اسلام آباد: امریکی سائنسدانوں نے ایچ آئی وی کے علاج میں استعمال ہونے والی دو طویل اثر رکھنے والی ادویات کے امتزاج سے 46 مریضوں میں وائرس کو کامیابی سے قابو میں رکھنے کا دعویٰ کیا ہے، جن میں ایسے مریض بھی شامل تھے جن کا وائرس بعض روایتی ادویات کے خلاف مزاحمت پیدا کر چکا تھا یا جو روزانہ دوائیں باقاعدگی سے استعمال نہیں کر پا رہے تھے۔
امریکہ کی یونیورسٹی آف کیلیفورنیا سان فرانسسکو (UCSF) میں ہونے والی تحقیق کے مطابق لیناکیپاویر (Lenacapavir) اور کیبوٹیگراویر (Cabotegravir) کے امتزاج سے ان مریضوں میں بھی وائرس قابو میں آگیا جن کے خون میں علاج شروع کرتے وقت وائرس کی مقدار زیادہ تھی، جبکہ تقریباً دو سال کی درمیانی مدت کی نگرانی کے دوران تمام 46 مریضوں میں وائرس قابو میں رہا۔
یہ تحقیق 8 اکتوبر 2026 کو معروف امریکی طبی جریدے JAMA Network Open میں شائع ہوئی، جسے ماہرین ایچ آئی وی کے ایسے مریضوں کے لیے ایک اہم پیش رفت قرار دے رہے ہیں جنہیں ادویات کے خلاف مزاحمت، علاج میں تسلسل برقرار رکھنے یا روزانہ گولیاں استعمال کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔
تحقیق کے مطابق سان فرانسسکو کے وارڈ 86 ایچ آئی وی کلینک میں مارچ 2023 سے مئی 2025 کے دوران 46 مریضوں کو یہ علاج دیا گیا، جبکہ ان کے طبی نتائج کا جائزہ نومبر 2025 تک لیا گیا۔ ان مریضوں کی اوسط عمر 47 سال تھی اور ان میں مرد، خواتین اور مختلف صنفی شناخت رکھنے والے افراد شامل تھے۔
تحقیق میں شامل 46 مریضوں میں سے 24 کے خون میں علاج شروع کرتے وقت ایچ آئی وی کی مقدار 200 کاپیز فی ملی لیٹر یا اس سے زیادہ تھی، جبکہ 22 مریضوں میں وائرس پہلے ہی قابو میں تھا۔ نئی ادویات کا امتزاج شروع کرنے کے بعد پہلے گروپ کے تمام مریضوں میں 13 ہفتوں کے اندر وائرس کی مقدار 200 کاپیز فی ملی لیٹر سے نیچے آگئی، جبکہ پہلے سے کنٹرول شدہ مریضوں میں بھی وائرس قابو میں رہا۔
محققین کے مطابق مریضوں کی نگرانی کی درمیانی مدت 100 ہفتے رہی، جو تقریباً ایک سال اور گیارہ ماہ بنتی ہے۔ اس دوران کسی مریض میں مسلسل دو مرتبہ وائرس کی مقدار 200 کاپیز فی ملی لیٹر سے زیادہ ریکارڈ نہیں ہوئی۔
تحقیق کی ایک اہم بات یہ تھی کہ 33 مریضوں، یعنی تقریباً 72 فیصد، میں ایچ آئی وی کی ادویات کے ایک مخصوص گروپ کے خلاف مزاحمت موجود تھی۔ ان میں سے چار مریضوں میں انٹیگریز انہیبیٹرز کے خلاف بھی مزاحمت پائی گئی تھی۔
محققین کا کہنا ہے کہ ادویات کے خلاف مزاحمت پیدا ہونے کی صورت میں علاج کے دستیاب انتخاب محدود ہو سکتے ہیں، جبکہ نئی تحقیق سے ایسے مریضوں کے لیے طویل اثر رکھنے والی ادویات کے استعمال کے مزید امکانات سامنے آئے ہیں۔
لیناکیپاویر ایک نسبتاً نئی دوا ہے جو ایچ آئی وی کے وائرس کے حفاظتی خول، جسے کیپسڈ کہا جاتا ہے، کو نشانہ بناتی ہے اور وائرس کی افزائش کے مختلف مراحل میں مداخلت کرتی ہے۔ یہ دوا چھ ماہ کے وقفے سے انجیکشن کی صورت میں دی جا سکتی ہے۔
دوسری دوا کیبوٹیگراویر وائرس کو انسانی خلیوں کے جینیاتی نظام میں اپنا مواد شامل کرنے سے روکتی ہے۔ اسے طویل اثر رکھنے والے انجیکشن کی صورت میں استعمال کیا جاتا ہے، تاہم دونوں ادویات کا مشترکہ استعمال ابھی ایچ آئی وی کے باقاعدہ منظور شدہ علاج میں شامل نہیں۔
تحقیق کی سینئر مصنفہ ڈاکٹر مونیکا گاندھی کے مطابق ان دونوں ادویات کے امتزاج پر یہ اب تک کی سب سے بڑی کیس سیریز ہے اور اس کے نتائج معالجین کو اس طریقہ علاج کے بارے میں زیادہ اعتماد فراہم کر سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ تحقیق خاص طور پر ان مریضوں کے لیے اہم ہے جنہیں روزانہ ادویات استعمال کرنے میں مشکلات کا سامنا ہوتا ہے یا جن کے لیے بعض موجودہ ادویات وائرس کی مزاحمت کے باعث مؤثر نہیں رہتیں۔
تحقیق میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ 19 مریضوں کو رہائش کے غیر مستحکم حالات کا سامنا تھا، جبکہ بعض مریض منشیات کے استعمال سمیت دیگر سماجی اور طبی مسائل سے دوچار تھے۔ محققین کے مطابق ایسے حالات روزانہ ادویات کے استعمال اور علاج کے تسلسل کو متاثر کر سکتے ہیں۔
تاہم تحقیق میں انجیکشن لگنے کی جگہ پر ردعمل اور گلٹیوں کی شکایات بھی سامنے آئیں۔ 27 مریضوں میں انجیکشن کی جگہ پر ردعمل ریکارڈ ہوا، جبکہ 18 میں گلٹیاں بننے کی اطلاع ملی۔
محققین نے واضح کیا کہ یہ ایک محدود، ایک ہی مرکز میں کی گئی مشاہداتی تحقیق تھی، جس میں مریضوں کی تعداد صرف 46 تھی اور نئی ادویات کا براہ راست موازنہ روایتی علاج سے نہیں کیا گیا۔ اس لیے بڑے پیمانے پر کلینیکل ٹرائلز کے بغیر اس طریقہ علاج کی مجموعی افادیت اور حفاظت کے بارے میں حتمی نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا۔
پاکستان کے لیے اس تحقیق کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ جاتی ہے کہ ملک میں ایچ آئی وی کے مریضوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، جبکہ متاثرہ افراد کی ایک بڑی تعداد تشخیص اور علاج کے نظام سے باہر ہے۔
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قومی صحت کو مئی 2026 میں فراہم کردہ سرکاری اعدادوشمار کے مطابق پاکستان میں تقریباً تین لاکھ 69 ہزار افراد ایچ آئی وی کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں، لیکن صرف 84 ہزار مریض رجسٹرڈ ہیں۔ سال 2025 کے دوران ملک میں ایچ آئی وی کے 14 ہزار نئے کیس رپورٹ ہوئے۔
کمیٹی کو بتایا گیا تھا کہ رجسٹرڈ مریضوں میں سے تقریباً 20 ہزار ایسے افراد بھی ہیں جنہوں نے اینٹی ریٹرووائرل تھراپی شروع کی تھی، لیکن بعد میں علاج اور فالو اپ کے نظام سے رابطہ منقطع ہوگیا۔
پاکستان میں ایچ آئی وی کے مریضوں کے علاج کے لیے سرکاری مراکز پر اینٹی ریٹرووائرل ادویات مفت فراہم کی جاتی ہیں، تاہم تشخیص میں تاخیر، سماجی بدنامی، علاج کے لیے طویل سفر، ادویات کے باقاعدہ استعمال میں مشکلات اور مریضوں کی نگرانی میں کمزوریاں علاج کی کامیابی میں رکاوٹ بن سکتی ہیں۔
اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام (UNDP) کے مطابق پاکستان میں ایچ آئی وی کے علاج اور روک تھام کے قومی پروگرام کے تحت ادویات اور تشخیصی سہولتوں کی فراہمی کے لیے گلوبل فنڈ کی معاونت بھی حاصل ہے۔
عالمی ادارہ صحت اور اقوام متحدہ کے ایچ آئی وی پروگرام کے مطابق اینٹی ریٹرووائرل علاج کے ذریعے وائرس کو اس حد تک دبایا جا سکتا ہے کہ مریض طویل اور صحت مند زندگی گزار سکے۔ تاہم وائرس کی مقدار ناقابل شناخت ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ ایچ آئی وی جسم سے مکمل طور پر ختم ہو گیا ہے۔
نئی تحقیق کے نتائج پاکستان جیسے ممالک میں ان مریضوں کے علاج کے لیے اہم ثابت ہو سکتے ہیں جو روزانہ ادویات باقاعدگی سے استعمال نہیں کر پاتے، لیکن اس کے لیے ادویات کی قیمت، دستیابی، مقامی رجسٹریشن، وائرس کی مزاحمت کی جانچ اور انجیکشن لگانے کے لیے تربیت یافتہ طبی عملے کی ضرورت ہوگی۔
محققین کے مطابق اس امتزاج کے بارے میں مزید شواہد حاصل کرنے کے لیے دو کلینیکل ٹرائلز کی منصوبہ بندی کی گئی ہے، جن کے نتائج سے یہ واضح کرنے میں مدد ملے گی کہ آیا مستقبل میں اسے ایچ آئی وی کے معمول کے علاج میں شامل کیا جا سکتا ہے۔