اسلام آباد: ملک میں ایچ آئی وی اور ہیپاٹائٹس بی و سی کے تیزی سے بڑھتے کیسز کے پیش نظر وفاقی وزارتِ صحت نے ملک بھر کے تمام سرکاری و نجی اسپتالوں اور صحت مراکز میں ہر قسم کے طبی اور جراحی عمل سے قبل ایچ آئی وی، ہیپاٹائٹس بی اور ہیپاٹائٹس سی کی اسکریننگ لازمی قرار دینے کی ہدایات دے دی ہیں-
وفاقی وزارتِ قومی صحت، ریگولیشنز اینڈ کوآرڈینیشن نے منگل کو چاروں صوبوں، آزاد کشمیر، گلگت بلتستان، وفاقی اسپتالوں اور اسلام آباد ہیلتھ کیئر ریگولیٹری اتھارٹی کو ہنگامی مراسلے جاری کرتے ہوئے فوری طور پر انفیکشن کنٹرول اقدامات پر سختی سے عملدرآمد کی ہدایت کر دی۔
وزارتِ صحت کی جانب سے جاری احکامات کے مطابق ہر قسم کے اِنویسیو طبی یا جراحی عمل سے قبل مریضوں کا ایچ آئی وی ون اور ٹو اینٹی باڈی ٹیسٹ (ریپڈ یا ایلیسا)، ہیپاٹائٹس بی اسکریننگ (ایچ بی ایس اے جی) اور ہیپاٹائٹس سی اسکریننگ (اینٹی ایچ سی وی) لازمی طور پر کی جائے گی۔
وفاقی وزیر صحت سید مصطفیٰ کمال کی ہدایت پر جاری مراسلوں میں کہا گیا ہے کہ وزارتِ صحت نے ملک میں ایچ آئی وی اور ہیپاٹائٹس بی و سی کے پھیلاؤ کا “سنجیدہ نوٹس” لیا ہے اور تمام متعلقہ اداروں کو خون سے منتقل ہونے والی بیماریوں کے مزید پھیلاؤ کو روکنے کیلئے سخت احتیاطی اور حفاظتی اقدامات یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی ہے۔
یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پاکستان میں ایچ آئی وی کے کیسز میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق سال 2025 کے دوران ملک بھر میں ایچ آئی وی کے 14 ہزار 182 نئے کیسز رپورٹ ہوئے جبکہ 2026 کے پہلے چار ماہ میں ہی چار ہزار سے زائد نئے کیسز سامنے آ چکے ہیں۔
وزارتِ صحت کی جانب سے جاری مراسلے پنجاب، سندھ، خیبر پختونخوا، بلوچستان، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے چیف سیکریٹریز کو بھجوائے گئے ہیں، جن میں ہدایت کی گئی ہے کہ تمام سرکاری و نجی اسپتالوں اور صحت مراکز میں اسکریننگ پروٹوکول پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔
اس کے علاوہ پمز اسلام آباد، وفاقی سرکاری پولی کلینک اسپتال، شیخ زاید پوسٹ گریجویٹ میڈیکل انسٹیٹیوٹ لاہور، نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ری ہیبلیٹیشن میڈیسن، فیڈرل جنرل اسپتال اسلام آباد، ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر اسلام آباد اور فوجی جنرل ٹیچنگ اسپتال راولپنڈی سمیت دیگر وفاقی اداروں کو بھی الگ ہدایات جاری کی گئی ہیں۔
اسلام آباد ہیلتھ کیئر ریگولیٹری اتھارٹی کو بھی اپنے دائرہ اختیار میں آنے والے تمام طبی مراکز میں ان احکامات پر عملدرآمد یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی ہے۔
وزارتِ صحت کے مطابق جن افراد کے ٹیسٹ مثبت آئیں گے، انہیں کونسلنگ، رہنمائی اور علاج کی سہولیات فراہم کرنا بھی متعلقہ طبی اداروں کی ذمہ داری ہو گی۔
ماہرینِ صحت نے وفاقی وزارتِ صحت کے اس اقدام کو پاکستان میں خون سے منتقل ہونے والی بیماریوں کے بڑھتے بوجھ کے تناظر میں ایک اہم فیصلہ قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق غیر محفوظ انجیکشن، سرنجوں کا دوبارہ استعمال، انفیکشن کنٹرول کی ناقص صورتحال، غیر محفوظ خون کی منتقلی اور بعض علاقوں میں کمزور نگرانی کا نظام ایچ آئی وی اور ہیپاٹائٹس کے پھیلاؤ کی بڑی وجوہات ہیں۔
پاکستان پہلے ہی دنیا میں ہیپاٹائٹس سی کے زیادہ بوجھ والے ممالک میں شامل ہے جبکہ ایچ آئی وی کے کیسز میں گزشتہ کئی برسوں سے مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور سندھ، پنجاب سمیت مختلف علاقوں میں بچوں میں ایچ آئی وی کے متعدد پھیلاؤ سامنے آ چکے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ صرف لازمی اسکریننگ کافی نہیں ہو گی جب تک محفوظ انجیکشن پریکٹسز، مؤثر جراثیم کشی، طبی فضلے کی محفوظ تلفی اور نجی طبی مراکز کی سخت نگرانی کو یقینی نہ بنایا جائے۔