کراچی: سندھ کی صوبائی ڈرگ ٹیسٹنگ لیبارٹری کراچی نے کراچی کے مختلف اضلاع اور مارکیٹوں سے حاصل کیے گئے سرنجز کے نمونوں پر آٹو ڈسیبلٹی ٹیسٹ کی چونکا دینے والی رپورٹ جاری کر دی ہے۔
لیب رپورٹ کے مطابق مارکیٹ میں فروخت ہونے والی متعدد کمپنیوں کی سرنجز کا ‘دوبارہ استعمال روکنے والا خودکار نظام’ (Auto-Disability & Re-use Prevention Feature) مکمل طور پر ناکام ہو چکا ہے، جس کے بعد ملک بھر میں استعمال شدہ سرنجز کے ذریعے ایچ آئی وی اور ہیپاٹائٹس جیسی جان لیوا بیماریوں کے پھیلنے کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔
صوبائی لیبارٹری کی رپورٹ
ڈائریکٹر سندھ ڈرگ ٹیسٹنگ لیب کراچی سید عدنان رضوی متعلقہ ڈرگ انسپکٹرز، سیکریٹری کوالٹی کنٹرول بورڈ اور ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی پاکستان کو ارسال کردی ہے،
موصول ہونے والی دستاویزات کے مطاب، ڈرگ انسپکٹرز نے کراچی سمیت سندھ کی مختلف مارکیٹوں سے مختلف مقامی اور قومی کمپنیوں کے 30 سے زائد برانڈز کے نمونے حاصل کیے تھے۔ ان نمونوں میں بنیادی طور پر 3 ایم ایل (3ml) اور 5 ایم ایل (5ml) کی وہ سرنجز شامل تھیں جنہیں قانون کے مطابق ‘ایک بار استعمال کے بعد ناکارہ’ (Auto-Disable) ہو جانا چاہیے تھا۔
سندھ ڈرگ ٹیسٹنگ لیب نے مختلف کمپنیوں کے 6 بڑے برانڈز کی سرنجز کو ‘سب اسٹینڈرڈ’ یعنی غیر معیاری قرار دے دیا ہے۔
سندھ ڈرگ ٹیسٹنگ لیب کے ذرائع کے مطابق ٹیسٹ کے دوران ان غیر معیاری سرنجز پر جب معیاری فورس اپلائی کی گئی تو ان کا ری یوز پریوینشن فیچر کام نہیں کر سکا، یعنی ان سرنجز کو دوبارہ استعمال کرنا ممکن پایا گیا جو کہ ڈرگ ایکٹ 1976 اور میڈیکل ڈیوائسز رولز 2017 کی سنگین خلاف ورزی ہے۔
لیب حکام کے مطابق مذکورہ غیر معیاری کمپنیاں بڑے پیمانے پر یہ سرنجز تیار کر کے نہ صرف کراچی بلکہ ملک بھر کے سرکاری و نجی ہسپتالوں اور میڈیکل اسٹورز پر سپلائی کر رہی ہیں۔
محکمہ صحت کے ذرائع کے مطابق ڈرگ ٹیسٹنگ لیبارٹری سندھ نے اس ٹیسٹ رپورٹ کی کاپیاں باقاعدہ قانونی کارروائی اور مارکیٹ سے اسٹاک فوری ضبط کرنے کے لیے متعلقہ ڈرگ انسپکٹرز (بشمول خیرپور و دیگر اضلاع) اور سیکریٹری کوالٹی کنٹرول بورڈ کراچی کو ارسال کر دی ہیں تاکہ ان کمپنیوں کے لائسنس معطل کر کے فوجداری کارروائی کی جا سکے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان خصوصاً صوبہ سندھ پہلے ہی سرنجز کے دوبارہ استعمال کے باعث ایچ آئی وی اور ہیپاٹائٹس کے متعدد آؤٹ بریکس (جیسے لاڑکانہ آؤٹ بریک) کا سامنا کر چکا ہے، اور ایسی صورتحال میں آٹو ڈسیبل فیچر کا فیل ہونا کسی میڈیکل ڈیزاسٹر سے کم نہیں ہے۔
ماہرین نے کہا کہ پاکستان میں آٹو ڈسیبل (AD) سرنجز کو لازمی قرار دینے کا مقصد ہی یہ تھا کہ عطائی ڈاکٹرز یا غفلت کے شکار ہیلتھ ورکرز ایک سرنج کو دوسرے مریض کے لیے استعمال نہ کر سکیں۔ اگر لیب رپورٹ یہ ثابت کر رہی ہے کہ سرنج کا خودکار لاک سسٹم ہی کام نہیں کر رہا، تو اس کا مطلب ہے کہ ایک ہی سرنج کئی مریضوں کو لگائی جا سکتی ہے۔ یہ غفلت پاکستان کو ایڈز اور ہیپاٹائٹس کا گڑھ بنا دے گی۔
ماہرین نے کہا کہ جب تک مینوفیکچرنگ پلانٹس کی سخت مانیٹرنگ نہیں ہوگی اور غیر معیاری مٹیریل استعمال کرنے والی کمپنیوں کے مالکان کو جیلوں میں نہیں ڈالا جائے گا، تب تک معصوم شہریوں کی زندگیاں داؤ پر لگی رہیں گی۔ حکومت کو چاہیے کہ فوری طور پر ان 6 برانڈز کے نام پبلک کرے اور عوام کو ان کے استعمال سے روکے۔
طبی تنظیموں نے حکومتِ سندھ اور وفاقی وزارتِ صحت سے مطالبہ کیا ہے کہ ان کمپنیوں کے خلاف فوری کریک ڈاؤن کیا جائے اور ڈرگ انسپکٹرز کے نظام کو مزید فعال بنایا جائے تاکہ کسی بھی نجی یا سرکاری ہسپتال میں ان غیر معیاری سرنجز کا ایک بھی یونٹ استعمال نہ ہو سکے۔