کراچی میں فیٹل ایکو کارڈیوگرافی کی جدید سہولت متعارف، دورانِ حمل پیدائش سے قبل بچے کے دل کی بیماریوں کی بروقت تشخیص ممکن

کراچی: قومی ادارہ برائے امراض قلب (این آئی سی وی ڈی) نے حاملہ خواتین اور نومولود بچوں کی بہتر صحت کے لیے فیٹل ایکو کارڈیوگرافی کی خصوصی سہولت متعارف کرادی ہے۔ اس جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے دورانِ حمل ماں کے پیٹ میں موجود بچے کے دل کا تفصیلی معائنہ کیا جا سکتا ہے، جس سے اب پیدائشی دل کی بیماریوں کی بروقت تشخیص ممکن ہو گئی ہے۔

ماہرین کے مطابق فیٹل ایکو کارڈیوگرافی ایک خصوصی الٹراساؤنڈ ٹیسٹ ہے جو حمل کے دوران بچے کے دل کی ساخت، دھڑکن اور خون کے بہاؤ کا جائزہ لینے کے لیے کیا جاتا ہے۔ اس معائنے کے ذریعے بچے کے دل میں موجود کسی بھی پیدائشی نقص یا بیماری کو قبل از وقت شناخت کیا جا سکتا ہے، جس سے علاج اور نگہداشت کے لیے بروقت اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔

این آئی سی وی ڈی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر طاہر صغیر کے مطابق یہ سہولت خاص طور پر ان خواتین کے لیے نہایت اہم ہے جنہیں حمل کے دوران ذیابطیس، ہائی بلڈ پریشر یا دیگر طبی پیچیدگیوں کا سامنا ہو، یا جن کے خاندان میں پیدائشی دل کی بیماریوں کی تاریخ موجود ہو۔ اسی طرح اگر روٹین الٹراساؤنڈ میں بچے کے دل سے متعلق کسی مسئلے کا شبہ ظاہر ہو تو فیٹل ایکو کارڈیوگرافی مزید واضح تشخیص میں معاون ثابت ہوتی ہے۔

ڈاکٹر طاہر صغیر کا کہنا ہے کہ حمل کے 18 سے 24 ہفتوں کے درمیان یہ معائنہ کروانا زیادہ مؤثر سمجھا جاتا ہے کیونکہ اس عرصے میں بچے کے دل کی ساخت واضح طور پر دیکھی جا سکتی ہے۔ بروقت تشخیص سے نہ صرف دورانِ حمل بہتر طبی نگرانی ممکن ہوتی ہے بلکہ پیدائش کے فوراً بعد علاج کی منصوبہ بندی بھی کی جا سکتی ہے، جس سے پیچیدگیوں کے امکانات کم ہو جاتے ہیں۔

این آئی سی وی ڈی کی جانب سے جاری آگاہی مہم میں کہا گیا ہے کہ ہر دھڑکن قیمتی ہے، اس لیے حمل کے دوران بچے کی صحت پر خصوصی توجہ دینا ضروری ہے۔ ادارے کے مطابق یہ جدید سہولت ماں اور بچے دونوں کے لیے محفوظ مستقبل کی ضمانت بن سکتی ہے، کیونکہ ابتدائی تشخیص سے مؤثر علاج، بہتر نگہداشت اور صحت مند زندگی کے امکانات میں اضافہ ہوتا ہے۔

ماہرین نے حاملہ خواتین کو مشورہ دیا ہے کہ اگر ڈاکٹر کی جانب سے تجویز دی جائے تو فیٹل ایکو کارڈیوگرافی ضرور کروائیں تاکہ بچے کے دل سے متعلق ممکنہ مسائل کی جلد تشخیص ہو سکے اور بروقت علاج کے ذریعے ایک محفوظ اور صحت مند زندگی کو یقینی بنایا جا سکے۔

اہم خبریں

فیچر اور تجزیے

اہم خبریں