کیا گھریلو کبوتر بھی اینٹی بایوٹک کے خلاف مزاحم جراثیم پھیلا رہے ہیں؟

اسلام آباد: گھروں کی چھتوں، بالکونیوں اور گلی محلوں میں پالے جانے والے گھریلو کبوتر، جو اب تک زیادہ تر کھانسی، الرجی اور سانس کے مسائل کی وجہ سمجھے جاتے تھے، اب پاکستان میں اینٹی بایوٹک کے خلاف مزاحمت یعنی اینٹی مائیکروبیل ریزسٹنس کے ایک ممکنہ اور خاموش ذریعے کے طور پر سامنے آ رہے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ حالیہ تحقیقی مقالات سے معلوم ہوا ہے کہ کبوتروں کے جسم اور فضلے میں ایسے جراثیم موجود ہو سکتے ہیں جو عام استعمال ہونے والی کئی اینٹی بایوٹکس کے اثر سے باہر ہو چکے ہیں۔

تحقیقی مقالات کے مطابق گھریلو کبوتروں میں ای کولائی، سالمونیلا اور پسوڈوموناس جیسے جراثیم پائے گئے ہیں، جن میں سے کئی ایک سے زیادہ دواؤں کے خلاف مزاحمت رکھتے ہیں۔ سادہ الفاظ میں، اگر یہ جراثیم انسانوں میں منتقل ہو جائیں تو معمول کی دواؤں سے علاج مشکل ہو سکتا ہے اور بیماری زیادہ سنگین صورت اختیار کر سکتی ہے۔

طبی ماہرین پہلے ہی خبردار کر چکے ہیں کہ کبوتروں کا خشک فضلہ سانس کی نالی کو متاثر کرتا ہے، خاص طور پر بچوں، بزرگوں، دمے کے مریضوں اور کمزور مدافعتی نظام رکھنے والے افراد میں۔ خشک بیٹ باریک گرد میں بدل کر ہوا میں پھیلتی ہے، جس سے طویل کھانسی، سینے میں جلن اور بعض صورتوں میں بخار اور سانس کی بیماریوں کا خطرہ بڑھ جاتا ہے، خاص طور پر بند اور کم ہوادار جگہوں میں۔

ہیلتھ سروسز اکیڈمی کے پروفیسر ڈاکٹر احمد عبداللہ کے مطابق حالیہ تحقیقی مقالات نے کبوتروں اور انسانی صحت کے تعلق کو ایک نئے زاویے سے اجاگر کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ گھریلو کبوتر ایسے جراثیم اٹھائے پھرتے ہیں جو کئی اینٹی بایوٹکس کے خلاف مزاحم ہو چکے ہیں، اور اس کی ایک بڑی وجہ کبوتروں کو بلا ضرورت ادویات دینا ہے۔

ڈاکٹر احمد عبداللہ کے مطابق شوقیہ کبوتر پالنے والے اکثر صحت مند پرندوں کو بھی اینٹی بایوٹکس دیتے رہتے ہیں۔ مختلف دوائیں پانی میں گھول کر یا دانوں میں ملا کر روزانہ کبوتروں کو کھلائی جاتی ہیں تاکہ وہ تندرست، چاق و چوبند یا اڑان اور افزائش کے قابل رہیں۔ بعض افراد اینٹی بایوٹکس کے ساتھ سٹیرائیڈز اور دیگر ادویات بھی استعمال کرتے ہیں، جس سے جراثیم مسلسل دواؤں کے سامنے آ کر مزید طاقتور ہو جاتے ہیں اور وقت کے ساتھ علاج بے اثر ہونے لگتا ہے۔

ماہرین کے مطابق کبوتروں سے خطرہ اس لیے بھی بڑھ جاتا ہے کیونکہ یہ انسانوں کے بہت قریب رہتے ہیں۔ یہ چھتوں، پانی کی ٹینکیوں، کھڑکیوں اور رہائشی حصوں کے آس پاس بیٹھتے ہیں۔ لوگ آلودہ جگہوں کو بغیر حفاظتی اقدامات کے صاف کرتے ہیں، پھر ہاتھ منہ یا کھانے کو لگا لیتے ہیں، یوں جراثیم خاموشی سے انسانوں تک پہنچ سکتے ہیں۔

پروفیسر ڈاکٹر احمد عبداللہ کا کہنا ہے کہ یہ مسئلہ اس لیے بھی نظر انداز رہا کیونکہ گھریلو کبوتروں کی دیکھ بھال اور ادویات کے استعمال کے لیے کوئی باقاعدہ نظام موجود نہیں۔ پولٹری فارمز کے برعکس یہاں نہ ویٹرنری نگرانی ہوتی ہے اور نہ ہی اینٹی بایوٹکس کے استعمال پر کوئی واضح رہنمائی یا چیک اینڈ بیلنس۔

انہوں نے واضح کیا کہ مقصد کبوتر پالنے والوں کو مورد الزام ٹھہرانا نہیں۔ ان کے بقول زیادہ تر لوگ اپنے پرندوں سے محبت کرتے ہیں، مگر بغیر ضرورت اینٹی بایوٹکس کا استعمال انسانوں کے لیے بھی نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے کیونکہ ہر غیر ضروری خوراک ان قیمتی دواؤں کی افادیت کم کر دیتی ہے۔

ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ اس مسئلے کا حل آگاہی میں ہے۔ کبوتروں کو معمول کے طور پر اینٹی بایوٹکس دینے کی حوصلہ شکنی کی جائے، دوائیں صرف بیماری کی صورت میں استعمال ہوں، اور صفائی کے دوران ماسک اور دستانے پہننے جیسے سادہ اقدامات اپنائے جائیں۔ گھروں کے رہائشی حصوں سے گھونسلے دور رکھنا اور ادویات تک آسان رسائی محدود کرنا بھی خطرات کم کر سکتا ہے۔

ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ اینٹی مائیکروبیل ریزسٹنس خاموشی سے بڑھتی ہے اور جب اس کے اثرات واضح ہوتے ہیں تو علاج مشکل اور جانوں کو خطرہ لاحق ہو چکا ہوتا ہے۔ اگر گھریلو کبوتر بھی مزاحم جراثیم کے پھیلاؤ کا ایک ذریعہ بن رہے ہیں تو بہتر ہے کہ وقت رہتے اس پر توجہ دی جائے، اس سے پہلے کہ نقصان ناقابل تلافی ہو جائے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے