کراچی: قومی ادارہ برائے امراض قلب (این آئی سی وی ڈی) کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر طاہر صغیر کو فالج کا حملہ ہونے کے بعد کراچی کے نجی او ایم آئی اسپتال میں داخل کرادیا گیا ہے، جہاں ان کا علاج جاری ہے جبکہ ڈاکٹروں کے مطابق ان کے جسم کا بایاں حصہ متاثر ہوا ہے۔
اسپتال حکام کے مطابق ڈاکٹر طاہر صغیر کو ہفتے کی صبح تقریباً تین بجے کراچی کے علاقے صدر میں واقع او ایم آئی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں انہیں کمرہ نمبر 402 میں داخل کیا گیا ہے۔ اس سے قبل طبیعت اچانک خراب ہونے پر انہیں امام کلینک لے جایا گیا تھا، تاہم بلڈ پریشر قابو میں نہ آنے اور مزید طبی پیچیدگیوں کے باعث انہیں او ایم آئی اسپتال منتقل کرنا پڑا۔
ڈاکٹروں کے مطابق ڈاکٹر طاہر صغیر کو اسکیمک اسٹروک (Ischemic Stroke) ہوا ہے، جس میں دماغ کو خون فراہم کرنے والی شریان میں رکاوٹ پیدا ہونے کے باعث دماغ کے متاثرہ حصے کو خون اور آکسیجن کی فراہمی متاثر ہوجاتی ہے۔ ان کی موجودہ طبی حالت، جسم کے متاثرہ حصے کی بحالی اور علاج میں پیش رفت سے متعلق تفصیلات باضابطہ طور پر جاری نہیں کی گئیں۔
اسپتال حکام کے مطابق داخلے کے وقت ڈاکٹر طاہر صغیر کا نام مبینہ طور پر ’’طاہر صاحب‘‘ اور عمر 57 سال درج کرائی گئی۔ یہ دعویٰ بھی سامنے آیا ہے کہ ان کی شناخت اور بیماری کی تفصیلات کو عام ہونے سے روکنے کے لیے ایسا کیا گیا، تاہم اس کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوسکی۔
دوسری جانب این آئی سی وی ڈی کے سربراہ کو فالج کے علاج کے لیے نجی اسپتال منتقل کیے جانے کے بعد ادارے میں قائم اسٹروک پروگرام، اس کی کارکردگی اور پیچیدہ مریضوں کے علاج کے لیے متعلقہ ماہرین کی دستیابی کے حوالے سے بھی سوالات سامنے آئے ہیں۔
این آئی سی وی ڈی میں فالج کے مخصوص مریضوں کے لیے اسٹروک انٹروینشن پروگرام قائم ہے، جہاں موزوں مریضوں کو خون کے لوتھڑے تحلیل کرنے والی ٹی پی اے (TPA) ادویات سمیت دیگر طبی سہولتیں فراہم کی جاتی ہیں۔ پروگرام کی قیادت ڈاکٹر مہیش بترا کررہے ہیں، جو انٹروینشنل کارڈیالوجسٹ ہیں۔
اسپتال کے ڈاکٹروں کے مطابق اس پروگرام کے قیام اور ابتدائی سرگرمیوں میں اہم کردار ادا کرنے والے ڈاکٹر عرفان لطفی کچھ عرصہ قبل این آئی سی وی ڈی سے مستعفی ہوکر جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر منتقل ہوگئے تھے۔ ڈاکٹر عرفان لطفی فالج کے پیچیدہ مریضوں کے علاج، خصوصاً تھرومبیکٹومی (Thrombectomy) جیسے طریقہ علاج کا تجربہ رکھتے ہیں۔
تھرومبیکٹومی میں مخصوص آلات کی مدد سے دماغ کی بند شریان سے خون کا لوتھڑا نکالا جاتا ہے۔ یہ طریقہ علاج مخصوص مریضوں کے لیے استعمال ہوتا ہے اور اس کے لیے متعلقہ شعبے کے تربیت یافتہ ماہرین اور خصوصی طبی سہولتوں کی ضرورت ہوتی ہے۔
این آئی سی وی ڈی کے بعض ڈاکٹروں نے ڈاکٹر عرفان لطفی کی علیحدگی کے پس منظر میں انتظامی اختلافات اور ادارے کے اندر پیشہ ورانہ معاملات پر اختلاف رائے کا بھی ذکر کیا ہے، تاہم ان الزامات کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوسکی۔ ڈاکٹر مہیش بترا انٹروینشنل کارڈیالوجی کے ماہر ہیں، تاہم ان کی نیورو انٹروینشنل تربیت اور پیچیدہ اسٹروک کے علاج کے تجربے سے متعلق مکمل تفصیلات دستیاب نہیں ہیں۔
اس معاملے پر این آئی سی وی ڈی کی انتظامیہ نے باضابطہ وضاحت جاری کرتے ہوئے ڈاکٹر طاہر صغیر کے نجی اسپتال میں علاج سے متعلق خبروں کو حقائق کے منافی اور گمراہ کن قرار دیا ہے۔
این آئی سی وی ڈی کے ترجمان کے مطابق ادارہ بنیادی طور پر امراض قلب کا خصوصی مرکز ہے، فالج کے تمام مریضوں کے مکمل نیورولوجیکل علاج کا مرکز نہیں۔ ادارے میں فالج کے مخصوص مریضوں کے لیے جدید اسٹروک انٹروینشن کی سہولت دستیاب ہے، جہاں ابتدائی چار سے چھ گھنٹوں میں پہنچنے والے موزوں مریضوں کا طبی جانچ کے بعد علاج کیا جاتا ہے۔
ترجمان نے کہا کہ اسٹروک انٹروینشن اور فالج کے مریضوں کے مکمل نیورولوجیکل علاج میں واضح طبی فرق ہے۔ جن مریضوں کو اسٹروک انٹروینشن کی ضرورت نہ ہو یا جو اس کے لیے موزوں نہ ہوں، انہیں متعلقہ نیورولوجسٹ کے پاس بھیجا جاتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ کسی اسپتال میں سی ٹی اسکین اور ایم آر آئی کی سہولت موجود ہونے کا یہ مطلب نہیں کہ وہاں تمام اعصابی بیماریوں کا مکمل علاج بھی دستیاب ہو۔ پروفیسر طاہر صغیر کے نجی اسپتال میں علاج کو این آئی سی وی ڈی کی طبی سہولتوں پر عدم اعتماد قرار دینا غلط اور غیر منطقی ہے۔
ترجمان نے مزید کہا کہ کسی بھی مریض کے علاج کی جگہ کا تعین اس کی طبی ضروریات اور متعلقہ ماہر ڈاکٹر کی دستیابی کے مطابق کیا جاتا ہے۔ انہوں نے میڈیا سے اپیل کی کہ طبی معاملات پر غیر مصدقہ معلومات پھیلانے اور کسی معالج کے علاج کو غیر ضروری طور پر متنازع بنانے سے گریز کیا جائے۔
طبی ماہرین کے مطابق اسکیمک اسٹروک کے مریضوں میں فوری تشخیص اور بروقت علاج انتہائی اہم ہوتا ہے، تاہم ہر مریض کو تھرومبولائسز یا تھرومبیکٹومی کی ضرورت نہیں ہوتی۔ علاج کا فیصلہ فالج کی نوعیت، علامات شروع ہونے کے وقت، دماغی اسکین اور مریض کی مجموعی طبی حالت کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا جاتا ہے۔