اسلام آباد: پمز کے نرسری وارڈ میں آتشزدگی سے 14 نومولود بچوں کی ہلاکت کے چند روز بعد اسلام آباد ہیلتھ کیئر ریگولیٹری اتھارٹی (آئی ایچ آر اے) اور وفاقی وزارت صحت کے درمیان اختلافات کھل کر سامنے آگئے ہیں، اتھارٹی کے بورڈ نے سابق چیف ایگزیکٹو آفیسر اور موجودہ قائم مقام ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ ڈاکٹر محمد زعیم ضیاء کے دور کا انتظامی جائزہ لینے کا مطالبہ کردیا جبکہ وزارت صحت نے آڈیٹر جنرل آف پاکستان سے اتھارٹی کے دو مالی سالوں کے مالی اور کارکردگی آڈٹ کی درخواست کردی ہے۔
دونوں اداروں کی جانب سے ایک دوسرے کے معاملات کی چھان بین کے مطالبات ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب پمز سانحے کے بعد وفاقی دارالحکومت کے سرکاری اسپتالوں کی نگرانی، لائسنسنگ اور کم از کم حفاظتی معیارات پر عملدرآمد میں آئی ایچ آر اے کے کردار پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔
آئی ایچ آر اے بورڈ نے 27 اگست کو ہونے والے اپنے 59ویں اجلاس کے بعد 29 اگست کو وفاقی وزارت قومی صحت کو لکھے گئے خط میں ڈاکٹر محمد زعیم ضیاء کے اضافی چارج پر بطور چیف ایگزیکٹو آفیسر دور کے فیصلوں اور کارکردگی کا غیر جانبدارانہ انتظامی جائزہ لینے کا مطالبہ کیا۔
بورڈ نے کہا کہ ڈاکٹر زعیم سے متعلق اس کے تحفظات سرکاری ریکارڈ اور بورڈ کے فیصلوں پر مبنی ہیں اور ان کا تعلق کسی ذاتی معاملے سے نہیں۔ بورڈ نے ان کی کارکردگی کو غیر تسلی بخش قرار دیتے ہوئے قواعد و ضوابط نظرانداز کرنے، اہم معاملات قانونی فورم کے سامنے پیش نہ کرنے اور بورڈ کے فیصلوں پر تاخیر سے یا سرے سے عمل نہ کرنے کے الزامات عائد کئے۔
بورڈ نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ اتھارٹی کی بنیادی ریگولیٹری ذمہ داریوں پر مناسب توجہ نہیں دی گئی جبکہ وزارت صحت اور پارلیمانی فورمز کو مبینہ طور پر فراہم کئے گئے اعداد و شمار اور آئی ایچ آر اے کے سرکاری ریکارڈ میں فرق پایا گیا، بالخصوص رجسٹرڈ طبی مراکز اور ان کے معائنے سے متعلق معلومات میں، جس کی ریکارڈ کی بنیاد پر تصدیق کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
بورڈ نے ایچ ایف اے ٹی ایپ، آن لائن رجسٹریشن اور لائسنسنگ، ویسٹ اور کمپلینٹ پورٹلز، چیٹ بوٹ، رپورٹ اے کویک سسٹم اور پوڈکاسٹ اسٹوڈیو جیسے منصوبوں کا کریڈٹ ڈاکٹر زعیم کو دینے سے بھی اختلاف کیا اور کہا کہ یہ بورڈ کی ہدایات پر آئی ایچ آر اے کے مختلف ڈائریکٹوریٹس نے مکمل کئے تھے۔
خط میں ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر کے دفتر سے افراد کی مبینہ طور پر منظوری کے بغیر تعیناتی کا بھی ذکر کیا گیا جبکہ بورڈ نے الزام عائد کیا کہ انٹرن شپ، اخراجات، سرکاری گاڑیوں، ایندھن اور اہم انتظامی دستاویزات سے متعلق فیصلے مجاز فورم کے سامنے نہیں رکھے گئے۔
ایک مبینہ بھتہ خوری کی شکایت کا حوالہ دیتے ہوئے بورڈ نے کہا کہ تحقیقاتی کمیٹی نے تین بیرونی افراد کو ذمہ دار قرار دیا تھا تاہم اس کی سفارشات اور بعد میں دی گئی بورڈ کی ہدایات پر عملدرآمد نہیں کیا گیا۔ بورڈ نے پیٹی کیش کے غیر دانشمندانہ استعمال، گاڑیوں اور ایندھن سے متعلق بے ضابطگیوں اور بعض سرگرمیوں کیلئے وزارت یا وزیر کی منظوری کے غیر مصدقہ دعوؤں کا الزام بھی عائد کیا۔
بورڈ کے مطابق آئی ایچ آر اے کا بجٹ قانونی منظوری کے بغیر بھجوایا گیا جبکہ عدالتی کارروائی کے باعث روکے گئے سروس رولز بھی بورڈ کی پیشگی منظوری کے بغیر جاری کئے گئے۔
ڈاکٹر زعیم ضیاء، جو وزارت صحت کے گریڈ 19 کے افسر ہیں، کو 17 اگست کو تین ماہ یا مستقل افسر کی تعیناتی تک گریڈ 20 کے ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ کا اضافی چارج دیا گیا تھا۔ اس سے قبل وزارت صحت نے بورڈ کے اعتراض کے باوجود انہیں تیسری مرتبہ آئی ایچ آر اے کے چیف ایگزیکٹو آفیسر کا اضافی چارج دیا تھا، جس پر وزارت کا مؤقف تھا کہ وقفے کے بعد جاری کیا گیا حکم نئی تعیناتی شمار ہوتا ہے۔
دوسری جانب ڈاکٹر محمد زعیم ضیاء نے اپنے خلاف الزامات مسترد کرتے ہوئے کہا کہ بطور قائم مقام چیف ایگزیکٹو آفیسر ان کے دور میں تمام امور قواعد و ضوابط اور مقررہ طریقہ کار کے مطابق انجام دیئے گئے جبکہ طبی مراکز کی لائسنسنگ کیلئے بھی فعال اقدامات کئے گئے۔
انہوں نے کہا کہ کارکردگی کا باقاعدہ جائزہ حقائق سامنے لانے کا بہتر طریقہ ہوگا اور اس کیلئے جنوری 2025 سے 26 جنوری 2026 تک آئی ایچ آر اے کی کارکردگی کا ان کے دور، یعنی جنوری 2026 کے آخر سے جولائی 2026 تک، کی کارکردگی سے تقابلی جائزہ لیا جانا چاہئے۔
آئی ایچ آر اے بورڈ نے پمز سانحے کے بعد بعض خبروں پر بھی اعتراض کرتے ہوئے خدشہ ظاہر کیا کہ نومولود بچوں کی ہلاکت کے واقعے کو اتھارٹی کے خلاف عدم اعتماد پیدا کرنے کیلئے استعمال کیا جارہا ہے۔ بورڈ کا کہنا تھا کہ اس کا مطالبہ وفاقی حکومت کے اختیار کو چیلنج کرنا نہیں بلکہ متعلقہ حکام کو اپنے جائزے سے مکمل طور پر آگاہ کرنا ہے۔
آئی ایچ آر اے کے مطابق اسلام آباد ہیلتھ کیئر ریگولیشن ایکٹ 2018 کی دفعہ 28 کے تحت وفاقی حکومت کے طبی ادارے رجسٹرڈ تصور کئے جاتے ہیں تاہم حکومت کیلئے ان اداروں کے کم از کم مقررہ معیارات پر عملدرآمد کی تصدیق ضروری ہے جبکہ انہیں اپنی طبی خدمات کیلئے لائسنس بھی حاصل کرنا ہوتا ہے۔
آئی ایچ آر اے حکام کا کہنا ہے کہ پمز نے کبھی لائسنس کیلئے درخواست نہیں دی، جس کے بعد یہ سوال بھی اٹھ رہا ہے کہ آیا اسپتال انتظامیہ کو لائسنس حاصل کرنے کی ہدایت کی گئی تھی اور ایسا نہ کرنے کی صورت میں ریگولیٹر نے کیا کارروائی کی۔
دوسری جانب وفاقی وزارت صحت نے 30 اگست کو ایک علیحدہ خط کے ذریعے آڈیٹر جنرل آف پاکستان سے آئی ایچ آر اے کے مالی سال 2024-25 اور 2025-26 کے مالی اور کارکردگی آڈٹ کرانے کی درخواست کردی ہے۔ وزارت نے کہا کہ وہ 2024-25 کے آڈٹ کیلئے 11 جون کو کی گئی اپنی سابقہ درخواست بھی دہرا رہی ہے۔
وزارت نے اسلام آباد ہیلتھ کیئر ریگولیشن ایکٹ کی دفعہ 40 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ہر مالی سال ختم ہونے کے 90 روز کے اندر آڈٹ ہونا ضروری ہے تاہم مالی سال 2024-25 کا آڈٹ نہیں ہوسکا، اس لئے دونوں مالی سالوں کا آڈٹ ترجیحی بنیادوں پر مکمل کیا جائے۔
وزارت صحت کے ایک سینئر افسر کے مطابق مالی، کارکردگی اور ریگولیٹری آڈٹ سے یہ تعین کرنے میں مدد ملے گی کہ آئی ایچ آر اے کے معاملات میں کوئی انتظامی کوتاہی یا بدانتظامی ہوئی یا نہیں، جس میں مالی سال 2024-25 اور 2025-26 کا وہ عرصہ بھی شامل ہوگا جب ڈاکٹر زعیم ضیاء اتھارٹی کے معاملات کی سربراہی کررہے تھے۔