کراچی: بلوچستان میں کینسر کے مریضوں سے متعلق ایک نئی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ صوبے میں مردوں اور خواتین دونوں میں غذائی نالی کا کینسر بڑی تعداد میں سامنے آرہا ہے، جبکہ خواتین میں بریسٹ کینسر سب سے زیادہ عام ہے۔
تحقیق کے مطابق 2021 سے 2024 کے دوران بلوچستان کے مختلف علاقوں سے 16 ہزار 342 بایوپسی نمونے حاصل کیے گئے، جن میں سے 5 ہزار 145 افراد میں کینسر کی تصدیق ہوئی۔ ان مریضوں میں 52 فیصد مرد اور 48 فیصد خواتین تھیں۔
یہ تحقیق آغا خان یونیورسٹی اسپتال کراچی اور آریا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز کوئٹہ کے ماہرین نے کی ہے اور اسے جرنل آف دی کالج آف فزیشنز اینڈ سرجنز پاکستان میں شائع کیا گیا ہے۔ تحقیق کا مقصد 2021 سے 2024 کے دوران بلوچستان میں مختلف عمر کے افراد میں کینسر کی اقسام اور ان کے رجحانات کا جائزہ لینا تھا۔
تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ بلوچستان میں 20 سال یا اس سے زیادہ عمر کے مردوں میں غذائی نالی کا کینسر سب سے زیادہ پایا گیا۔ 2 ہزار 438 بالغ مردوں میں سے 425 افراد یعنی 17.4 فیصد غذائی نالی کے کینسر میں مبتلا تھے۔
مردوں میں اس کے بعد معدے کا کینسر 351 کیسز یعنی 14.4 فیصد اور بڑی آنت، rectum اور anal canal کا کینسر 225 کیسز یعنی 9.2 فیصد رہا، جبکہ مثانے کے کینسر کے 223 کیسز یعنی 9.1 فیصد سامنے آئے۔
محققین کے مطابق بلوچستان میں کینسر کا یہ رجحان پاکستان کے دوسرے علاقوں سے مختلف ہے۔ قومی اور کراچی کینسر رجسٹری کے اعداد و شمار میں بالغ مردوں میں منہ کا کینسر زیادہ عام پایا گیا، تاہم بلوچستان میں غذائی نالی کا کینسر سب سے زیادہ سامنے آیا۔
خواتین میں بریسٹ کینسر سب سے زیادہ عام رہا۔ تحقیق میں شامل 2 ہزار 351 بالغ خواتین میں سے 526 یعنی 22.4 فیصد خواتین میں بریسٹ کینسر کی تشخیص ہوئی۔
خواتین میں غذائی نالی کا کینسر دوسرے نمبر پر رہا، جس کے 434 کیسز یعنی 18.5 فیصد رپورٹ ہوئے۔ بڑی آنت کے کینسر کے 125 کیسز یعنی 5.3 فیصد جبکہ منہ کے کینسر کے 113 کیسز یعنی 4.8 فیصد سامنے آئے۔
تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ بلوچستان میں خواتین میں غذائی نالی کے کینسر کی شرح کراچی کے مقابلے میں زیادہ ہے۔ محققین کے مطابق مردوں اور خواتین دونوں میں اس کینسر کی زیادہ شرح اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ علاقے میں کچھ مشترکہ ماحولیاتی یا طرز زندگی کے عوامل اس میں کردار ادا کرسکتے ہیں۔
محققین نے غذائی نالی کے کینسر کی ممکنہ وجوہات میں بلوچستان کے دیہی علاقوں میں بہت زیادہ گرم چائے اور دیگر گرم مشروبات کے استعمال کو بھی شامل کیا ہے۔ تحقیق کے مطابق بار بار انتہائی گرم چیزیں پینے سے غذائی نالی کو نقصان پہنچ سکتا ہے اور طویل عرصے میں کینسر کا خطرہ بڑھنے کا امکان ہوسکتا ہے۔
اس کے علاوہ نمکین اور خشک گوشت جیسی طویل عرصے تک محفوظ رکھی جانے والی غذاؤں، تازہ پھلوں اور سبزیوں کا کم استعمال، بعض مضر غذائی اجزا، افیون کا استعمال اور ماحولیاتی عوامل کو بھی ممکنہ وجوہات میں شامل کیا گیا ہے۔ تاہم تحقیق میں ان عوامل کو کینسر کی حتمی وجہ قرار نہیں دیا گیا بلکہ ممکنہ عوامل کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔
تحقیق کے مطابق مجموعی کینسر کیسز میں بچوں اور نوعمر افراد کا حصہ 7 فیصد رہا۔ بچوں میں کینسر کی اقسام بڑوں سے مختلف تھیں اور دماغ کی رسولیاں نمایاں کینسرز میں شامل رہیں، جبکہ مختلف اقسام کے لمفوما بھی بڑی تعداد میں سامنے آئے۔
تحقیق میں بڑی آنت کے کینسر کو بھی اہم مسئلہ قرار دیا گیا ہے۔ بالغ مردوں میں اس کے 225 جبکہ خواتین میں 125 کیسز رپورٹ ہوئے۔ محققین کے مطابق شہروں میں بڑھتی آبادی، تیار شدہ کھانے کا زیادہ استعمال، جسمانی سرگرمی میں کمی اور موٹاپے میں اضافہ بڑی آنت کے کینسر کے بڑھتے ہوئے رجحان سے منسلک ہوسکتا ہے۔
تحقیق میں پاکستان میں کینسر کے درست اعداد و شمار کی کمی کی نشاندہی بھی کی گئی ہے۔ محققین کے مطابق پاکستان میں ابھی تک کینسر کے مریضوں کا مکمل قومی ریکارڈ موجود نہیں، جبکہ بلوچستان میں محدود طبی اور تشخیصی سہولیات کے باعث کینسر کے حقیقی مریضوں کی تعداد موجودہ اعداد و شمار سے زیادہ بھی ہوسکتی ہے۔
محققین نے کینسر کے مریضوں کا باقاعدہ ریکارڈ رکھنے کے نظام کو بہتر بنانے، ملک کے مختلف علاقوں میں مزید تحقیقات کرنے اور مریضوں کے طبی، ریڈیالوجی اور پیتھالوجی ریکارڈ کو ایک مربوط نظام میں شامل کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
تحقیق کے مطابق بلوچستان میں کینسر کا پیٹرن ملک کے دوسرے علاقوں سے نمایاں طور پر مختلف ہے۔ خاص طور پر بالغ مردوں میں غذائی نالی کا کینسر منہ کے کینسر کے مقابلے میں تقریباً چار گنا زیادہ رپورٹ ہوا، جس سے بلوچستان میں کینسر سے بچاؤ کے لیے علاقے کے مخصوص عوامل کو مدنظر رکھتے ہوئے حکمت عملی بنانے کی ضرورت اجاگر ہوتی ہے۔