کی متعدد شکایات بھی رپورٹ کا حصہ ہیں۔ معائنے کے دوران ایک انکیوبیٹر کو آکسیجن فراہم کرنے والی لائن میں گیس کے اخراج کا مشاہدہ کیا گیا۔ آکسیجن پائپ کے جوڑوں پر ٹیپ لپٹی ہوئی تھی، جسے رپورٹ میں مستقل مرمت کے بجائے عارضی طریقہ کار کی علامت قرار دیا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق نیونٹل آئی سی یو کا مکینیکل وینٹی لیشن سسٹم غیر فعال تھا اور وینٹی لیشن کے لیے کھڑکیوں کا استعمال کیا جا رہا تھا۔ رپورٹ میں خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ آکسیجن کے مسلسل استعمال اور لیکیج کی صورت میں بند کمرے میں آکسیجن جمع ہوسکتی ہے اور معمولی اسپارک بھی تیزی سے بڑی آگ کا سبب بن سکتا ہے۔

فائر سیفٹی آڈٹ میں یہ انکشاف بھی سامنے آیا کہ این آئی سی ایچ میں آگ لگنے کا یہ پہلا واقعہ نہیں۔ رپورٹ کے مطابق 30 جون 2026 کو تیسری منزل کے انٹینسیو کیئر یونٹ میں آگ لگی تھی، جس کے باعث کافی نقصان ہوا اور مریضوں کو منتقل کرنا پڑا۔

رپورٹ میں جنوری 2020 کے ایک واقعے کا بھی حوالہ دیا گیا ہے، جب ایک نومولود بچہ انکیوبیٹر میں آگ لگنے کے نتیجے میں جاں بحق ہوا تھا۔ ابتدائی پولیس تحقیقات میں شارٹ سرکٹ کو آگ کی وجہ قرار دیا گیا تھا۔

فائر سیفٹی انتظامات کے جائزے میں بعض اسموک ڈیٹیکٹرز موجود ہونے کے باوجود زیادہ تر کو غیر فعال پایا گیا۔ فائر الارم سسٹم بھی غیر فعال تھا جبکہ فائر ایکسٹنگوشرز کی تعداد ناکافی قرار دی گئی۔

رپورٹ کے مطابق اسپتال کے اسٹاف کو فائر ایمرجنسی سے نمٹنے کی مناسب تربیت نہیں دی گئی تھی اور فائر ڈرلز بھی نہیں کرائی گئیں۔ فائر ہوز سسٹم، فائر بلینکٹس اور ریسپائریٹری پروٹیکشن ماسکس بھی دستیاب نہیں تھے۔

ایمرجنسی ایگزٹس کھلے تو تھے تاہم ان کے راستے سامان اور کچرے کے باعث رکاوٹ کا شکار پائے گئے جبکہ مناسب سائن ایج بھی موجود نہیں تھی۔

فائر سیفٹی آڈٹ میں چوتھی، پانچویں اور چھٹی منزلوں کو سب سے زیادہ تشویشناک قرار دیا گیا ہے کیونکہ انہی منزلوں پر نیونٹل آئی سی یو وارڈز قائم ہیں، جہاں انتہائی کمزور نومولود بچے زیر علاج ہوتے ہیں، آکسیجن کا استعمال زیادہ ہوتا ہے اور کسی ہنگامی صورتحال میں انخلا بھی مشکل ہوسکتا ہے۔

اسسٹنٹ کمشنر کی رپورٹ میں مجموعی طور پر قرار دیا گیا ہے کہ نیونٹل آئی سی یو میں آگ لگنے کے کئی اہم عوامل بیک وقت موجود ہیں، جن میں کھلی اور خراب بجلی کی وائرنگ بطور ممکنہ ignition source، پرانے اے سی یونٹس، آکسیجن لیکیج بطور accelerant، ناقص وینٹی لیشن، ایسے مریض جو خود ہنگامی حالت میں باہر نہیں نکل سکتے، غیر مؤثر فائر ڈیٹیکشن سسٹم، ناکافی فائر فائٹنگ انتظامات، غیر تربیت یافتہ اسٹاف اور رکاوٹ والے ایمرجنسی ایگزٹ روٹس شامل ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ این آئی سی ایچ کی صورتحال اسلام آباد کے پی آئی ایم ایس میں پیش آنے والے واقعے سے مماثلت رکھتی ہے، جس کے بعد فوری اصلاحی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔

فائر سیفٹی رپورٹ میں تمام کھلے برقی پوائنٹس، ڈسٹری بیوشن بورڈز، سرکٹ بریکرز اور ساکٹس کو فوری محفوظ بنانے، نیونٹل آئی سی یو سے تمام عارضی، ٹیپ شدہ اور غیر معیاری وائرنگ ختم کرنے اور آکسیجن آؤٹ لیٹس، فلو میٹرز، کنیکٹرز اور ٹیوبنگ کی فوری انسپیکشن اور ضرورت کے مطابق تبدیلی کی سفارش کی گئی ہے۔

پاور روم کو عوام کی رسائی سے محفوظ بنانے، وہاں فائر ڈیٹیکشن اور فائر فائٹنگ انتظامات فراہم کرنے اور نیونٹل آئی سی یو کا مکینیکل وینٹی لیشن سسٹم فوری بحال کرنے کی بھی سفارش کی گئی ہے۔

رپورٹ میں فائر ڈیٹیکشن اور الارم سسٹم کو مکمل طور پر فعال کرکے اس کی فعالیت کا سرٹیفکیٹ حاصل کرنے، مناسب تعداد میں فائر ایکسٹنگوشرز، فائر بلینکٹس اور ریسپائریٹری پروٹیکشن ماسکس فراہم کرنے اور تمام وارڈ اسٹاف کو فائر ایمرجنسی سے نمٹنے کی تربیت دینے پر بھی زور دیا گیا ہے۔

تمام ایمرجنسی ایگزٹس کو فوری طور پر رکاوٹوں سے پاک کرنے اور مناسب روشن سائن ایج نصب کرنے کی سفارش بھی کی گئی ہے۔

فائر سیفٹی آڈٹ کے دوران لی گئی فوٹوگرافک شہادتیں بھی رپورٹ کے ساتھ منسلک کی گئی ہیں جبکہ رپورٹ کی نقول کمشنر کراچی ڈویژن اور ایگزیکٹو ڈائریکٹر نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف چائلڈ ہیلتھ کو فوری ضروری کارروائی کے لیے ارسال کی گئی ہیں۔

اہم خبریں

فیچر اور تجزیے

اہم خبریں